تازہ ترینخبریںدنیا

برطانوی حکومت کا غیر ملکی ملازمین سے متعلق اہم فیصلہ

برطانوی حکومت نے اہم صنعتوں کے لیے افرادی قوت کی کمی کے مسئلے پر قابو پانے کیلیے غیر ملکی کارکنوں کیلئے ویزا پروگرام نرم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق برطانوی حکومت کی جانب سے ویزا سسٹم میں نمایاں تبدیلیاں لائے جانے کا امکان ہے تاکہ اہم صنعتوں کے لیے افرادی قوت کی کمی کے مسئلے پر قابو پایا جاسکے، اس سلسلے میں وزیراعظم لز ٹرس کی جانب سے غیرملکی ورکرز کے لیے ویزوں کے حصول کو آسان بنایا جائے گا تاکہ اہم صنعتوں کو افرادی قوت مہیا کی جاسکے

رپورٹ کے مطابق حکومت برطانیہ نے یہ فیصلہ ملک میں کساد بازاری کے انتباہ کے بعد کیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ برطانوی وزیراعظم کی جانب سے کچھ شعبوں کے لیے انگلش بولنے کی شرط کو بھی نرم کیا جائے گا تاکہ برطانیہ میں زیادہ غیرملکی ورکرز آسکیں جب کہ نئے پروگرام کے تحت یورپی یونین سے باہر کے ممالک سے تعلق رکھنے والے غیرملکی افراد کے لیے برطانیہ میں داخلہ آسان بنایا جائے گا، جس کے لیے ویزا فیس کوبھی کم کیا جائے گا

ویزا پالیسی میں نرمی کی صورت میں طویل المعیاد بنیادوں پر غیرملکی ورکرز کو 5 سال کے بعد برطانیہ میں قیام کے لیے 35 ہزار 800 پاؤنڈز کی تنخواہ کی شرط کو بھی پورا نہیں کرنا ہوگا، اسکے ساتھ ہی نئے پروگرام کے تحت زراعت کے لیے بھی غیر ملکی ورکرز پر عائد پابندی کو ختم کیا جائے گا۔

تاہم رپورٹ میں یہ بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ برطانوی وزیراعظم کو ویزا پالیسیوں میں نئی تبدیلیوں پر اپنی کابینہ کے کچھ اراکین کی جانب سے مخالفت کا سامنا ہوسکتا ہے کیونکہ غیرملکی افراد کے خلاف جذبات کے باعث ہی برطانیہ نے 2016میں یورپی یونین سے انخلا کا فیصلہ کیا تھا

اس حوالے سے برطانوی چیمبرز آف کامرس نے حال ہی میں ایک سروے کیا تھا جس میں 5700 افراد نے بتایا تھا کہ 60 فیصد سے زائد کمپنیوں کو مزید افرادی قوت کی ضرورت ہے تاہم تین چوتھائی کو بھرتیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔

واضح رہے کہ برطانوی حکومت پر صنعتوں کی جانب سے غیر ملکی ورکرز کے لیے ویزا سسٹم میں نرمی کے لیے دباؤ ڈالا جارہا تھا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button