ColumnQaisar Abbas

اسلام آباد میں ڈیرہ بگٹی .. قیصر عباس صابر

قیصر عباس صابر

اسلام آباد میں آج کل ڈیرہ بگٹی آباد ہے جہاں مستقل نظر انداز کر دئیے گئے بلوچستان کے لوگ کچھ مطمئن سے نظر آتے ہیں ۔ لچھے دار شلواروں اور پرشکن جبینوں والے یہ لوگ کوہسار بلاک کی پارکنگ میں ، سیکرٹریٹ کی راہداریوں میں اور کبھی انسداد منشیات کی وزارت میں اپنے چہروں پر وطن سے محبت کی سند نقش کئے دیکھے جاتے ہیں ۔ وفاق کا تقاضا بھی تو یہی ہے کہ ملک کی ہر اکائی مرکز کو اپنا سمجھ سکے۔ نواب اکبر خان بگٹی کے پوتے نواب زادہ شاہ زین بگٹی اپنے آبائی حلقہ این اے 259 سے منتخب ہو کر وفاقی وزیر بنے تو مایوس عوام بھی اطمینان کا سانس لینے لگے ۔
وزارت انسداد منشیات کے دفاتر میں جمہوری وطن پارٹی پاکستان کے رہنمامدنی بلوچ پولیٹیکل سیکرٹری تعینات ہیں اور سیکڑوں میل دور سے آئے مہمانوں کو اجنبیت کے احساس سے دور رکھتے ہیں۔ ایک جمہوری دفتر میں غیر جمہوری دماغوں کی حوصلہ شکنی کی جائے تو سیاست دانوں کے خلاف مردم بیزاری کی بن چکی ہوا کا خاتمہ ہو۔ ہم نے نواب زادہ شاہ زین بگٹی کے دفتر میں لوگوں کے مسائل کو حل ہوتے دیکھا ۔ مدنی بلوچ کا عوامی رویہ ہماری تھکن بھی اُتار گیا ۔
نواب زادہ شاہ زین بگٹی وزیر اور جاگیر دار سے بہت ہٹ کر ایسے ملنگ اور درویش تھے جو عجز اور انکساری کا توازن برقرار رکھ کر اپنی وزارت سے اور کچھ دوسری وزارتوں سے لوگوں کے رکے ہوئے کام کروانے کیلئے کوشاں تھے۔ ان کے پاس سرکاری دبدبہ نہ ہونے کے برابر تھا اور جو تھا وہ بھی ان کے باوردی سٹاف کی سخت گیر پالیسی کے سبب تھا۔ پہلے کبھی بلوچستان کے لوگوں کو یوں شہر اقتدار میں بے خوف گھومتے نہیں دیکھا گیا تھا ۔ دیکھنے کو تو نواب زادہ شاہ زین اسلام آباد میں بیٹھتے ہیں مگر دراصل وہ کوہسار بلاک میں ایک ایسا ڈیرہ بگٹی سجاتے ہیں جہاں آنے والے سائل اپنا اعتماد بھی بحال رکھتے ہیں اور وفاق بھی انہیں اچھا لگتا ہے ۔
ہم نے بلوچستان سے آئے ہوئے لوگوں سے بات کی تو اس نتیجہ پر پہنچے کہ اب سے پہلے بھی بلوچستان سے وزیر بنے مگر یوں سادگی اور سب کیلئے وزارت کے دروازے کھلے رکھنا صرف شاہ زین بگٹی کو راس آیا ۔ تحمل اور بردباری سے مسئلہ سن کر اس کا حل نکالتے ہیں۔
رات دس بجے تک ہم نے دیکھا کہ متعلقہ وزارت کے حوالے سے فائلز اٹھائے ہوئے جو لوگ وہاں موجود تھے وہ چاروں صوبوں سے تعلق رکھتے تھے مگر وہاں سے مطمئن واپس لوٹ رہے تھے ۔ اگر تمام صوبوں کو وفاق تک آسان رسائی دی جائے تو صوبائی تعصب کا خاتمہ ممکن ہو سکتا ہے۔
وفاقی وزیر نواب زادہ شاہ زین بگٹی شاید جانتے تھے کہ ڈیرہ بگٹی سے آنے والے لوگ شوق سے نہیں مجبوری سے مشکلات جھیلتے ہوئے پہنچے ہیں اس لیے ان کا کام ترجیحی بنیادوں پر کرتے ہوئے محرومی کے زخموں پر مرحم رکھنا ہے۔ اے این ایف کی مشکل پالیسیوں کو زیر کرنا آسان نہ تھا مگر پھر بھی وہ آسانیاں تقسیم کئے جاتے تھے۔ وزارت سے نکلنے والے کسی بھی شخص کو ہم نے شکوہ کرتے نہیں دیکھا۔ کام ہونے سے پہلے ہی وہ مطمئن ہو کر واپس جا رہے تھے ۔ایسا اطمینان صرف ایک فقیر کے تکیہ سے مل سکتا تھا مگر یہ تو وزارت انسداد منشیات کا دفتر تھا جہاں عجز کی دولت سے مالا مال فقیر بیٹھا تھا ۔
دن کا آخری نصف شاہ زین بگٹی کے دفتر میں گزار کر جب ہم وہاں سے نکلے تو رات کا سرمئی آنچل پہاڑوں سے اتر کر ایوان صدر کو اپنے حصار میں لے چکا تھا ۔ تنویر علی دانش کے چہرے پر سکون تھا مگر شاہرائے دستور ویران تھی ۔ وزیر اعظم ہاؤس سے نکلنے والی گاڑیوں کا دھواں دھند میں بدلتا جا رہا تھا ، اس سے پہلے کہ کچھ دیکھنے کے قابل نہ رہتے ، ہم جناح ایونیو کی طرف مڑ گئے ۔
بلوچستان سے آئے ہوئے لوگوں کے ساتھ وقت گزار کر محرومی کا مفہوم توسمجھ میں آ گیا تھا مگر ان کی اپنی مٹی شاہ زین بگٹی کی شکل میں ڈھل کر تعصب اور نفرت کے بت کو مسمار کر رہی تھی ۔ نواب زادہ شاہ زین بگٹی وطن کی تمام جزئیات کو محرومیوں سے نکال کر کل میں بدلنے میں اپنا کردار ادا کر رہے تھے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button