ColumnM Anwar Griwal

مارا جانا مکھی پر مکھی کا! .. محمد انور گریوال

محمد انور گریوال

نہ جانے کس سیانے، نے یہ محاورہ ایجاد کیا، کتنے تجربوں کا نچوڑ تھا، جو انہوںنے بیان کیا، اور پھر دیگر وارثانِ اردو اور واقفان ِ ادب نے اِ س محاورے کی تشریح کیلئے مثالیں تلاش کر لیں۔ مکھی عجیب بَلا ہے ، چھوٹی سی جان ہے، مگر اشرف المخلوقات کی ناک میں دم کر دیتی ہے۔ اِدھر سے اُڑائو اُدھر سے آدھمکتی ہے۔ سُنا ہے اس کی قوتِ بصارت بہت زیادہ ہے، اپنے مطلوبہ ٹارگٹ کو نشانے پر رکھتی ہے۔ بیٹھنے کیلئے اُسے کوئی مخصوص جگہ درکار نہیں ہوتی، جہاں مناسب جانا بیٹھ گئی، اور گِرد وپیش کا جائزہ لینے لگی۔ ناک پر بیٹھتی ہے، کبھی رخسار پر، کبھی کان پر بیٹھ گئی تو کبھی ہاتھ پر۔ جب انسان زِچ آتا ہے، تو ہاتھ کو تیزی سے جنبش دیتا ہے، گویا تھپڑ کے ذریعے مکھی کو کمرہ بدر کردے گا، اِس طرح کی حرکت سے یہ بھی ہوتا ہے کہ بعض اوقات انسان اپنے ہی کان پر تھپڑ رسید کر بیٹھتا ہے اور کبھی اپنے گال پر، ناک بھی محفوظ نہیں رہتی۔ مکھی کو اُڑانا بھی بہت مشکل کام ہے، کیونکہ یہ مسلسل کرنا پڑتا ہے، کوئی بھی بے مقصد اور فضول کام اگر تواتر سے کرنا پڑ جائے تو انسان کو چِڑ چِڑا کے رکھ دیتا ہے، تب معلوم ہوتا ہے کہ کائنات کو مسخر کرنے والا اور ستاروں پر کمندیں ڈالنے والا انسان کس قدر بے بس اور بے چارہ ہے۔
مکھّی کی چالاکی ، تیزی اور پھُرتی کے سامنے انسان کی ایک نہیں چلتی۔ مکھی نے اپنے وجود کو اس طرح منوایا کہ کئی محاورے میں ظہور پذیر ہوگئے۔ جو کوئی نوجوان وغیرہ بے روز گار ہے، یا اسے کوئی کام وغیرہ نہیں ملا، تو کہا جاتا ہے کہ ’’فلاں فارغ بیٹھا مکھیاں مارتا ہے‘‘۔ حالانکہ اگر کوئی مکھیاں مارنے کی مہارت حاصل کر لے تو اسی مہارت کو آمدنی کا ذریعہ بنا سکتا ہے۔ سست الوجود افراد یہ کارِ خیر انجام دے ہی نہیں سکتے، کیونکہ مکھی کو اڑانے کیلئے تیزی دکھانی پڑتی ہے۔ مکھیوں سے تنگ افراد کی سہولت کیلئے مکھیوں کو مارنے کیلئے بازار میں کئی سہولتیں موجود ہیں، مثلاً کچھ ادویات میسر ہیں کہ جن کے چھڑکنے سے مکھیاں اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں، اول تو یہ دوائی مہنگی ہوتی ہے ، دوسرا یہ کہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ کار آمد کم ہی ہوتی ہے۔ اگر انسان زیادہ آرام پسند نہ ہو تو ایک عدد ’’سٹک‘‘ بھی بازار میں دستیاب ہے، یہ فرائی انڈہ بنانے والے چمچ کی شکل کی ہوتی ہے، تاہم سٹیل کی بجائے پلاسٹک وغیرہ کی بنی ہوتی ہے۔ اس کے استعمال میں بھی بہت احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے، اگر زیادہ غصے میں حملہ کیا گیا اور مکھی ہتھیار کی زد میں بھی آگئی، تو جہاں لگے گی، وہی چِپک جائے گی۔ بھئی جہاں مکھی ہوگی ، کراہت کی باتیں تو ہوں گی۔
یہ بھی غلط فہمی ہی ہے کہ مکھی ہمیشہ گندی جگہ پر بیٹھتی ہے، اصل وجہ یہ ہے کہ یار لوگوں نے خود مکھی کو ایک گندی اور مکروہ مخلوق کے طور پر ہی دیکھا ہے، ورنہ یہ صاف ستھری جگہ یا برتنوں وغیرہ پر بھی بیٹھ جاتی ہے۔ ہمارے ایک دوست گزشتہ دنوں سندھ گئے، وہاں ایک مزار کے باہر کچھ میٹھی چیزیں (کہ زائرین تبرک کے طور پر خریدتے ہیں) مکھیوں سے اَٹی پڑی تھیں، موصوف نے یہ منظر کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کرنے کیلئے کسی دوست کو موبائل تھمایا اور خود وہ ’مکھانے‘ ہاتھ میں اٹھا کر تصویر بنائی، مکھیاں اس قدر پُر عزم تھیں کہ’ چھابے ‘سے ہاتھ کے سفر تک انہوں نے مکھانوں کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ حتیٰ کہ جب بھائی صاحب نے کوشش کرکے انہیں مکھانے کی نقاب کشائی کیلئے زبردستی اڑایا تو بھی باریک باریک سیاہ رنگ کے بے شمار نُکتے مکھانوں پر موجود پائے
گئے۔ دراصل مکھیاں یہاں مستقل قیام پذیر تھیں، حتیٰ کہ رفع حاجت کیلئے بھی اِدھر اُدھر جانے کا تکلف نہیں کرتی تھیں، یہ باریک سیاہ نکتے انہی کی یادگاریں تھیں۔ ہمارے دوست واپس آنے کے بعد کسی الرجی کے شکار ہو گئے، خدشہ پیدا ہوا کہ کرونا نے نہ گھیر لیا ہو۔ بعد میں جب تجزیہ کرنے بیٹھے، کہ سندھ کے تین دن کے سفر کے دوران کیا نیا کام ہوا، تو انہیں دربار کے باہر کی مکھیاں ہی یاد رہ سکیں، انہوں نے اپنی بیماری کی تمام تر ذمہ داری مکھیوں پر ڈال کر کرونا سے راہِ فرار یا نجات حاصل کر لی۔
بعض لوگوں نے مچھر کو ڈاکٹر اور مکھی کو نرس قرار دے رکھا ہے، ہمارا خیال ہے کہ یہ تجزیہ درست نہیں، کیونکہ ٹیکہ وغیرہ لگانا تو نرس کا کام ہوتا ہے۔ یہاں مکھی صرف تنگ کرتی ہے ، یہ الگ بات ہے کہ مکھی کو بیماریوں کا موجب قرار دیا جاتا ہے۔ جبکہ مچھر کا طریقہ واردات مختلف اور تکلیف دہ ہے۔ شکر ہے، یہ مکھی کاٹتی نہیں ، اگر یہ شہد کی مکھی کی طرح یا بِھڑ کی مانند یا مچھر کی صورت کاٹنے والی ہوتی تو انسان کس قدر مشکل میں ہوتا۔ کالم کا عنوان مکھی پر مکھی کے مارے جانے کے بارے میں تھا۔ مگر بات سے بات نکلتی گئی ۔ دراصل خود ہم مکھی کو مارنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، چہ جائیکہ مکھی کے اوپر مکھی ماری جائے۔ مکھی اُس برائی کی مانند ہے جس کے خلاف انسان ہمیشہ شمشیر زن رہتا ہے، اور اس کے اکثر وار خطا جاتے ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر مکھی اپنی کارروائیوں سے باز نہیں آتی تو انسان بھی جوابی حملوں سے دستبردار نہیں ہو سکتا۔ قارئین سے معذرت کہ مکھی پر مکھی مارنے کی بات ادھوری رہ گئی، دِل چھوٹا کرنے کی قطعاً ضرورت نہیں، بہ شرط زندگی اگلے سوموار اِس موضوع پر بھی قلم گِھسائی کریں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button