Editorial

شہبازشریف کا اقوام متحدہ سے مدلل خطاب

 

وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 77ویں اجلاس میں پاکستان کا مقدمہ بھرپور انداز میں پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کو پاکستان کے حالات بتانے آیا ہوں، پاکستان کا ایک تہائی حصہ زیر آب ہے، قدرتی آفت کی وجہ سے بے گھر ہونے والے افراد خیمہ لگانے کے لیے خشک جگہ کی تلاش میں ہیں، کوئی الفاظ صدمے کا اظہار نہیں کرسکتے جس سے ہم دوچار ہیں۔ عالمی برادری مدد کرے۔وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے لاحق خطرات۔ مسئلہ کشمیر پر بھارت کو بات چیت کی پیش کش۔ پرامن افغانستان دیکھنے کا خواب اور اسلاموفوبیا کے عالمی رحجان پر مفصل روشنی ڈالی اور ان کی گفتگو کا محور عالمی برادری کو موسمیاتی آفات سے تباہ کاریوںسے اقوام عالم کو آگاہی فراہم کرنا تھا جس میں وہ مکمل طور پر کامیاب نظر آئے کیونکہ انہوں نے ملک کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی صورت حال اور متاثرین کے مصائب کی حقیقت کے عین مطابق منظر کشی کرتے ہوئے کہا کہ میرا دل اور دماغ وطن کی یاد چھوڑنے کو تیار نہیں ہے، میں اب بھی یہی محسوس ہورہا ہے کہ میں سیلاب سے متاثرہ سندھ یا پنجاب، کسی علاقے کا دورہ کررہا ہوں، کوئی الفاظ صدمے کا اظہار نہیں کرسکتے جس سے ہم دوچار ہیں۔ موسمیاتی آفات سے پاکستان کا ایک تہائی حصہ زیر آب ہے، 40 دن اور 40 رات شدید سیلاب نے صدیوں کے موسمیاتی ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔سیلاب کی وجہ سے بے گھر ہونے والے افراد خیمہ لگانے کے لیے خشک جگہ کی تلاش میں ہیں اور متاثرین اور ان کے اہل خانہ کو دل دکھا دینے والے نقصانات ہوئے ہیں، ان کا روزگار آنے والے لمبے عرصے کےلیے چھن گیا۔ وزیراعظم پاکستان نے موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے بچوں اور خواتین سمیت تین کروڑ تیس لاکھ افراد کو صحت کے لاحق خطرات پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ چھ لاکھ پچاس ہزار حاملہ خواتین خواتین خیموں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ انہوںنے غذائی قلت، انفراسٹرکچر کی تباہی، مویشیوں کی ہلاکت، فصلوں کی تباہی کی بھی حقیقت کے مطابق منظرکشی کی اورحالیہ سیلاب کوگلوبل وارمنگ کی تاریخ کا تاریک اور تباہ کن نتیجہ قرار دیا اور بلاشبہ حالیہ تباہی کی وجہ سے پاکستان میں زندگی ہمیشہ کے لیے تبدیل ہو چکی ہے اور الفاظ صدمے کا اظہار نہیں کرسکتے جس تکلیف سے ہم پاکستانی دوچار ہیں۔اِس میں قطعی دو رائے نہیں کہ آج پاکستان کے عوام پوچھنے پر مجبور ہیں کہ یہ تباہی کیوں ہوئی اور ہمارا قصور کیا تھا اور ہمیں ناکردہ غلطیوں کا خمیازہ کیوں بھگتنا پڑا۔ اگرچہ دوست ممالک کی جانب سے موجودہ صورت حال سے نبٹنے کے لیے امداد کی فراہمی جاری ہے لیکن جس قدر تباہی سے ہم دوچار ہیں اورمستقبل قریب میں گلوبل وارمنگ کی وجہ سے جن سنگین چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا اِس کے لیے عالمی برادری کو فوری اور بروقت اقدامات اٹھانا پڑیں گے اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس جو پاکستان میں سیلاب کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کے مناظر اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں، اُن کا یہ کہنا کہ’’پاکستان ڈوب گیا، دنیا اب تک حرکت میں نہیں آئی۔ میں نے حال ہی میں اپنی آنکھوں سے پاکستان دیکھا۔ پاکستان کا ایک تہائی حصہ مون سون کی وجہ سے سیلاب میں ڈوبا ہوا ہے۔ شاید دنیا خطرات سے نمٹنا نہیں چاہتی‘‘،درحقیقت عالمی برادری کو آئینہ دکھانے کی کوشش ہے کیونکہ جتنی کاربن کا اخراج کیا جارہا ہے، پاکستان کا اس میں ایک فیصد حصہ بھی نہیں مگر ہم اِس کے نتیجے میں ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں کی زد میں آکر تباہی سے دوچار ہیں اور بلاشبہ معاشی بحران سے دوچار پاکستان کے پاس فنڈز اور ضروریات کے درمیان فرق بڑھتا جا رہا ہے، متاثرہ علاقوں میں انفراسٹرکچر کی بحالی، متاثرین کی آباد کاری، روزگار کے مواقعے فراہم کرنا موجودہ معاشی صورت حال میں ترقی پذیر پاکستان کے لیے قطعی ممکن نہیں بلکہ ماہرین خدشہ ظاہر کررہے ہیں کہ متاثرین کی بحالی کے لیے سالہاسال لگ سکتے ہیں۔
وزیراعظم پاکستان محمد شہبازشریف نے اپنے خطاب کے دوران مقبوضہ کشمیر کی صورت حال اور بھارت کے غیر آئینی و غیر قانونی اقدامات پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں ماورائے عدالت قتل کیے جا رہے ہیں، مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، اس لیے دنیا سے موسمیاتی انصاف کی امید لگانا غلط نہ ہو گا، بھارت سمیت تمام ہمسایہ ممالک سے پر امن تعلقات چاہتے ہیں، خطے میں مستحکم امن کے لیے مسئلہ کشمیر کا حل ضروری ہے، مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے غیر قانونی یکطرفہ اقدامات سے امن عمل متاثر ہوا، نئی دہلی نے مقبوضہ کشمیر میں پانچ اگست کے غیر قانونی اقدام اٹھایا، بھارت کو سمجھنا ہو گا جنگ آپشن نہیں اور وزیراعظم نے بجا فرمایا کہ 20 ویں صدی کےمعاملات سےتوجہ ہٹا کر 21 ویں صدی کےمسائل پرتوجہ دینےکی ضرورت ہے ورنہ جنگیں لڑنے کے لیے زمین ہی باقی نہیں بچے گی۔ وزیراعظم نے ایک بار پھر پاکستان کا مستقل موقف دھراتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق رائےدہی یقینی بنانےتک مسئلہ کشمیرحل نہیں ہوگا، ہم پڑوسی ہیں ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم امن کے ساتھ رہیں یا جنگ کر کے، جنگ کوئی آپشن نہیں، صرف پر امن مذاکرات ہی حل ہے ہم بھارت کے ساتھ امن چاہتے ہیں لیکن یہ مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر ممکن نہیں۔ مسئلہ کشمیر کے معاملے پر وزیراعظم پاکستان نے اُسی پلیٹ فارم پر کشمیریوں کے حق میں آواز بلند کی جس پلیٹ فارم سے کشمیریوں کے حق میں قرارداد منظور کرتے ہوئے بھارت سے کہاگیا تھا کہ وہ کشمیریوں کو حق خود ارادیت دے ، جو کشمیریوں کا پیدائشی حق ہے لیکن افسوس کہ آج تک بھارت پر اقوام متحدہ کے اِس پلیٹ فارم سے دبائو نہیں بڑھایاگیا کہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کا احترام کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لیے حق خود ارادیت دے۔ پاکستان وکیل کے طور پر ہمیشہ کشمیری مسلمانوں کا مقدمہ بین الاقوامی برادری کے سامنے پیش کرتے آیا ہے، سلامتی کونسل، یورپی یونین اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی متفقہ قراردادوں کے باوجود اقوام متحدہ اب تک بھارت پر اپنی قراردادوں پر من و عن عمل کرنے کے لیے دبائو نہیں بڑھاسکا جو ادارے کی ساکھ پر سوالیہ نشان بن چکا ہے، پھر انسانی حقوق کی علمبردار طاقتیں بھی اِس معاملے پر یا تو خاموش نظر آتی ہیں یا پھر پاکستان اور بھارت کے درمیان بمشکل ثالثی کی پیش کش کرتی ہیں مگر بھارت کو مجبور نہیں کیا جاتا کہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرے یا پھر ثالثی کی پیش کش کو قبول کرتے ہوئے نتیجہ خیز مذاکرات کے لیے پاکستان کے سامنے بیٹھے۔ اقوام عالم کی پراسرار خاموشی کا ہی نتیجہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں اجتماعی قبریں دریافت ہورہی ہیں۔ کشمیریوں کی تیزی سے نسل کشی کی جارہی ہے، مقبوضہ وادی میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے لیے ہندو اوردیگر مذاہب کے لوگوں کو بسایا جارہا ہے، کشمیری نوجوانوں کو ماورائے عدالت قتل کرنے، اور ان کی املاک کو نذر آتش کرنا بھی عام ہے، مگر پھر بھی عالمی سطح پر خاموشی اُن کی مقبوضہ کشمیر سے متعلق خارجہ پالیسی ظاہر کرتی ہے مگر اِس کے باوجود پاکستان نے کشمیری مسلمانوں کا مقدمہ ہر پلیٹ فارم پر لڑا ہے اور اگر مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر دونوں ملکوں کے درمیان جنگ چھڑتی ہے تو اس کے نتائج خاموش رہنے والوں کو ابھی سے معلوم ہونے چاہئیں۔
وزیراعظم شہبازشریف نے اپنے خطاب کے دوران سلامتی کونسل میں مزید گیارہ غیر مستقل ارکان شامل کرنے کے معاملے پر بھی بالکل بجا کہا ہے کہ سلامتی کونسل میں مزید مستقل ارکان شامل کرنے سے اِس کا توازن خراب ہوگا،بہتر نہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ عالمی اداروں کی تشکیل کے مقصد کو ہمیشہ زندہ رہنا چاہیے اور انہی مقاصد کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلہ کرنے چاہئیں، اگر ان عالمی اداروں میں پسند اور ناپسند اور گروپ بندی کا عنصر نمایاں ہونے لگا تو اِس کے نتیجے میں نہ صرف مفادات غالب آنا شروع ہوجائیں گے بلکہ اِس کے نتیجے میں چھوٹے ممالک کو دبایا جائے گا جس سے ناانصافی عام ہوگی اور پھر اِن اداروں کی ساکھ بھی متاثر ہوگی اور عالمی امن بھی قائم نہیں رہے گا۔ باوجود اِس کے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر پر غیر قانونی طور پر قابض ہے، کشمیریوں کا قتل عام کیا جارہا ہے، بھارت میں اقلیتیں آزاد نہیں اور ان پر بہیمانہ تشدد اور قتل و غارت گری بھی عام ہے ، پاکستان میں دہشت گردی کرانے کا ذمہ دار ہے اور اِس کے ثبوت بھی عالمی برادری کو فراہم کیے جاچکے ہیں پھر گلوبل وارمنگ میں بھی بھارت کو ذمہ دار ٹھہرایا تو جاتا ہے مگر اِس کے خلاف حرکت میں نہیں آیا جاتا، بھارت کے خلاف طویل چارج شیٹ کے باوجود اس کے خلاف گھیرا تنگ نہ کرنا بھی عالمی اداروں اور عالمی طاقتوں کے دوہرے معیار پر سوالیہ نشان ہے۔ اپنی بات کو یہیں سمیٹتے ہوئے ہم وزیراعظم پاکستان شہبازشریف کے خطاب کو تفصیل اور مدلل قرار دیتے ہوئے سمجھتے ہیں کہ انہوںنے پاکستان کا مقدمہ دیانتداری اور حق گوئی کے ساتھ بھرپور طریقے سے لڑا، اب عالمی برادری کا فرض ہے کہ وہ جاگے اور پاکستان کو موجودہ بحران سے باہر نکالنے کے لیے فوراً میدان عمل میں آئے اور ایسا کرنا ہی قرین انصاف ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button