ColumnKashif Bashir Khan

واپسی خطرناک ہو سکتی ہے! ۔۔ کاشف بشیر خان

کاشف بشیر خان

پاکستان میں موسم بدل رہا ہے اور موسم سرما کی آمد آمد ہے۔اوائل گرمی میں موسم بدل رہا تھا تو مرکز میں حکومت تبدیل ہوگئی تھی۔عمران خان کی حکومت کا بظاہرتحریک عدم اعتماد کے ذریعے اور درحقیقت رجیم چینج کے بینر تلے بیرونی و اندرونی مدد و طاقت سے خاتمہ کر کے اقلیت میں ہونے کے باوجود اپوزیشن اتحاد(مختلف الخیال) نےحکومت بنالی تھی۔عوام کی اصل دکھ بھری داستان بھی تب ہی شروع ہوئی۔اس حکومت نے بالکل ویسا ہی کیا جیسا یہ ماضی میں کرتے چلے آئےاور اقتدار سنبھالتے ہی انہوں نے شور مچانا شروع کر دیا کہ خزانہ خالی ہے اور ملک ڈیفالٹ ہونے جا رہا ہے۔جدید طرز حکمرانی میں دنیا میں جہاں جہاں شفاف حکومتیں نہیں ہیں وہاں میڈیا کو بطور ٹول استعمال کیاجاتا ہے اور پاکستان میں میڈیا کو اپنی کرپشن اور بدترین طرز حکمرانی کیلئے بطور ڈھال استعمال کرنے کا موجودہ دونوں سیاسی جماعتوںنون لیگ اور پی پی پی کا ٹریک ریکارڈ پرانا ہے۔گو کہ اس پریکٹس کو پی پی پی نے اس وقت شروع کیا جب ان کے پاس محترمہ بینظیر بھٹو کی وفات کے بعد لیڈرشپ کا قحط پڑا اور ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلزپارٹی آصف علی زرداری کے ہاتھوں میں چلی گئی۔وہ سیاسی جماعت جو اپنی پیدائش کے بعد سے مزاحمت کا استعارہ تھی اور ایوب خان اور جنرل ضیاءالحق کی آمریتوں کے خلاف اس کی مزاحمتی تحریک دنیا بھر کی جمہوری قوتوں کیلئے درخشندہ مثال تھی۔اب اپنے نظریات اور منشور سے ہٹ چکی تھی اور اقتدار کے حصول کیلئے اس نے بھی وہی ہتھکنڈے استعمال کرنے شروع کر دیئے جو آمریت کے بطن سے پیدا ہونی والی جماعت مسلم لیگ نواز کا خاصہ تھے۔
جمہوریت میں حکومت اور اپوزیشن کا کردار بہت اہم ہوتا ہے بلکہ اپوزیشن کا کردار حکومت سے بھی اہم ہوتا ہے کہ اس نے عوام کے حقوق کا تحفظ کرنا ہوتا ہے اور وہ کسی بھی حکومت کو عوامی فلاح کے منافی کسی بھی کام سے نہ صرف روکتی ہے بلکہ ان کو کرپشن سے بھی باز رکھتی ہے۔لیکن ذرا سوچئے کہ2008میں پاکستان کے ساتھ کتنا بڑا ظلم کیا گیا کہ ماضی کے بدترین سیاسی دشمن جن کے نظریات اور سیاسی جماعتوں کی تشکیل کی وجوہات اور حالت یکسر مختلف تھے انہوں نے اپنے اپنے مفادات کیلئے میثاق جمہوریت کے بینر تلے سمجھوتہ کرلیا اور پھر دنیا نے دیکھا کہ جس جماعت( پی پی پی)کی تاریخ ذوالفقار علی بھٹو، بینظیر بھٹو، مرتضیٰ بھٹو اور نصرت بھٹو کے خون سے لکھی گئی تھی وہ اقتدار حاصل کرنے کیلئے ان سیاسی گماشتوں کے ساتھ مل گئی جنہوں نے پاکستان کے سیاسی و جمہوری نظام میں گالی و کرپشن کلچر نہ صرف روشناس کروایا بلکہ جبر کی رات کو عوام کیلئے ایک آمر(جنرل ضیاءالحق)کے ساتھ مل کر مزید سیاہ کیا۔یہ پاکستان کے عوام کے ساتھ ایک سیاسی مذاق تھا جس نے ان کی زندگیاں اجیرن کر دیں۔میدان سیاست میں اب کوئی بندہ رہا نہ بندہ نواز۔2008 سے لیکر 2018 تک پاکستان کے عوام پرفرینڈلی اپوزیشن کے نام پر دکھوں کے پہاڑ ڈھائےگئے اور عوام کو پاتال میں پھینک کر ملکی دولت کو مال مفت کی طرح بے رحمی اور بے دردی سے لوٹا گیا۔پاکستان میں 1999 میں جب ایک آرمی چیف کو اپنی خواہشات کے تابع کرنے کی کوششیں ناکام ہو گئی تو ایسا بھیانک کھیل کھیلا گیا جس کی نظیر دنیا کی تاریخ میں کم ہی ملتی۔ پاکستان فوج کے سپہ سالار جو سری لنکا کے سرکاری دورے سے واپس آ رہے تھے، کو برطرف کر کے حکومت نے ان کے جہاز جس میں سینکڑوں دیگر مسافر بھی سوار تھے، کے کراچی ایئر پورٹ اور دیگر ملکی ایئر پورٹس پر اترنے پابندی لگا دی گئی اور یہاں تک کہا گیا کہ جہاز کو بھارت کے کسی ائیرپورٹ پر اتار لیا جائے۔یعنی جس جہاز میں پاکستان آرمی کے سربراہ سوار تھے، اسے بھارت میں اُترنے کا حکم دینا ایسا سنگین جرم تھا،جو غداری سے بھی بڑھ کر تھا۔قارئین سوچیں کہ اگر اس وقت میں پاک آرمی ایکشن میں نہ آتی اور فیول ختم ہونے کی وجہ سے جہاز کریش کرجاتا تو کتنا بڑا سانحہ ہوتا اور دوسری صورت میں اگر جہاز بھارت کے کسی ایئرپورٹ پر لینڈ کروایا جاتا تو کیا بھارت ہمارے آرمی چیف کو گرفتار نہ کر لیتا ؟
یوں12اکتوبر1999کوشریف خاندان کا دو تہائی پر مشتمل اقتدار کا خاتمہ جیل جانے اور سنگین غداری کے مقدمات پر منتج ہوا۔طیارہ ہائی جیکنگ اور سنگین جرائم و کرپشن پر مقدمات چلے اور پھر عدالتوں سے سزائیں بھی ہو گئیں لیکن یک دم بیرونی بھرپور مداخلت پر ایک رات نواز شریف فیملی لاؤ لشکر کے ساتھ جدہ روانہ ہو گئے۔ بیرونی آقاؤں کے اشارے پر 10 سالہ خودساختہ جلاوطنی کی یہ ڈیل تھی۔ اس ڈیل کے تحت نواز شریف اگلے دس سال ملکی سیاست میں حصہ نہیں لے سکتے تھے۔چشم فلک نے دیکھا کہ لاہور ہائی کورٹ کے ان کے حق میں فیصلے کے باوجود نواز شریف نے2013 سے قبل پاکستان میں الیکشن نہیں لڑا تھا۔بات پیچھے چلی گئی لیکن اس کا مقصد آج کی نوجوان نسل کو بتانا مقصد ہے کہ آج کل جس طریقے سے اسحاق ڈار جو 1999 کے بعد نواز شریف وغیرہ کے خلاف وعدہ معاف گواہ بن کر حدیبیہ شوگر مل(حدیبیہ کرپشن کیس)کی تمام کرپشن حکومت وقت اور نیب کو بتا چکا تھے ،کی واپسی کیلئے عدالتوں نے اجازت دے دی ہے یعنی اسے واپسی پر گرفتار نہ کرنے کا عدالتی حکم ا ٓچکا ہے اور نواز شریف نے بھی نیب ترامیم کے بعد لاہور ہائی کورٹ میں ریلیف کیلئے درخواست دے دی ہے۔گویا ماضی کی طرح آج
پھر نواز شریف کو ملک میں بزور شمشیر لاکر عوام پر پھر سے مسلط کرنے کی عالمی سازش کا منطقی انجام محض چند دنوں کی بات لگ رہی ہے۔(یہ واپسی نواز شریف کیلئے خطرناک بھی ثابت ہو سکتی ہے)عوام پو چھنے کا حق تو رکھتے ہیں کہ معزز عدالتوں نے میگا کرپشن میں جو سزائیں نواز شریف اور ان کے وزراء کو سنائی تھیں وہ جھیلے بغیر انہیں معافی کیسے اور کون دے رہا ہے؟ ’’نواز شریف اور زرداری بھائی بھائی‘‘ کے درمیان بدلا تو کچھ بھی نہیں لیکن یہ ضرور ہوا کہ2008 کے بعد عوام کے سامنے ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے کا ’’ناٹک‘‘ یہ دونوں بڑی سیاسی جماعتیں کرتی تھیں وہ عمران خان کی مخالفت میں ختم ہو گیااورسب ’’نیک‘‘ایک چھتری تلے اکٹھے ہو کر سامراجی قوتوں کے زیر اثر حکومت بنا کر عوام کا شدید استحصال کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے اربوں کھربوں کے کیس ختم کروانے میں پھر کامیاب ہو گئے اور اب بھی چند کلو میٹر پر مشتمل علاقے کے حکمران ہونے کے باوجود ان کے داخلہ وزیر جو ماضی میں مبینہ طور پر سانحہ ماڈل ٹائون اور دوسرے مقدمات میں ملوث ہیں، اپوزیشن اور عوام کو غلیظ زبان استعمال کرتے ہوے جبر اور تشدد کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔عوام سوچ رہے ہیں کہ جس شخص کوفوج کے بنائے ہوئے ادارے اینٹی نار کوٹکس فورس نے منشیات کے بہت بڑے مقدمے میں گرفتار کیا ہو،اول تو وہ وزیر داخلہ کیسے بنا دیاگیا اور دوسرے جو شخص ماضی میں صرف ایم پی اے منتخب ہوا ہو وہ بھی حکومتی اداروں اور مشینری کو استعمال کرتے ہوئے وہ جب سرعام عوام پر وحشیانہ تشدد کی دھمکیاں دیتا ہے تو اس کے پیچھے کون ہے؟یاد رہے کہ 2018 میں فیصل آباد کی قومی اسمبلی کی دونوں نشستوں سے رانا ثناءاللہ انتخابات ہار گئے تھے لیکن دو دن کے بعد ان کو ایک نشست پر کامیاب قرار دے دیا گیا تھا۔ میاں نواز شریف اور اسحاق ڈار شاہد اب بھی ماضی میں رہ رہے ہیں اور سوچ رہے ہیں کہ پاکستان میں آمد پر عوام ان کا استقبال پھولوں سے کریں گے۔اگر وہ ایسا سوچ رہے ہیں تو وہ بہت بڑی بھول کا شکار ہیں۔ سپریم کورٹ میں نیب قوانین میں کی جانے والی وہ متنازعہ ترین ترامیم جو عوام کی دولت لوٹنے والوں نے اپنے مفادات کیلئے کی ہیں، کے خلاف فیصلہ آجائے اور پھر یہ نیب سے کرپشن کیسوں میں معافی حاصل کرنے والے کہاں جائیں گے؟ پاکستان کے عوام اس وقت اتنے بے بس و بیوقوف نہیں جتنا ماضی میں عوام کو لوٹنے والوں نے سمجھ لیا ہے۔پاکستان اس وقت شدید معاشی اور سیاسی بحران کا شکار ہے اور ایسے میں عوام کو دوبارہ سے اپنے مکر اور فریب کا شکار کرنے کی کسی بھی سیاسی گروہ کی کوشش کامیاب ہوتی نظر نہیں آ رہی۔آج عوام کی اکثریت کی نظریں سپریم کورٹ کی جانب لگی ہیں کہ ادھوری قومی اسمبلی سے اپنے مفادات کیلئے ایس قانون سازی کی گئی ہے کہ جس کا فائدہ ان سب کو ملا ہے جن پر پاکستان کے دولت لوٹنے اور کرپشن کے نہ صرف سنگین کیس چل رہے تھے بلکہ بہت سے سزائیں بھی پاچکے تھے۔حد تو یہ ہے کہ اس متنازعہ ترین آئینی ترمیم کو 1985 سے لاگو کیا گیا ہے۔آئین پاکستان میں صاف لکھا ہے کہ ایسا کوئی قانون و ترمیم جو اسلام سے متصادم ہو اور فرد واحد یا کسی گروہ کے فائدے کیلئے بنایا جائے وہ قابل عمل و نافذ نہیں ہو سکتا۔
پریشان حال پاکستانی دیکھ رہے ہیں کہ ہر روز نیب کورٹ سے میگا کرپشن کے کیس صرف اس بنیاد پر واپس بھیجے جا رہے ہیں کہ اس حکومت کی ترمیم کی وجہ سے نیب اور نیب کورٹس کے پر کاٹے جا چکے ہیں جو ریاست کیلئے نہایت ہی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ بہرحال آنے والے دن اور بالخصوص ایک مہینہ پاکستان کی سیاست میں نہایت ہیجان انگیز اور خطرناک دکھائی دے رہا ہے کہ مرکزی حکومت اور تگڑی ترین اپوزیشن کے درمیان فائنل سیاسی راؤنڈ کھیلا جائے گا جو کہ صاف انتخابات کے انعقاد کےیک نکاتی مطالبے پر مشتمل ہے۔دکھائی تو یہ دے رہا ہے کہ 2008 سے چلنے والی فرینڈلی لوٹ مار پر مبنی سیاست بھی اب منطقی انجام کو پہنچا چاہتی ہے کہ سیاسی میدان میں نون لیگ اور پی پی پی کا انتظار تاریخی شکست کر رہی ہے ۔بھلے یہ انتخابات اب ہوتے ہیں یا 2023 میں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button