CM RizwanColumn

توہین عدالت کی شرمناک روایت ۔۔ سی ایم رضوان

سی ایم رضوان

خاتون جج کو دھمکی دینے پر توہین عدالت کیس میں چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے معافی مانگنے کے حوالے سے وضاحت دیتے ہوئے عمران خان کے وکیل حامد خان نے کہا ہے کہ عمران خان نے عدالت سے غیر مشروط معافی نہیں مانگی۔ ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے حامد خان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں عمران خان نے کہا کہ اگر عدالت کو لگتا ہے کہ کوئی ریڈ لائن کراس ہوئی ہے تو وہ اس کی معافی مانگنے کو تیار ہیں۔ حالانکہ ریڈ لائن کراس ہوئی ہے تو مقدمہ بنا ہے۔
بدقسمتی سے یہ کوئی پہلا موقع نہیں کہ کسی سیاسی شخصیت نے مبینہ طور پر توہین عدالت کی ہو بلکہ ملکی سیاسی تاریخ کا ہر ورق اسی طرح کی آلودگی اور سوالیہ نشانات سے بھرا پڑا ہے۔ سابقہ تاریخ میں ایسے مبینہ جرائم میں کئی سیاسی، سرکاری شخصیات کے علاوہ وکلا حتیٰ کہ اعلیٰ عدلیہ کے ججز بھی شامل رہے ہیں جن کو توہین عدالت کے نہ صرف نوٹسز جاری ہوئے بلکہ کچھ کو سزائیں بھی ہوئیں۔ سیاسی شخصیات کی بات کی جائے تو سابق وزرائے اعظم ذوالفقار علی بھٹو اور نواز شریف کو توہین عدالت کے نوٹسز جاری ہوئے جبکہ یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کیس میں سزا بھی ہوئی، البتہ یہ پہلی مرتبہ ضرور ہے کہ ایک سابق وزیراعظم عمران خان کو توہین عدالت کے الزام میں نوٹس جاری کرکے طلب کیا گیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کا تین رکنی فل بینچ اب اس کی سماعت کررہا ہے اور یہ کیس کئی سیاسی اور سابقہ عدالتی فیصلوں کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
پیپلز پارٹی کے بانی اور وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو بھی ایک زیر سماعت معاملے پر رائے دینے پر توہین عدالت کے نوٹسز جاری ہوئے تھے۔ یہ درخواست ذوالفقار علی بھٹو کے سیاسی حریف اور اس وقت کی حزب اختلاف کے بڑے رہنما چودھری ظہور الٰہی نے دائر کی تھی، جس میں نشاندہی کی گئی تھی کہ ذوالفقار علی بھٹو نے نیشنل عوامی پارٹی کے بارے میں زیر سماعت معاملے پر جلسہ عام میں بات کی اور یہ عمل توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔ تاہم سپریم کورٹ نے حکومتی وضاحت کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر مزید کارروائی آگے نہیں بڑھائی تھی اور معاملہ وہیں پر ختم ہو گیا تھا۔ اسی طرح جب نواز شریف کو توہین عدالت کے الزام میں طلب کیا گیا تو وہ وزیراعظم کی حیثیت سے سپریم کورٹ میں پیش ہوئے۔ ان کے وکیل اور سابق وزیر قانون ایس ایم ظفر نے نواز شریف کے موقف کی وضاحت کی تھی جس کے بعد اس وقت کے چیف جسٹس سجاد علی شاہ نے یہ معاملہ خطرناک حد تک آگے بڑھنے سے پہلے ہی نمٹا دیا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو اور نواز شریف کے بعد یوسف رضا گیلانی تیسرے وزیراعظم تھے جنہیں نہ صرف عدالتی احکامات پر عمل نہ کرنے پر نوٹسز جاری کیے گئے بلکہ انہیں سزا بھی سنائی گئی۔ سپریم کورٹ نے یوسف رضا گیلانی کو عدالت کی برخاستگی تک قید کی سزا سنائی اور انہیں نااہل قرار دیا تھا۔ نواز شریف کے دوسرے دور حکومت میں سپریم کورٹ پر حملہ ہوا۔ اس واقعے پر سپریم کورٹ نے توہین عدالت کی کارروائی شروع کی اور اس وقت کی حکمران جماعت کے تین ارکان اسمبلی کو سزا سنائی۔ ان میں ہاکی کے نامور کھلاڑی اختر رسول، مایہ ناز ٹی وی میزبان طارق عزیز
اور لاہور سے ہی رکن قومی اسمبلی میاں منیر شامل تھے۔ 1999 میں نواز شریف کی حکومت کے خاتمے کے بعد یہ تینوں سیاستدان مسلم لیگ قاف میں شامل ہو گئے تھے لیکن سپریم کورٹ کی سزا کی وجہ سے عام انتخابات کیلئے نا اہل قرار پائے گئے تھے۔ مسلم لیگ نون کے متعدد دیگر ارکان پارلیمان بھی ماضی میں عدلیہ کے خلاف بیانات دینے پر توہین عدالت کے قانون کی گرفت میں آ چکے ہیں۔ سابق وفاقی وزیر دانیال عزیز کو سپریم کورٹ کے ایک معزز جج کے بارے میں گفتگو پر اس وقت عدالت کی برخاستگی تک کی سزا سنائی گئی تھی اور اس کے ساتھ ہی وہ عام انتخابات میں حصہ لینے کے اہل نہ رہے تھے۔ سپریم کورٹ نے مسلم لیگ نون کے سینیٹر نہال ہاشمی کے عدلیہ کے بارے میں بیان پر بھی ماضی میں از خود نوٹس لیا اور انہیں بھی توہین عدالت کا مرتکب قرار دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے نہال ہاشمی کو ایک ماہ قید اور 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی تھی۔ اس طرح نہال ہاشمی بھی کسی عوامی اور سرکاری عہدے کیلئے اہل نہیں رہے تھے۔ 2008 میں قائم ہونے والی پیپلز پارٹی کی حکومت میں بھی میمو گیٹ کے بارے میں عدالتی کارروائی پر توہین آمیز تبصرے پر اس وقت کے وزرا کو توہین عدالت کے شوکاز نوٹس جاری ہوئے تھے۔ ان وزرا میں بابر اعوان، فردوس عاشق اعوان، سید خورشید شاہ اور قمر الزمان کائرہ شامل تھے لیکن سپریم کورٹ کے روبرو اس پر کارروائی میں کوئی پیشرفت نہ ہو سکی تھی جبکہ سابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کے بارے میں بیان دینے پر لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں فل بینچ کے سامنے سابق وزیر داخلہ احسن اقبال کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی بھی ہوئی لیکن احسن اقبال نے اس مقدمے
میں غیر مشروط معافی مانگ لی تھی۔ اسی تین رکنی فل بنچ نے پنجاب کے سرحدی ضلع قصور میں عدلیہ مخالف ریلی پر رکن قومی اسمبلی شیخ وسیم اختر کو قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ نواز شریف کے دوسرے دور حکومت میں مسلم لیگ نون کے بہاولپور سے دو ارکان اسمبلی کے عدلیہ کے بارے میں توہین آمیز بیانات پر ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کی گئی۔ اس وقت کے چیف جسٹس راشد عزیز خان کی سربراہی میں فل بنچ نے ارکان اسمبلی چودھری سمیع اللہ اور افضل گل کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی اور انہیں سزا سنائی تھی۔
سابق وزیر اعظم پاکستان محترمہ بینظیر بھٹو جب اپنی پہلی حکومت ختم ہونے پر اپنے خلاف ریفرنس کیلئے لاہور ہائی کورٹ میں پیش ہوئیں تورش کی وجہ سے کمرہ عدالت میں توڑ پھوڑ ہوئی۔ اس پر ایک وکیل نے توہین عدالت کی درخواست دائر کی جس میں بینظیر بھٹو، اعتراز احسن، خواجہ طارق رحیم سمیت سابق وفاقی کابینہ کے اہم ارکان کو فریق بنایا گیا، لیکن کئی برس یہ درخواست زیر سماعت رہنے کے بعد غیر موثر ہونے کی بنیاد پر نمٹا دی گئی۔ پیپلز پارٹی کی قیادت کے خلاف توہین عدالت کیلئے عدالت سے رجوع کرنے کے حوالے سے جانے مانے وکیل ایم ڈی طاہر کو خود بھی توہین عدالت کے کیس میں جیل جانا پڑا تھا۔ سابقہ دور میں وکلا تحریک کے نتیجے میں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی عہدے پر بحالی کے بعد سپریم کورٹ نے اعلیٰ عدلیہ کے ان ججوں کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کیے تھے جنہوں نے تین نومبر 2007 کو فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کی طرف سے ہنگامی حالت کے اعلان کے بعد پی سی او کے تحت حلف اٹھایا تھا۔ ان ججوں میں پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر بھی شامل تھے۔ توہین عدالت کے نوٹس کے بعد اعلیٰ عدلیہ کے ججز نے اپنے عہدے سے استعفے دے دیئے، جس کی وجہ سے ان ججوں کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی نہ ہوسکی۔ اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی طرح ماضی میں وکلا کو بھی توہین عدالت کا سامنا رہا ہے۔ ہوا یہ تھا کہ سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو اور ان کے شوہر آصف علی زرداری کے خلاف غیر قانونی اثاثے قائم کرنے کے ریفرنس کی سماعت کے دوران لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی احتساب بنچ کے سربراہ جسٹس احسان الحق چودھری اور پیپلز پارٹی کے وکلا حاجی دلدار اور میاں حنیف طاہر اور جسٹس احسان الحق چودھری کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوگیا، جس پر لاہور ہائی کورٹ نے توہین عدالت کے جرم میں دونوں وکلا کو جیل بھیج دیا تھا۔ موجودہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس کو بھی لاہور ہائی کورٹ کے فل بینچ نے اونچی آواز میں بات کرنے پر توہین عدالت کے نوٹسز جاری کیے تھے۔ تین رکنی فل بنچ نے اسی معاملے پر اس وقت کے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو طلب کیا تھا، تاہم بعد میں یہ نوٹس خارج کر دیئے گئے۔ ایک اور اسی طرح کی کارروائی یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے ایک سابقہ دور میں موجودہ وزیراعظم شہباز شریف ایک مقدمے میں جیل میں تھے اورسماعت کے دوران چودھری فاروق اور جسٹس سجاد سپرا کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔ دو رکنی بنچ نے شہباز شریف کو تو طبی بنیادوں پر رہا کرنے کا حکم دے دیا لیکن چودھری فاروق کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی سفارش کی۔ اسی وجہ سے چودھری فاروق کے دوسری مرتبہ اٹارنی جنرل بننے میں دشواری آئی تاہم یہ معاملہ بھی بعد ازاں سلجھا لیا گیا۔ ہونہار اور مرکزی حیثیت کے حامل ملکی سیاست دان عمران خان کے خلاف بھی ان دنوں توہین عدالت کے متعدد مقدمات زیر سماعت ہیں یعنی عوام میں مقبولیت کے بل بوتے پر ایک مرتبہ پھر عدلیہ کو مبینہ طور پر توہین کا نشانہ بنانے کی مذموم کارروائی ہوئی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اس روایت کو بلاتاخیر اور حقیقت میں ختم کیا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button