Columnمحمد مبشر انوار

معاملہ فہمی یا خانہ جنگی ۔۔ محمد مبشر انوار

محمد مبشر انوار

اقتدار و اختیار کی جبلی خواہش بنی آدم میں رکھی گئی ہے البتہ فی زمانہ اس خواہش کے حصول میں بنی آدم ان مروجہ اصولوں کو پامال کرتا نظر آتا ہے کہ جس میں اقتدار واختیار کا ماخذ ومنبع اخلاقی ساکھ ٹھہرتی ہے۔ آج اقتدار و اختیار کا حصول اور اس پر اپنی گرفت دائمی رکھنے کیلئے زمانہ قدیم کے اصول’’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘‘پر عمل کیا جاتا ہے،ہر وہ عمل،ہر وہ چال چلی جاتی ہے کہ جس سے فقط اقتدارو اختیار قائم رہ سکے،اخلاقی ساکھ یا بنیادی اصولوں کو بری طرح پامال کیا جاتا ہے۔ دوسری طرف مہذب معاشرے ہیں کہ جنہوں نے صدیوں کے تلخ تجربات کے بعد اس حقیقت کو نہ صرف سمجھ لیا ہے بلکہ ان پر دل و جان سے عمل پیرا ہوکر نہ صرف اپنے ملک بلکہ اپنی قوم کو اوج ثریا تک لے جا چکے ہیںجبکہ ہمارے معاشرے میں ابھی تک یہ بلوغت ہی نہیں آئی کہ جس نظام کو مغرب نے صدیوں کی جدوجہد کے بعد کامیابی سے نافذ کیا ہے،ہم اس نظام کو بعینہ اپنے ملک میں نافذ کر لیں۔ ہماری حالت زار آدھا تیتر آدھا بٹیر جیسی ہے کہ نہ تو ہم اپنی اساس ،اسلامی نظام،سے منسلک ہیں اور نہ ہی ہم مغربی نظام حکومت کو سو فیصد اپنا سکے ہیں،جس کا نقصان یہ ہے کہ ہم آج تک اداروں کے حدود و قیود کا ہی تعین نہیں کر پائے اور دائروں کے سفر میں ملک و قوم کو خوار کررہے ہیں۔رجیم چینج آپریشن کے بعد ملک میں جو سیاسی و معاشی و سماجی ہیجان برپا ہے،اس نے ملک مفادات کو مزید پیچھے دھکیل دیا ہے،کہ حکومت ، اپوزیشن اور مقتدرہ ایک دوسرے کے آمنے سامنے تن کر کھڑے ہیں اور کوئی ایک فریق بھی اپنی شکست تسلیم کرنے کو تیار نہیں اور نہ ہی ملکی مفادات کو مد نظر رکھ کر فیصلے کرنے کیلئے تیار ہے۔ جمہوری طرز حکومت میں ایسی صورتحال سامنے آنے پر بالعموم ریاستیں عوامی رائے شماری کا انتخاب کرتی ہیں اور انتخابات کا ڈول ڈالتی ہیں تا کہ عوامی رجحان کے مطابق نئی حکومت تشکیل دے سکیں۔ معروضی حالات کے پیش نظر بالعموم بلاواسطہ طریقہ سے اقتدار میں آنے والی جماعتیں اس مسلمہ طریقہ کارکو اختیار کرنے سے کتراتی ہیں کہ اولاً ان کو عوامی حمایت میسر نہیں رہتی،دوم اقتدار دلانے والوں کی طرف سے اجازت نہیں ملتی،سوم ،موجودہ حالات میں،ووٹوں کو بیلٹ بکس میں ڈلوانے کاعمل معدوم ہوتا نظر آتا ہے کہ مقابل ٹکر کے لوگ کھڑے ہیں۔
حقیقی اختیار رکھنے والوں نے پاکستانی سیاست کا نقشہ ایسا بنا رکھا ہے کہ کسی بھی سیاسی جماعت کو واضح اکثریت نہ مل سکے اور حکومت سازی کیلئے اتحادیوں کی ضرورت بہرحال رہے اور یہ ان اتحادیوں کی سیاسی سوجھ بوجھ کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے رجیم چینج آپریشن کے دوران جب مقتدر حلقوں نے غیر جانبداری کا اعلان کیا،تو ان چھوٹی سیاسی جماعتوں سے فوری طورپر ازخود کوئی فیصلہ تک نہ ہو سکاوگرنہ رجیم چینج آپریشن میں اتنی دیر بھی نہ لگتی۔بہرکیف ان چھوٹی سیاسی جماعتوں کے تحریک انصاف سے الگ ہونے پر رجیم چینج آپریشن مکمل ہو گیا لیکن خواہشات کے برعکس، کبڑے کو ٹانگ راس آ گئی اور تحریک انصاف ،جس کی مقبولیت زمین بوس ہو چکی تھی،اس ایک عمل سے دوبارہ نہ صرف زندہ ہو گئی بلکہ اتنی توانا ہو گئی کہ اب حکومت تو ایک طرف اصل حکمرانوں کیلئے بھی مشکل بن چکی ہے،کہ اس سے کہیں کم توانا پی ڈی ایم کے مظاہروں پر مذاکرات کا ڈول ڈال دیا گیا تھا اور حکومت سے بھی ’نواز ‘دیا گیا۔شنید تو یہ بھی ہے کہ تحریک انصاف کے ساتھ بھی مذاکرات کے کئی دور ہو چکے ہیں اورہر باران مذاکرات پر عملدرآمد سے گریز کیا جاتا ہے،جس کے باعث عمران خان شدید برہم نظر آتے ہیں اور مزید اعتبار کرنے کیلئے تیار نہیں ۔اس وقت عمران خان ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے پاکستانیوں سے رابطے میں ہیں اور ایک بھرپور احتجاج کرنے کیلئے عوام کو سڑکوں پر لانے کیلئے تیار کر رہے ہیں۔سماجی طور پر اہم ترین شعبہ سے وابستہ قانون دانوں کے بڑے اجتماعات میں ،ان قانون دانوں کو اعتماد میں لے چکے ہیں اور ان وکلاء کو اپنے احتجاج کا حصہ بننے پر وعدے وعید بھی لے چکے ہیں۔ عمران خان جس بنیاد پر قانون دانوں کو اعتمادمیںلے رہے ہیںاو ر قانون کی جس بالادستی کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں،وہ درحقیقت پورے پاکستان کی آواز ہے لیکن اس کیلئے عمران خان کو بلاامتیاز بروئے کار آنا ہو گاجو اپنی گذشتہ حکومت میں وہ سو فیصد نہیں آ سکے لیکن اس کے باوجود عوام آج بھی ان پر اعتماد کررہی ہے کہ جانتی ہے گذشتہ حکومت میں کیا مسائل درپیش رہے ہیں۔اپنے جلوسوں میں عمران خان نے جو زبان استعمال کی،وہ یقینی طور پر ایک بڑے لیڈر سے متوقع نہیں اور اس کی پاداش میں عمران خان مسلسل عدالتوں کے چکر بھی لگا رہے ہیں،آج عدالت میں پیشی کے موقع پر عمران نے اپنے نامناسب الفاظ پر مذکورہ جج صاحبہ سے معذرت و وضاحت دینے کی پیشکش کر دی ہے۔ عدالت اس وضاحت سے مطمئن ہو گئی اور عمران خان سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی اس وضاحت کو بیان حلفی کی صورت عدالت میں جمع کروائیں،یہاں یہ امر قابل ستائش ہے کہ عمران خان نے بلاوجہ اپنے نامناسب الفاظ پر انا یا ضد کا مظاہرہ نہیں کیا اور اداروں کی تکریم کرتے ہوئے ایک مثال بنائی ہے۔ تاہم ماضی میں ہونے والی توہین عدالت میں سزایافتہ ،اس عدالتی روئیے پر جزبز نظر آتے ہیں اور عدالتوں پر تنقید دوبارہ شروع ہو چکی ہے،جس کی بظاہر کوئی ضرورت نظر نہیں آتی کہ ماضی میں ہونے والی توہین عدالت براہ راست دھمکیاں رہی ہیں جبکہ عمران خان کے الفاظ سیاق و سباق میں دیکھے جائیں تو ان الفاظ کی سختی بہرطور ماضی کی توہین سے قدرے کم ہے۔
عمران خان مسلسل ایک ہی مطالبہ کرتے نظر آتے ہیںکہ ملک کو موجودہ سیاسی ہیجان سے باہر نکالنے کیلئے صاف شفاف انتخابات ہی واحد حل ہیں اور ان انتخابات کے نتیجے میں ہی معاشی بحران و معاشی استحکام پوشیدہ ہے۔ بظاہر پی ڈی ایم کی حکومت برسر اقتدار ہے اور طاقتور حلقے بھی آئینی و قانونی راستے اختیار کرتے نظر آتے ہیں اورمذاکرات ،مذاکرات کھیلتے ہوئے ،کھیل کو مقررہ مدت تک کھینچنے کے متمنی نظر آتے ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر آج اتحاد ی جماعتیں، حکومت سے الگ ہو جائیں تو حکومت سادہ اکثریت کھو دیتی ہے،تحریک انصاف بھی موجودہ صورتحال میں حکومت بناتی اس لئے نظر نہیں آتی کہ اولاً تو یہ اسمبلیوں سے مستعفی ہو چکی ہے دوم یہ کہ ان کے استعفے ہنوز منظور نہیں ہوئے اور اگر یہ اسمبلیوں میں واپس چلی بھی جائے،تب بھی منحرف اراکین اس کے ساتھ نہیں بیٹھیں گے،لہٰذا تحریک انصاف بھی دوبارہ حکومت نہیں بنا پائے گی۔ تحریک انصاف درپردہ اتحادی جماعتوں سے بھی مذاکرات کر رہی ہے کہ کسی طرح وہ ان اتحادیوں کو قائل کرنے میں کامیاب ہو جائے اور حکومتی اتحاد سے الگ کرنے میں کامیاب ہو جائے تو نئے انتخابات کا ڈول ڈالا جا سکتا ہے لیکن بظاہر یہ انتہائی آسان دکھائی دینے والا منصوبہ اتنا آسان قطعی نہیں کہ اس میں بہت سے نشیب و فراز موجود ہیں ۔ سب سے بڑا مسئلہ ہی اتحادیوں کو قائل کرنے کا ہے کہ باوجودکہ اتحادی موجودہ حکومت سے ناخوش ہیں لیکن اس کے باوجود جب تک ان کو اشارہ نہیں ملے گا،وہ حکومتی اتحاد سے الگ نہیں ہوں گے بلکہ موجودہ تنخواہ پر گذارہ کریں گے۔حقیقی اختیار والے کبھی بھی یہ نہیں چاہیں گے کہ عمران خان یا اس کے حکومتی اتحادیوں میں معاملات طے ہو سکیں بلکہ زیادہ مناسب الفاظ میں اگر کہوں تو عین ممکن ہے کہ اتحادی ہی تحریک انصاف کو مذاکرات میں الجھائے رکھیں تاوقتیکہ مدت پوری ہو جائے یا منصوبہ سازوں کامطمع نظر حاصل ہو جائے۔اس کے برعکس عمران خان بھی ان ساری چالوں کو بخوبی سمجھ رہے ہیں اور اسی کے مطابق اپنا لائحہ عمل ترتیب دیتے نظر آتے ہیں،البتہ چھوٹی جماعتوں سے مذاکرات یا انہیں قائل کرنے کی سعی میں کم از کم ایک حقیقت واضح ہوتی ہے کہ عمران خان کسی بھی انتہائی اقدام سے قبل تمام ممکنہ وسائل استعمال کرنا چاہتے ہیں ۔موجودہ سیاسی صورتحال میں یہ واضح ہے کہ اختیار کی اس جنگ میں اناو ضد کا عمل دخل کہیں زیادہ ہے لہٰذا تمام ممکنہ راستوں سے عمران کی واپسی کو روکا جاسکتا ہے اور آخری چال کا نتیجہ کیا ہو سکتا ہے،اس سے بھی باخبر لاعلم نہیں۔موجودہ سیاسی بحران سے نکلنے کیلئے اگر معاملہ فہمی سے کام لیا جائے تو بڑی آسانی سے نکلا جا سکتا ہے اور اگر معاملات لانگ مارچ یا دھرنے کی طرف جاتے ہیں،تو وفاقی حکومت کے عزائم سب پر آشکار ہیں کہ وفاقی حکومت اس لانگ مارچ سے آہنی ہاتھ سے نپٹ کر بہت سے قرض چکانے کی خواہشمندہے۔حکومت کی اس خواہش کی قیمت کیا ہو سکتی ہے،اس کے متعلق ماضی کی مثالیں موجود ہیں کہ جیسے ہی حالات خانہ جنگی کی طرف جائیں گے،تیسری قوت آج بھی سب کچھ لپیٹنے کی طاقت و جرأت رکھتی ہے۔لہٰذا بہتری اسی میں ہے کہ موجودہ سیاسی بحران کو معاملہ فہمی سے سلجھا لیا جائے اور خانہ جنگی کی طرف جانے رک جانا چاہیے کہ اس میں جمہوری عمل کو نقصان پہنچنے کا شدید اندیشہ ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button