ColumnQadir Khan

23 ستمبریوم قتل انصاف .. قادر خان یوسف زئی

قادر خان یوسف زئی

انصاف کے نام پر23 ستمبر تاریخ کا ایسا دن ہے،جو ہمیشہ بے انصافی اور سیاہ دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا ۔ انصاف کے نام پر اندھے ، گونگے اور بہرے بنے اداروں نے جس طرح انسانی حقوق کو روندا ، اس کی مثالیں بہت کم ملتی ہیں۔ ایسی ہی بدترین مثال ڈاکٹر عافیہ ہیں جو امریکی جیل ــ’’ایف ایم سی ، کارسویل‘‘ میں جرم بے گناہی کی پاداش میں 86 سال کی قید تنہائی کی سزاکاٹ رہی ہیں ، گذشتہ چند ماہ کے دوران اس جیل سے رہائی پانے والی متعدد خواتین نے مرد اہلکاروں کی جانب سے جبری جنسی زیادتی اور ہراسگی کے بارے میں انکشاف کئے ہیں۔ان واقعات کے بارے میں خبریں ، تصاویر اور ویڈیوز دیکھ کر محسو س کیا جاسکتا ہے کہ عافیہ صدیقی سخت عدم تحفظ کی حالت میں قید تنہائی کی اذیت کا شکار ہے۔ ا ن کی یہ کیفیت کو اُن قیدی خواتین کی اپنی بے حرمتی کے واقعات بیان کرنے کے تناظر سے سمجھا جاسکتا ہے جن کے مطابق ان کا مقصد جیل کے مرد اہلکاروں کی جانب سے دیگر قیدی خواتین کی بے حرمتی کے واقعات کو روکا جاسکے۔
اس مقدمہ کا کچھ مختصراً احوال درج ذیل میں یوں ہے کہ23ستمبر، 2010 ء امریکی عدالتی تاریخ کا وہ بھیانک دن ہے، جب انصاف کے تمام تقاضوں کو نظر انداز کرتے ہوئے متعصب جج رچرڈ برمن نے سازش کے تحت ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو 86برس کی سزا سنائی تھی۔یہ دن اس لیے ’’یوم قتل انصاف ‘‘ ہے کہ مقدمہ کی سماعت کے دوران ڈاکٹر عافیہ کی جانب سے وکلاء پر عدم اعتماد کو مسترد کردیا گیاتھا۔ ڈاکٹر عافیہ نے استدعا کی تھی کہ مجھے پانچ سال تک (بگرام ، افغانستان میں خفیہ امریکی عقوبت خانے میں) لاپتہ رکھا گیا اور انسانیت سوز تشدد کا نشانہ بنایا گیااس لیے اس اہم واقعہ کو مقدمہ کی کارروائی کا حصہ بنایا جائے مگرعدالت نے اس اہم معاملہ میں انہیں بیان دینے کی اجازت نہ دی۔ اس جج نے اپنے فیصلے میں تسلیم کیا کہ ڈاکٹر عافیہ جو پاکستانی شہری ہیں ،اس کا کسی دہشت گرد تنظیم سے کوئی تعلق نہیں اور عافیہ کو صرف اس جرم کی سزا دی جارہی ہے کہ اس پر یہ الزام ہے کہ اس نے 6امریکی فوجیوں کو قتل کرنے کا ارادہ کیا اور بندوق اٹھائی، ان پر گولیاں چلائیں لیکن اس کے نتیجے میں کسی امریکی فوجی کو نقصان نہیں پہنچا جبکہ ڈاکٹر عافیہ امریکی فوجیوں کی جوابی
فائرنگ سے زخمی ہو گئیں۔ جج نے اپنے فیصلے میں یہ بات بھی لکھی کہ باوجود اس کے کہ عافیہ کے خلاف کسی قسم کے ثبوت موجود نہیں ۔
مشہور امریکی ریسرچ سکالر اسٹیفن لینڈ مین نے عافیہ کی سزا پر یہ بیان دیا تھا کہ ’’عافیہ کو صرف مسلمان ہونے کی سزا دی گئی ہے‘‘۔ امریکی وکیل اور تجزیہ نگار اسٹیون ڈاؤنز جس نے ہمیشہ عافیہ کی مخالفت میں تحریر لکھی لیکن امریکی عدالت کی نا انصافی اور عافیہ کی جرم بے گناہی کی سزا دیکھ کر چیخ اٹھا کہ’’ میں ایک مردہ قوم کی ایک بیٹی کی سزا کا مشاہدہ کرنے (امریکی عدالت) چلا گیا تھا لیکن میں انسانیت کی ماں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو اپنا سب سے زیادہ خراج تحسین پیش کرکے باہر آیا ہوں‘‘۔ یہ تو اس نام نہاد عدالتی فیصلہ کی مختصر تفصیل بیان کی گئی ہے۔
ڈاکٹر فوزیہ صدیقی، عافیہ صدیقی کی بہن ہیں اور ان کی والدہ جو ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کا انتظار کرتے کرتے دنیا سے رخصت ہوچکی ہیں ، ان کی آنکھیں اپنی بیٹی کو دیکھنےکیلئے ترس گئیں لیکن دنیا میں انصاف کے نام نہاد ٹھیکیداروں نے مخصوص مفادات اور نام نہاد منصفی کے نام پر انصاف کا قتل کیا اور حقائق جاننے کے باوجود طویل
سزا دی تاکہ عافیہ جیتے جی جیل سے زندہ واپس ہی نہ آسکیں ۔ جیل میں ہوشربا اور اذیت ناک بدسلوکیاں سہنے کے باوجود عافیہ نے اپنے مصمم عزم کے ذریعے نام نہاد انصاف کے ٹھیکیداروں کو شکست تو دی لیکن آج بھی وہ ایسے اداروں سے انصاف ملنے کی توقع کرتی ہیں جن کے نزدیک انسانیت کی قدریں کمزور سہی لیکن زندہ ہیں۔ 2008 ء میں بین الاقوامی میڈیا کے توسط سے پتہ چلا کہ عافیہ بگرام ، افغانستان کے خفیہ امریکی عقوبت خانے میں قیدی نمبر 650 کے نام سے قید ہے اور اس پر انسانیت سوز تشدد کیا جارہا ہے۔ عافیہ پر امریکی فوجیوں پر حملے کا جو جھوٹا الزام لگایا گیا تھاوہ جرم افغانستان کی سرزمین پر سرزد ہوا تھا اس لیے مقدمہ بھی افغانستان میں چلنا چاہیے تھا۔ 2003 ء سے 2022ء تک، 20 سال کے طویل عرصہ کے دوران ظفراللہ خان جمالی مرحوم، چودھری شجاعت، شوکت عزیز، یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف، نواز شریف، شاہد خاقان عباسی، عمران خان اور اب محمد شہباز شریف وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہیں ، سب نے عافیہ صدیقی کو قوم کی بیٹی قرار دیا اور وعدہ کیا تھا کہ وہ عافیہ کو رہائی دلائیں گے لیکن افسوس پاکستانی شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کے معاملہ میں اپنے ایگزیکٹیو پاورکو استعمال نہیں کیا گیا اور کئی اہم مواقع کا فائدہ بھی نہیں اٹھایا جاسکا جو امریکی قوانین کے مطابق تھا۔
ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنی والی اہم شخصیات نے عافیہ پر ظلم کے خلاف آواز اٹھائی۔ پاکستان اوربیرون ممالک کے کئی نامور قانون دانوں نے 86 سالہ سزا کو ناانصافی پر مبنی قرار دیا ہے۔ ماضی کے زلزلہ اور موجودہ سیلاب زدگان کی امداد اور بحالی کیلئے جس طرح قوم نے یکجہتی کا اظہار کیا ہے اس ایثار کی مثال نہیں ملتی۔ ڈاکٹر عافیہ کو وطن واپس لانے کے معاملہ میں کراچی سے خیبر تک قوم ہمیشہ متحدرہی ہے اور ہر اہم موقع پر اس کا اظہار بھی کرتی رہتی ہے۔20 سال کی طویل جدوجہد کے دوران اسی سال 2 جولائی کو عصمت صدیقی وفات پا گئیں۔ اپنی زندگی کے آخری ایام میں انہوں نے کچھ باتوں کو بار بار دہرایا انہوں نے فوزیہ صدیقی سے کہا کہ دبئی جا کر جنرل پرویز مشرف سے ملو اور اسے معاف کرآئو اور ان کا یہ کہنا کہ یہ نہ سمجھنا کہ مجھے اس حالت تک عافیہ کے غم نے پہنچایا ہے اگر عافیہ کا غم ہوتا تو میں اسی روز مرگئی ہوتی جب اسے تین کمسن بچوں سمیت اغواء کیا گیا تھا، مجھے تو غم اپنے حکمرانوں کی بے حسی کاہے اور وہ کہتی تھیں کہ میں مرجائوں تو افسوس نہ کرنا کہ عافیہ سے مل نہ سکی ۔ان کے کہنے کا مقصد یہ تھا کہ مومن کو تو کانٹا چبھنے پر بھی اجر ملتا ، مجھے اور عافیہ کو اتنا بڑا غم برداشت کرنے پر کتنا اجر مل رہا ہوگا ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button