تازہ ترینخبریںصحتصحت و سائنس

رات دیر سے سونے والوں کیلئے خطرے کی گھنٹی بج گئی

اگر آپ رات دیر سے سو کر دن چڑھنے کے بعد جاگتے ہیں تو جان لیں کہ آپ کی صحت کو ٹائپ 2 ذیابیطس اور عارضہ قلب کا شدید خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔

ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ رات دیر گئے تک جاگنے والے افراد کا فٹنس لیول کم رہا اور آرام کرتے ہوئے یا دیگر سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہوئے وہ جلد سونے والے افراد کے مقابلے کم چکنائی جلاتے ہیں۔

فزیولوجیکل سوسائٹی نامی جنرل میں شائع ہونے والی تحقیق میں یہ بھی کہا گیا کہ رات دیر سے سونے والوں کے جسم میں انسولین کے خلاف زیادہ مزاحمت کا امکان ہوتا ہے، یعنی ان کے پٹھوں کو زیادہ انسولین کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ اپنی مطلوبہ توانائی حاصل کرسکیں۔

نیوجرسی کی روٹگرز یونیورسٹی کے شعبہ صحت سے منسلک سینئر محقق اسٹیون میلن کا کہنا تھا کہ ‘انسولین وہ جز ہوتا ہے جو کسی بھی پٹھے کو اسفنج کی طرح خون سے کلوگوز جذب کرنے میں مدد دیتا ہے’۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک اسفنج فوری پانی کے قطرے کو اپنے اندر جذب کر لیتا ہے، اسی طرح اگر آپ ورزش نہیں کرتے اور اپنے پٹھوں کو متحرک نہیں رکھتے تو وہ کچھ روز میں پتھر کی طرح ٹھوس بن جائیں گے اور پھر پانی کے قطرے انہیں نرم نہیں کر سکیں گے۔

سینئر محقق نے کہا کہ اگر نیند آپ کے جسم میں انسولین کے استعمال اور میٹابولزم پر اثر انداز ہوتی رہی ہے تو دیر سے سونے والوں کے ذیابیطس ٹائپ 2 اور عارضہ قلب کے خطرے کی پیش گوئی کی جاسکتی ہے۔

شکاگو کی نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی فین برگ اسکول آف میڈیسن کے ڈاکٹر فلیز زی نے کہا کہ ‘اس بات کے واضح شواہد موجود ہیں کہ دیر سے سونے کا تعلق میٹابولک اور دل کی بیماری کے خطرے سے ہے’۔

انہوں نے بتایا کہ دیگر عناصر مثلاً نیند کی کمی، دوپہر میں دیر سے کھانا، صبح کی روشنی سے محروم رہنا بھی انسولین کی حساسیت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

ہر انسان کے جسم میں ایک اندرونی 24 گھنٹے کی گھڑی ہوتی ہے جو نیند لانے کے لیے میلاٹونن نامی ہارمون کے اخراج کو منظم کرتی ہے اور جگانے کے لیے اس کی پیداوار روکتی بھی ہے۔

ہماری جسمانی گھڑی اس وقت بھی ہدایت کرتی ہے جب ہمیں بھوک لگتی ہے، جب ہم سب سے زیادہ سست محسوس کرتے ہیں یا جب ہم بہت سے دیگر جسمانی افعال کے علاوہ ورزش کرنے کے لیے ارادہ محسوس کرتے ہیں۔

تحقیق میں کہا گیا کہ رات دیر سے سونے سے دن بھر میں آپ کی سرگرمیاں سست پڑ سکتی ہیں۔

روایتی طور پر طلوع آفتاب اور رات کا وقت انسان کے سونے اور جاگنے کے چکر کو منظم کرتا ہے، دن کی روشنی آنکھوں میں داخل ہوتی ہے، دماغ تک سفر کرتی ہے اور ایک سگنل بند کرتی ہے جو میلاٹونن کی پیداوار پر زور دیتا ہے۔

اسی طرح جب سورج غروب ہوتا ہے تو جسم کی گھڑی میلاٹونن کی پیداوار کو دوبارہ شروع کردیتی ہے اور چند گھنٹے بعد نیند آتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button