Ali HassanColumn

فیاضی اور فطرت کا تعلق ۔۔ علی حسن

علی حسن

میر منور تالپور صوبہ سندھ کے بڑے زمیندار ہیں۔ ضلع میر پور خاص اور دیگر علاقوں میں ان کی زرعی زمینیں ہیں۔ سماجی حیثیت بھی رکھتے ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے سیلاب زدہ لوگوں میں پچا س روپے فی کس کے حساب سے مدد تقسیم کی جس کی وڈیو بھی وائرل ہوئی۔ منور تالپور کی اس ’’فراخ دلی‘‘ کے بڑے چرچے ہوئے۔ منور تالپور، فریال تا لپور کی شوہر نامدار ہیں۔ فریال تالپور سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری کی ہمشیرہ ہیں۔ ان کے گھرانے کے پاس پیسوں کی کسی بھی طرح کوئی کمی نہیں ۔منور تالپور جن افراد کے درمیان کھڑ ے ہوکر فراخ دلی کا مظاہرہ کر رہے تھے ، وہ کوئی غیر نہیں بلکہ ان کی زمینوں پر کام کرنے والے ہاری ہیں۔ 2011 میں اور اب 2022 میں جو بارشیں سیلاب میں تبدیل ہو گئی ہیں، اس سے متاثر ہونے والے بے زمین کسانوں کو ان کے زمینداروں نے کوئی مدد کرنے یا انہیں سہارا دینے کی بجائے ’’ کہیں بھی جا کر ‘‘‘ پناہ لینے کا حکم دیا اور ایک طرح سے ان لوگوں کو بے دخل کر دیا۔ یہ ایک الگ کہانی ہے کہ ہاریوں یا کسانوں کے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوتا ہے جس پر پھر کسی موقع پر بحث کی جا سکتی ہے۔ ابھی تو میر منور علی تالپور جو خیر سے قومی اسمبلی کے رکن ہیں اور گزشتہ کئی سالوں سے منتخب ہوتے چلے آرہے ہیں۔ منور تالپور اور فریال تالپور کی دو اولادوں میں سے ایک نوجون بیٹے نے خود کشی کر لی تھی اور بیٹی ذہنی معذوری کی وجہ سے زیر علاج ہے۔ ان کی فیاضی پر بات ہو رہی ہے۔ فیاضی اور سخاوت میں سندھ کے ایک وقت میں وزیراعلیٰ جام صادق کے والد کے چرچے ہوتے تھے ۔ ان کا دستر خوان ہر وقت بچھا رہتا تھا۔ تھرپارکر کے ارباب امیر حسن کے بارے میں تو مشہور تھا کہ وہ گھر آئے کسی بھی شخص کو روٹی کھائے بغیر جانے نہیں دیتے تھے، وہ دور سے ٓآنے والے شخص کو آرام کرنے کی سہولت فراہم کرتے تھے اور واپس جاتے ہوئے ، آنے والے کی مالی حیثیت دیکھ کر اسے زاد راہ دیا کرتے تھے۔
دیوان سنگھ مفتون نے اپنی کتاب ’’سیف و قلم ‘‘ میں جو ناقابل فراموش کا دوسرا حصہ ہے، ’’ فیاضی اور فطرت کا تعلق ‘‘ کے عنوان سے ایک مضمون میں لکھا ہے ’’ انسان کے فایض یا کفایت شعار ہونے کا تعلق اس کی فطرت سے ہے، اور اس کی فطرت کا اندازہ اس کے بچپن کے زمانے سے ہی کیا جا سکتا ہے، اور اس کا تعلق روپیہ کم یا زیادہ ہونے سے قطعی نہیں ۔ یعنی ایک غریب اور مفلس شخص بھی فیاض ہو سکتا ہے اور ایک کروڑ پتی کا بھی کفایت شعار اور کنجوس ہونا ممکن ہے، جو ایک پیسہ صرف نہ کرتا ہو۔
’’ موجودہ مہاراجہ ( یہ مضمون قیام پاکستان سے قبل لکھا گیا تھا) پٹیالہ کے بچپن کا زمانہ تھا کہ آپ ایک پارسی کرنک مستری کی تحویل میں تھے۔ یہ کرن مستری دن رات مہاراجہ (جو اس زمانے میں ولی عہد تھے) کی نگرانی کرتے ۔ ایک روز کرنل مستری ان مہاراجہ کو کرکٹ دکھا رہے تھے ، تو دیکھا کہ کرکٹ کے سامان میں ایک گیند پڑی ہے، جو پھٹ چکی ہے۔ کرنل مستری نے جب یہ گیند دیکھی تو آپ نے ملازم کو حکم دیا کہ اس گیند کو پھینک دیا جائے اور اس کی جگہ نئی گیند رکھی جائے،یہ مہا راجہ (ولی عہد) قریب ہی کھڑے تھے اور ان کی عمر تیرہ برس کی تھی۔ انہوں نے کرنل مستری سے کہا اس گیند کو پھینکئے نہیں، موچی سے سلوا لیجئے، یہ کوئی روز اور کام دے گی۔ کرنل مستری نے ولی عہد کے منہ جب یہ الفاظ سنے تو وہ بہت حیران ہوئے کیو ں کی ایک فیاض شخص کے منہ سے ان الفاظ کا نکلنا ان کی توقع کے خلاف تھا۔ اس ولی عہد کے والد کو یعنی مرحوم مہاراجہ پٹیالہ کو کرنل مستری نے جب ولی عہد کا یہ واقعہ سنایا تو مرحوم مہاراجہ کو بہت صدمہ ہوا۔ انہوں نے محسوس کیا کہ یہ بر خور دار فطرتاًفیاض نہیں اور کسی ریاست کے حکمران کیلئے فیاض نہ ہونا ایک بہت بڑی کمزوری ہے۔ جو اس کیلئ مہنگی ثابت ہوا کرتی ہے۔کیوں کہ مرحوم مہاراجہ پٹیالہ جیسا فیاض شخص والیان ریاست کے حلقہ میں پیدا ہی نہ ہوا تھا ، جس نے اپنی زندگی میں کروڑوں روپیہ (اس زمانے میں) صرف کیا۔ مرحوم کے ساتروں کا ہی اثر تھا کہ آپ جب تک زندہ رہے، خزانہ میں روپے کی کبھی کمی نہ ہوئی، اور موجودہ مہاراجہ (ولی عہد) کے ستاروں کے اثرات کو سمجھئے کہ آپ فطرتاً بے حد کفایت شعار ہیں، اور کسی دوسرے کا سوال ، آپ کے بھائی ، بہنیں اور قریبی عزیر بھی آپ کی کفایت شعاریوں سے نالاں ہیں‘‘۔ دیوان سنگھ مفتون نے ایسے درجنوں واقعات لکھے ہیں۔
سندھ میں سیلاب سے نبرد آزما لوگ کیا کریں کہاں جائیں، کس کو شکایت کریں۔ وہ جن جن لوگوں کے پاس کام کرتے تھے، جن جن لوگوں کی خدمت داری کی ذمہ داری انجام دیتے تھے، بوقت ضرور ت پیسہ ہونے کے باوجود ہاتھ کھینچ لیتے ہیں۔ ان سب کا ایک ہی خیال ہوتا ہے کہ حکومت ان کی دیکھ بھال کرے گی۔ حکومت ایسی کہ امتحان کا یہ وقت گزرنے کے بعد کسی سے نہیں پوچھے گی کہ یہی لوگ ’’اکثر متاثرین‘‘ آپ کی خدمت انجام دیتے ہیں تو آپ ان کی دیکھ بھال کیوں نہیں کرتے۔ متاثرین پانی کی نکاسی کا مطالبہ تو حکومت سے کر رہے ہیں، زمینداروں کو اصولاً پانی کی نکاسی کا انتظام خود کرنا چاہیے، لیکن اس پر ڈیزل کا پیسہ، موٹر کاکر ایہ، مزدور ی وغیرہ کا خرچ یہ ’’ غریب‘‘ زمیندار نہیں لگا سکتے تو حکومت کرتی ہے، لیکن یہ زمیندار تو اپنے ہاریوں اور علاقہ کے ضرورت مندوں کو دو وقت کی روٹی تو فراہم کر سکتے ہیںمگر ان سے وہ بھی نہیں ہوتا ہے۔ البتہ انتخابات کے وقت تو پیسے کو پانی کی طرح بہاتے ہیں۔ ضلع نوشہرو فیروز میں ایک بڑے زمیندار ہوتے ہیں، انتخابات میں حکمران جماعت کے ٹکٹ پر کامیاب ہوتے رہتے ہیں۔ جب لوگ پانی میں گھر گئے تو ان کے در دولت پر حاضری دی اور عرض کہ پانی نکلوانے کا کوئی کام کیا جائے۔ شاہ صاحب نے اپنے ملازم کو حکم دیا کہ انتخابات کے زمانہ کا رجسٹر لائو، جب رجسٹر آگیا تو انہیں نے کہا کہ دیکھو رجسٹر میں ان لوگوں کے نام ہیں۔ ملازم نے بتا یا کہ ان کے نام موجود ہیں۔ شاہ صاحب نے سائلین سے فرمایا کہ آپ لوگوں نے تو مجھے ووٹ دینے کے پیسے لیے تھے، اب پانی نکلوانے کی ذمہ داری میری کیوں بنتی ہے۔ آپ لوگ چلے جائیں۔ شاہ صاحب سے تو لوگوں کی ملاقات بھی ہو گئی لیکن اکثر زمیندار تو ملاقات ہی نہیں کرتے۔ ان کے ملازم صرف ایک ہی جواب دیتے ہیں کہ ’’سائیں آرام فرما رہے ہیں‘‘۔ اس تماش گاہ میں جب بھی حالات معمول پر آتے ہیں، حکومت کو سوچنا پڑے گا کہ کس کی کیا ذمہ داری ہے اور کون یہ ذمہ داری ادا کرنے کا پابند ہوگا۔ حالات تو تبدیل ہوتے ہیں اسی لیے مشہور شاعر جگر مراد آباد ی نے کہا ہے کہ
طول شب فراق سے نہ گھبرا اے جگر
ایسی بھی کوئی شام ہے جس کی سحر نہ ہو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button