ColumnRoshan Lal

سمر قند اعلامیہ ۔۔ روشن لعل

روشن لعل

شنگھائی تعاون تنظیم کی دو روزہ کانفرنس (15 تا 16 ستمبر 2022) وسط ایشیائی ریاست ازبکستان کے تاریخی شہر سمرقند میںمنعقد ہوئی ۔ کانفرنس میں دیگر رکن ممالک کے حکومتی و ریاستی سربراہان میں وزیر اعظم شہباز شریف بھی شامل تھے، جنہوں نے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری اور دیگر لوگوں کے ساتھ شرکت کی۔ کانفرنس کے آخری روز تنظیم کے رکن ممالک کے رہنماؤں نے سمر قند اعلامیہ کے نام سے تیار کی گئی دستاویز پر دستخط کیے اور میڈیا کے لیے جاری کیا ۔ اعلامیے کے متعلق کہا جارہا ہے کہ اسے خاص طور پر اس پہلو کو مدنظر رکھ کر تیار کیا گیا کہ تشویش ناک تبدیلیوں کے دور سے گزرنے والی ہماری دنیا کو اس وقت کس قسم کے چیلنجوں اور خطرات کا سامنا ہے ۔تنظیم کے اجلاس میں دنیا کو درپیش خطرات کے پیش نظر ایسے طریقے متعارف کرانے پر زور دیا گیا جن سے علاقائی استحکام، پائیدار اقتصادی ترقی، نقل و حمل اور مواصلاتی روابط کو مضبوط بنانا یقینی ہو سکے۔اس عزم کا اظہار بھی کیا گیا کہ یہ تنظیم عالمی سطح پر ملکوں کے باہمی تعلقات کو زیادہ جمہوری اورمبنی بر انصاف اصولوں کے مطابق استوار کرنے کے لیے کردار ادا کرے گی۔ شنگھائی تعاون تنظیم سے وابستہ ممالک نے زور دیا کہ ہر ملک کے اس حق کا احترام ہونا چاہیے کہ وہ جیسے چاہے اپنے لیے سیاسی، اقتصادی اور سماجی ترقی کے راستوں کا انتخاب کرے۔ کسی بھی ملک کی قومی خودمختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت جیسے معاملات میں مداخلت کیے بغیر دوسرے ممالک ، مساوات اور باہمی مفادات کے احترام کے اصولوں کے مطابق اس کے ساتھ تعلقات قائم کریں ۔ بین الاقوامی سطح پر ملکوںکے درمیان مستحکم تعلقات کے فروغ کے لیے ضروری قرار دیا گیا کہ کوئی بھی ملک نہ تو کسی دوسرے ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرے اور نہ ہی طاقت کا استعمال کرے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں اس عزم کا اظہار بھی کیا گیا کہ رکن ممالک دنیا میں امن اور سلامتی کے مستحکم قیام کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھیں گے اور ہر قسم کے تنازعات نمٹانے کے لیے سیاسی اور سفارتی ذرائع استعمال کرکے رکن ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنائیں گے۔ تنظیم کے رکن ممالک نے دنیا بھر میں دہشت گردوںکی کارروائیوں کی مذمت کی اور ایسے حالات کو ختم کرنے کا ارادہ ظاہر کیا جو دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی کے لیے سازگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
تنظیم کے رکن ممالک نے اپنے اعلامیہ کے ذریعے بیرونی دنیا کو باور کرایا کہ وہ انفارمیشن اور کمیونی کیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں عسکریت پسندی کی سختی سے مخالفت کرتے ہیں اور اس امرکی حمایت کرتے ہیں
کہ ہر ملک ذمہ داری کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے اس شعبے میں عسکریت پسندی کے امکان کے خاتمے کے لیے نہ صرف اصول اور ضابطے تشکیل دے بلکہ خود کو ان کا پابند بھی بنائے۔
دنیا میں ایٹمی اسلحہ کی تخفیف کے حوالے سے جاری مہم پر بات کرتے ہوئے اس موقف کا اظہار کیا گیاہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک، جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر عمل درآمد کے سلسلہ میں تمام ریاستی فریقوں کے متوازن اور اصولوں کے مطابق کردار کی ادائیگی کے متمنی ہیں اور جوہری توانائی کے پرامن استعمال کے لیے باہمی تعاون کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔
تنظیم کے تمام رکن ممالک کے سربراہان نے آمادگی ظاہر کی کہ وہ اپنے ملک کے قانون ساز اداروں کے ساتھی ملکوں کے اداروں کے ساتھ باہمی روابط قائم کرنے اور انہیں فروغ دینے کے لیے تعاون کریں گے تاکہ ان کے درمیان حکمرانی کے تجربات کا تبادلہ ہو اور انہیں ایک دوسرے سے سیکھنے کا موقع مل سکے۔ قانون ساز اداروں کے باہمی روابط کے علاوہ رکن ممالک نے مختلف شعبوں میں علاقائی سطح پر اقتصادی تعاون بڑھانے ، تجارت و سرمایہ کاری کے لیے حالات کو زیادہ سازگار بنانے اور ان میں بہتری لانے کے لیے ایسی تجاویز پیش کیں جن پر عملدرآمد سے اجناس، سرمائے، خدمات اور ٹیکنالوجی کی آزادانہ نقل
و حمل کو حقیقی روپ دینا ممکن ہو سکے۔ تنظیم کے رکن ممالک نے جدید صنعت کاری کے فروغ اور غربت میں کمی جیسے اقدامات کو ممکن بنانے کے لیے ٹاسک فورسز کے قیام کی قرارداد بھی منظور کی۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان مملکت کی کونسل کے 22ویں اجلاس میں کئی ایسی دستاویزات اور بیانات بھی جاری کیے گئے جو عالمی سطح پر غذا کی دستیابی اور فراہمی کے تحفظ، توانائی کی ترسیل کے تحفظ ، موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والے مسائل سے نمٹنے اور سپلائی کے محفوظ، مستحکم اور متنوع سلسلے کو برقرار رکھنے جیسے امور سے متعلق تھے۔
شنگھائی تعاون تنظیم اعلامیے میں جو سفارشات طے کی گئیں انہیں مجموعی طور پر مثبت تصور کرنے کے علاوہ ان کے علاوہ کوئی دوسری رائے نہیں دی جاسکتی۔ ان سفارشات کو مثبت تصور کرنے کے بعد اگر ان پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے بارے میں سوچا جائے تو مثبت نظر آنے والی یہ سفارشات خواب و خیال سا محسوس ہونے لگتی ہیں۔ شنگھائی فائیو کے نام سے روس اور چین کی سرکردگی اور قازقستان، کرغیزستان اور تاجکستان کی شمولیت سے 1996 میں قائم ہونے والی تنظیم کو 2001 میں اس وقت وسعت دیتے ہوئے شنگھائی تعاون تنظیم کا نیا نام دیا گیا جب ازبکستان کو بھی اس کا رکن بنا لیا گیا ۔ 2017 میں پاکستان اور بھارت کو ایک ساتھ اس تنظیم میں شامل کیا گیا۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے سمرقند میں منعقدہ حالیہ اجلاس میں ایران کو اس کا نیا رکن بنایا گیا ہے ۔ ایران کے رکن بن جانے کے بعد منگولیا، بیلا روس اور افغانستان بھی اس کی مکمل رکنیت کے امیدوار ہیں۔ افغانستان اس کی مکمل رکنیت کا امیدوار تو ہے مگر طالبان کی حکومت تسلیم نہ کیے جانے کی وجہ سے اسے سمر قند کانفرنس میں مدعو نہیںکیا گیا ۔ ان ملکوں کے علاوہ آرمینیا، آذربائیجان،کمبوڈیا، نیپال ، سری لنکا اور ترکی کو اس تنظیم میں ڈائیلاگ پارٹنرز ممالک کا درجہ دیا گیا ہے۔ مذکورہ تمام ملکوں کے علاوہ کئی دیگر ممالک بھی مختلف حیثیتوں میں اس تنظیم سے وابستہ ہونے کے خواہشمند ہیں ۔ مختلف ملکوں کی طرف سے اس طرح کی خواہش رکھنے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم دنیا کے ایک بہت بڑے ادارے کے طور تشکیل کے مراحل سے گزر رہی ہے۔ اس تنظیم میں شامل ممالک کا اگر دنیا کی جی ڈی پی میں حصہ 30 فیصد ہے تو آبادی میں 40 فیصد ہے۔
جہاں اس تنظیم کے مثبت اشاریوں کی بدولت اس سے بہت زیادہ توقعات وابستہ ہیں وہاں اس کے اندر موجود تضادات کی وجہ سے کچھ سوالیہ نشان بھی۔ اس کے تضادات یہ ہیں کہ اس کے رکن پاکستان اور انڈیا کے سربراہان حکومت نے کانفرنس کے دوران اگر ایک دوسرے سے ملنا بھی پسند نہ کیا تو چین اور انڈیا کے حکمرانوں نے خود کو صرف ایک دوسرے سے ہاتھ ملانے تک محدود رکھا۔ اس طرح کے تضادات کی وجہ سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ تنظیم کے اعلامیے میں سفارشات کی شکل میں جو اہداف طے کیے گئے ہیں انہیں حاصل کرنا کیسے ممکن ہو سکے گا۔ ان سوالات کے باوجود تنظیم کے اعلامیے کو مثبت پیش رفت کے علاوہ کچھ اور تصور نہیں کیا جاسکتا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button