ColumnM Anwar Griwal

رگڑا جانا ناک کا ! ۔۔ محمد انور گریوال

محمد انور گریوال

ہر چند کہ آنکھیں، ہونٹ اور کان بھی قدرت کی صناعی کے شاہکار ہیں، مگر حضرتِ انسان کے چہرے پر ناک کی اپنی ہی اہمیت ہے۔ کشش اور خوبصورتی میں بڑا کردار ناک کا ہے، یہی وجہ ہے کہ چہرے کی بناوٹ پر بات کرنے کے لیے چہرے پر موجود دیگر اعضاء کی بجائے ’’ناک نقشہ‘‘ کا ہی ذکر کیا جاتا ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ آنکھوں کی ہمسائیگی میں قیام پذیر ہونے کے باوجود انسان آئینہ کے بغیر اپنی ناک نہیں دیکھ سکتا۔ شاید چراغ تلے اندھیرا اسی بات کو کہتے ہیں۔ تاہم ایک آنکھ بند کرکے کوشش کی جائے تو ناک کی کچھ جھلک دیکھنے کو مل جاتی ہے۔ ناک تو ہر کسی کی اپنی اپنی اور الگ الگ شکل کی ہے، پسند بھی ہر کسی کی اپنی اپنی ہے، لیکن یہ بناوٹ کسی کے بس کا روگ نہیں، مصوّرِ کائنات نے جیسا چاہا ویسا بنا دیا۔ جاپان ، کوریا اور چین وغیرہ کے لوگوں کی ناک اور سائز میں ہے تو افریقہ کا ماحول مزید مختلف ہے، برِصغیر کی اور کہانی ہے۔
ناک نے چونکہ چہرے کے وسط میں قبضہ جما رکھا ہوتا ہے، اس لیے بہت سے محاورے ناک کی اہمیت سے جُڑے ہوئے ہیں۔اگر انا کو ذرا سی ٹھیس پہنچے تو کہا جاتا ہے کہ’’ مر جائیں گے، ناک نہیں کٹنے دیں گے ‘‘۔ اور جب عزت وغیرہ میں کمی کا کوئی واقعہ رونما ہو جائے تو یہ کہا جاتا ہے کہ ’’ برادری میںہماری ناک کٹوا دی‘‘۔ اِسی محاورہ کو بعض ظالم عملی جامہ بھی پہنا دیتے ہیں، حقیقی معنوں میں ناک کٹ جائے تو انسان دوسروں کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہتا۔ موم کی ناک بھی یار لوگ محاورے کے طور پر استعمال کرتے ہیں، اپنی ہی عزت کو جو چاہا رُخ دے دیا، حسبِ موقع اور حسبِ ضرورت جب چاہا ، جس طرف چاہا ناک کو موڑ لیا۔ کوئی غلط کام کسی کی موجودگی میں سرانجام پا رہا ہو ، تب بھی یہی کہا جاتا ہے کہ فلاں کی ناک کے نیچے یہ کام ہو رہا ہے۔ ناک کا بال ہونا بھی اس وقت بولا جاتا ہے جب کوئی صاحب کسی کی گرفت سے باہر نہ ہو۔ لونگ کے لشکارے پر تو گیت بھی لکھے گئے، ’’تیرے لونگ دا پیا لشکارا ، تے ہالیاں نے ہل ڈَک لیے‘‘۔ خواتین ناک میں سوراخ کرکے زیور سے اپنے حُسن کو چار چاند لگاتی ہیں۔
چشمہ دھوپ کا ہو یا نظر کا یا پھر حسبِ توفیق تعصب کا، اُس کی کُنڈیاں کانوں میں ڈال کے ، اسے بٹھایا ناک پر ہی جاتا ہے، ویسے تو ناک پر مکھی نہ بیٹھنے دینا کا محاورہ بھی نخرے وغیرہ میں آتاہے، مگر عینک وہ مجبوری ہے جسے انسان خود ناک پر بٹھا کر اس میں سے جھانکتا ہے۔یہ الگ بات ہے کہ ہر کوئی اپنی حیثیت کے مطابق چشمہ پہن کر قدرتی صناعی میں مصنوعی حُسن کا تَڑکا لگانے کی کوشش کرتا ہے۔ ناک بھوں چڑھانا بھی محاورے کے ضمن میں آتا ہے، جیسا کہ عموماً دیکھنے میں آتا ہے کہ نخرے کا ناک سے بہت قریبی تعلق ہے،اسی لیے ناک بھوں چڑھانے کے ساتھ ناک سُکیڑا بھی جاتا ہے۔ ناک کا ایک اور اہم استعمال یہ ہے کہ سونگھنے کے کام بھی آتا ہے، اگر کبھی سونگھنے کی حِس ختم ہو جائے یا کمزور پڑ جائے تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا بہتر ہے کیونکہ ہو سکتا ہے کووڈ یعنی کرونا پازیٹو آچکا ہو اور ہمیں خبر بھی نہ ہو۔
غیر مہذب اور کسی حد تک جاہلیت کے حامل معاشرے میں کسی کو سزا دینے، بے عزت کرنے یا کسی کام سے توبہ کروانے کے لیے ناک سے لکیریں نکلوائی جاتی ہیں۔ جاگیر دار طبقہ غریب مزارعین کے
ساتھ یہ کام کرتا ہے، ظالم مظلوم کے ساتھ یہ رویہ اپناتا ہے، کوئی چور وغیرہ رنگے ہاتھوں پکڑا جائے تو اُس کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ انسان کی عزت کا استعارہ ناک، زمین پر رگڑا جائے تو بے عزتی کی انتہا ہے۔ گزشتہ دنوں اپنے وزیراعظم نے قوم کو بتایا کہ آئی ایم ایف قرضہ دینے کے لیے ناک رگڑواتا ہے۔ دوسری طرف قوم مہنگائی، بجلی کے بلوں، سیلاب کی تباہ کاریوں اور حکمرانوں کی عیاشیوں کو دیکھ کر ناک سے لکیریں نکالنے پر مجبور ہے۔ یعنی ہم پاکستانی مجموعی طور پر ناک رگڑنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ اس سلسلے میں حکومت اور عوام ایک ہی کشتی کے سوار ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ حکومت آئی ایم ایف کے سامنے ناک رگڑتی ہے تو انہیں آئی ایم ایف کی جانب سے ڈالر ملتے ہیں، یعنی ذلت کے بدلے ڈالر۔ اُدھر ہم ہیں، حکومت کے سامنے چوبیس گھنٹے ناک رگڑتے، گڑگڑاتے، منت و فریاد کرتے ہیں ، جواب میں ڈالر تو درکنار روپیہ بھی نہیں ملتا، بلکہ اُلٹا مہنگائی کا طوفان،بجلی کی قیمتوں میں بے انتہا اضافہ، دال سبزی کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتیں، سیلاب اورٹرانس جینڈر جیسے بے ہودہ اور مکروہ قوانین ہمارے مقدر میں ہیں۔ وہ ناک رگڑیں تو ڈالر پائیں، ہم ناک رگڑیں تو مہنگائی اور بے حدو حساب مسائل کا سامنا کرنا پڑے۔ ناک ناک کی بات ہے، کہاں حکمرانوں کی ناک؟ عوام کا خون پی پی کر اور بھی اونچے مزاج والی، لوگوںکے حقوق کھا کھا کر بے حس ہو جانے والی ۔ کہاں عوام کی بے وقعت اورکم تر ناک۔ اگر حکومت اپنی ناک رگڑ کر ڈالر حاصل کرتی ہے، اور عیاشیاں کرتی ہے، تو عوام کے ناک رگڑنے پر اُن کے لیے کچھ مراعات اور ریلیف کا اعلان ہی کردے، آخر عوام بھی ناک تو رکھتے ہیں نا!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button