تازہ ترینخبریںپاکستان سے

ورلڈ بنک کے دبائو پر ہائی ٹرانسمیشن لائن کا ٹھیکہ نااہل کمپنی کو دیدیا گیا

لاہور(رپورٹ:ضیاءتنولی) ورلڈ بینک کا دباﺅ یا اندرونی مداخلت؟ وزارت توانائی حکومت پاکستان کی ہدایات کو رد کرتے ہوئے نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی لمیٹڈ (NTDC) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے داسو تا مانسہرہ پاکستان میں بجلی کی پہلی سب سے بڑی ترسیلی 157کلومیٹر طویل ٹرانسمیشن لائن بچھانے کا 23,061,109.33یو ایس ڈالر کا ٹھیکہ چینی کمپنی سائنو ہائیڈرو کارپوریشن لمیٹڈ کو دے دیا ہے۔

ملک کی پہلی 765میگا واٹ کی داسو تامانسہرہ ٹرانسمیشن لائن بچھانے کا ٹھیکہ حاصل کرنے والی چینی کمپنی سائنو ہائیڈروکارپوریشن لمیٹڈ کو ٹھیکہ ملنے سے قبل ہی مختلف الزامات کا سامنا رہا ۔ جہان پاکستان انویسٹی گیشن سیل کو دستیاب دستاویزات کے مطابق اِس منصوبے کا ٹھیکہ حاصل کرنے کے لیے چینی کمپنی سائنو ہائیڈرو کارپوریشن لمیٹڈ کارپوریشن سمیت پانچ مختلف بین الاقوامی کمپنیوں نے ٹینڈرز جمع کرائے لیکن چینی کمپنی کو منصوبے کی کنسلٹنٹ جرمنی کی کمپنی ”گوپا“ اور عالمی بینک کے نو آبجیکشن لیٹرز(NOL)بھی حاصل تھے،

اسی لیے مقامی ذمہ داران کا ٹھیکہ دینے کے لیے جھکاﺅ بھی اسی طرف نظر آیا مگر اس دوران یہ حقائق بھی سامنے آئے کہ سائنو ہائیڈرو کارپوریشن تمام تر تکنیکی کاموں سے ناواقف ہے اورصرف سول ورکس کا ہی تجربہ رکھتی ہے مگر اسے عالمی بینک اور جرمن کمپنی ”گوپا“ کے سپورٹنگ ڈاکیومنٹ بھی حاصل ہیں اس کے فوراً بعد جرمنی کی کنسلٹنٹ کمپنی ”گوپا“ کے متعلق کرپشن اور نااہلی جیسے الزامات اور ورلڈ بینک کا اسی کمپنی کو ٹھیکہ دینے کے لےے دباﺅ بھی سامنے آیا ۔

جہان پاکستان کے انویسٹی گیشن سیل کو موصولہ دستاویزات کے مطابق وزارت توانائی کی جانب سے نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی( این ٹی ڈی سی)کو تحریری طور پراِس سارے معاملے خصوصاً جنرل منیجر این ٹی ڈی سی اشعر علی کیخلاف تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے کہاگیا کہ سارے معاملے اور جی ایم این ٹی ڈی سی کی تحقیقات ، این ٹی ڈی سی کا بورڈ آف ڈائریکٹر ہی کرے گا اور اس معاملے کی صاف و شفاف تحقیقات کرکے رپورٹ کووزارت توانائی حکومت پاکستان کو جمع کرائی جائے۔

ذرائع کے مطابق ابتدامیں اِس بڑے منصوبے سے متعلق حیران کن انکشافات سامنے آنا شروع ہوئے تو عالمی بینک نے حکومت پاکستان پر اِس منصوبے سے متعلق سامنے آنے والے انکشافات اور چینی کمپنی سائنو ہائیڈرو کارپوریشن سے متعلق تمام تر معاملات کو صاف و شفاف قراردینے کے لیے دباﺅ ڈالنا شروع کردیااور یوں عالمی اداروں کاکرپشن اور شفافیت پر دوہرے معیارکھل کر سامنے آیا ۔متذکرہ معاملے میں وزارت توانائی کے خط کی روشنی میں این ٹی ڈی سی کے بورڈ آف ڈائریکٹرزنے اِس تمام معاملے کی صاف و شفاف تحقیقات کرکے وزارت توانائی حکومت پاکستان کو آگاہ کرنا تھا کیونکہ اِس معاملے میں جی ایم این ٹی ڈی سی اشعر علی پر شک ظاہر کیا جارہا تھا کہ چینی کمپنی کو ٹھیکہ دلوانے میں ان کامرکزی کردار ہے۔

جہان پاکستان انویسٹی گیشن سیل کو موصول ہونے والی دستاویزات کے مطابق وزارت توانائی نے رواں سال مئی میں این ٹی ڈی سی کو ہدایات دیتے ہوئے کہاگیا کہ وہ امر کی تحقیقات کرکے وزارت توانائی کو پیش کرے تاہم این ٹی ڈی سی حکام کی جانب سے ان ہدایات کو رد کردیاگیا اور وزارت توانائی نے روزنامہ جہان پاکستان کو بتایا ہے کہ اس حوالے سے این ٹی ڈی سی حکام کو ریمائنڈر لیٹر بھی لکھاگیا لیکن اس اہم ترین انکوائری کو تاحال سرد خانے کی نذررکھاگیااور نئی صورت حال میں این ٹی ڈی سی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے اسی چینی کمپنی سائنو ہائیڈرو کارپوریشن کو داسو تا مانسہرہ ٹرانسمیشن لائن بچھانے کا ٹھیکہ دے دیا ہے لیکن اِس تمام معاملے میں ابتک سامنے آنے والے الزامات پر تحقیقات ہوئیں اور نہ ہی کوئی جواب سامنے آیا ہے اور وزارت توانائی نے این ٹی ڈی سی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کو اِس معاملے کی تحقیقات کے لیے ہدایات کی تھیں۔

ذرائع کے مطابق این ٹی ڈی سی کے نئے بورڈ کے ممبران کی تقرری کے لیے وزیراعظم شہبازشریف کو سمری ارسال کردی گئی ہے اور وزیراعظم کی وطن واپسی پر نئے بورڈ کی فوری تشکیل کی منظوری مل جائے گی۔ واضح رہے کہ این ٹی ڈی سی کاموجودہ بورڈ آف ڈائریکٹرز اس معاملے پر اپنا موقف دینے سے گریزاں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button