ColumnImtiaz Aasi

اسلامی اخوت کے مظاہرے کی ضرورت ۔۔ امتیاز عاصی

امتیاز عاصی

بیرونی دنیامیں جب کسی قوم پر مشکل وقت آتا ہے تو ساری قوم مشکل میں پھنسے لوگوں کی امداد کیلئے یکجا ہو جاتی ہے۔جب سے مسلمانوں نے قرآنی تعلیمات سے روگردانی کی، مشکلات ہمارا مقدر بن گئیں۔ہم جنہیں اغیار کہتے ہیں انہوں نے خلفائے راشدین کی اصلاحات اپنا کر ترقی کی منازل طے کیں۔ ڈنمارک میں سیدنا عمر فاروق ؓدور کی اصلاحات نافذ ہیں۔ اغیار ہمارے خلفائے راشدین دورکی اصلاحات پر عمل پیرا ہو کر ترقی کر سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں کر سکتے؟اس وقت ہمارا ملک سیلابی مشکلات سے دوچار ہے۔سیاست دان سیاسی پوائنٹ سکورنگ کا کوئی موقع جانے نہیں دیتے۔حالیہ سیلابی تباہ کاریوں نے ملک و قوم کی کمر توڑ دی ہے۔مسلمانوں کی اس سے بڑی اور کیا بدقسمتی ہوگی جب کبھی ہم پر مشکل آتی ہے ہم دوسروں کی طرف دیکھتے ہیں۔چلیں اچھی بات ہے دوسرے ملکوں سے امدادی سامان کے اب تک 62جہاز آچکے ہیں۔ہم سے دوسرے ملک ترقی میں کیوں بہت آگے جا چکے ہیں ان کے ہاں اگلے بیس سالوں کی منصوبہ بندی پہلے کر لی جاتی ہے۔جب کہ ہمارے ہاں جب کوئی مشکل آتی ہے تو وقتی طور پر ہم یہ کہتے نہیں تھکتے ہم یہ کریں گے وہ کریں گے مگر عملی طور پر ہم کچھ نہیں کرتے۔جب تک مسلمان اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی تعلیمات پر عمل پیرآ رہے دنیا کی کوئی مشکل ان کے سامنے نہیں ٹھہر سکی۔جب سے مسلمانوںنے قرآنی تعلیمات سے رو گرانی کی ہم مشکلات کے گرداب میں پھنس گئے ۔
ہم سب کچھ جانتے ہوئے بھی قرآنی تعلیمات پرعمل کرنے میں پہلو تہی کرتے ہیں۔خطبہ الوداع کے موقع پر نبی آخر الزمان ﷺ نے فرمایا تھا میں تمہارے درمیان ایک ایسی کتاب چھوڑے جا رہا ہوں اگر تم اس پر عمل کرو گے تو کبھی گمراہ نہیں ہو گے۔ہم مسلمان معاشی طور پر اغیار کے دست نگر کیوں ہیں۔جب سے مسلمانوں نے اللہ سبحانہ تعالیٰ اور رسولﷺ کے بتلائے ہوئے طریقوں سے زندگی گزارنا چھوڑی ہے ہم معاشی طور پر مفلوج ہو گئے ہیں۔حکومت اپنے محدود وسائل میں رہتے ہوئے سیلاب زدگان کی ہر ممکن امداد کیلئے کوشاں ہے اس کے باوجود سیلاب زدگان کیلئے جتنی امداد کی اب ضرورت ہے پہلے کبھی نہیں تھی۔آج بیرونی دنیا نے بھی ہماری معاشی امداد سے ہاتھ اٹھا لیا ہے کبھی ہم نے اس کی وجواہات جاننے کی کوشش کی؟آخر دوسرے ملک ہماری کب تک مدد کرتے رہیں گے۔
2005میں جب آزادکشمیر میں زلزلے سے تباہی ہوئی جو ہماری تاریخ کا المناک باب ہے تو سعودی حکومت اور یو اے ای نے متاثرہ لوگوں کو مکانات تک بنا کر دیئے ۔بات پھر وہی ہے جب تک ہم اپنی حالت بدلنے کی کوشش نہیں کریں گے اس وقت تک ہم دوسروں کے محتاج رہیں گے۔ہمیں سب سے پہلے اپنے معاشی حالات بدلنے کی اشد ضرورت ہے جس کیلئے ہمیں اپنے غیر ضروری اخراجات کو ختم کرنا ہوگا۔ملکی برآمدت میں اضافے کیلئے سخت محنت کی ضرورت ہے۔جب تک برآمدت میں اضافہ نہیں ہوگا ہمیں زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کا سامنا رہے گا۔تعجب ہے ہم اٹیمی قوت تو بن گئے اس کے باوجود ہمارے ملک کا شمار مقروض ترین ملکوں میںہوتا ہے۔ہمیں اپنی معاشی پالیسوں پر نظر ثانی کرنا ہوگی۔ اس وقت ملک کا کوئی صوبہ ایسا نہیں جو سیلابوں سے متاثر نہ ہوا ہو۔ سندھ کا ضلع دادو سیلابی پانی میں ڈوبا ہوا ہے ۔گائوں کے گائوں صفحہ ہستی سے مٹ چکے ہیں۔ ہماری حکومتیں سیلابی تباہی سے محفوظ رہنے کیلئے پیشگی منصوبہ بندی کرتیں تو ہمیں اتنی بڑی تباہی کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔یہ اچھی بات ہے حکومت نے سیلاب سے متاثرہ لوگوں کے بجلی کے بلوں سے استثنیٰ دے دیا ہے۔ہمیں مشکلات کی اس گھڑی میں آپس میں دست وگریبان ہونے کی بجائے ایک دوسرے کا بازو بن کر سیلاب سے متاثرہ لوگوں کی امداد کرنی چاہیے۔ایک ایسے وقت میں جب پورا ملک سیلابوں میں ڈوبا ہوا ہے ایک دوسرے پر تنقید کا کوئی موقع جانے نہیں دیتے ہیں۔مشکلات کی اس گھڑی میں ہم جماعت اسلامی کی جیتنی ستائش کریں وہ کم ہے۔
تعجب ہے انتخابات کے موقع پر عوام اس جماعت کو ووٹ دینے سے گریز کرتے ہیں جب کبھی مشکل آئی اربوں روپے جماعت اسلامی کے امدادی فنڈ میں دے دیتے ہیں۔اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا حکومت یا کوئی بھی جماعت سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کاموں میں حصہ لینے گئی جماعت اسلامی کے کارکن پہلے سے وہاں موجود تھے لہٰذا تمام سیاسی جماعتوں کو جماعت اسلامی کی تقلید کرتے ہوئے امدادی سرگرمیوں میں اپنا حصہ ڈالنا چاہیے۔در حقیقت ہماری تمام مشکلات کاحل اللہ سبحانہ تعالیٰ کی آخری کتاب اور رسول ﷺ کے فرمودات میں مضمر ہے۔سیاست دانوں کو کم ازکم اس مشکل وقت میں متحد ہو کر سیلاب زندگان کی مدد کرنی چاہیے۔ سیاست سے ہٹ کر مشکل میں گھیرے اپنے مسلمان بھائیوں کی امداد کرکے اسلامی اخوات کا مظاہر ہ کرنا چاہیے۔ہمارا دین تو اگر پڑوس میں کوئی بھوکا ہو تو اپنے حصے کا کھانا انہیں دینے کی تلقین کرتا ہے۔یہ مال ودولت اور عالی شان محلات سب یہیں رہ جائیں گے اگر ہم خیر کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے تو اصل توشہ آخرت یہی ہے۔سیاست دانوں کو اپنے اختلافات بھلا کر مل جل کر امدادی سرگرمیوں میں
حصہ لینا چاہیے اس میں نہ کسی کی جیت ہے نہ ہار ہے۔حکومت کے پاس زکوۃ کی جو رقم موجود ہے امدادی سرگرمیوں پر خرچ کرنی چاہیے۔سیلاب زدگان سے زیادہ کوئی امداد کا حقدار نہیں ہے۔حق تعالیٰ ہمارے سیاست دانوں کو عقل سلیم دے تاکہ وہ ایک قوم بن کر مشکلات کی گھڑی میں اپنے بھائیوں کی مدد کر سکیں۔سیاست دانوں کو اس موقع پر اسلامی اخوت کا مظاہرہ کرکے مثال قائم کرنی چاہیے۔سیلاب میں گھیرے لوگوں کو انتخابات سے کیا غرض ہے انہیں تو روٹی اور رہنے کو گھروں کی اشد ضرورت ہے۔انتخابات تو ہوتے رہیں گے لہٰذا تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو بھی اپنے فیصلوں پر نظرثانی کرنی چاہیے ۔اس وقت ملک کسی قسم کی تحریک کا متحمل نہیں ہوسکتا لہٰذا زیادہ سے زیادہ سیلاب زدگان کی امداد کو ترجیح دینے کی ضرورت ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button