ColumnImtiaz Aasi

لولی پاپ کی سیاست ۔۔ امتیاز عاصی

امتیاز عاصی

کسی منتخب حکومت کو گرانے کا ظاہری مقصد تو عوام کے گونا گوں مسائل ہوتے ہیں یا پھر وہ حکومت معاشی مسائل حل کرنے میں ناکام رہتی ہے حالانکہ حقیقت میں حکومتوں کو گرانے کی ترجیحات کچھ اور ہوتی ہیں۔پی ڈی ایم نے تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف پہلے تو بغیر کسی عذر کے تحریک چلائے رکھی پھر کسی سیانے نے انہیں مشورہ دیا کہ حکومت کے خلاف مہنگائی کا عذر بنا کر تحریک چلائی جائے۔ عوام بے چارے تو سیاست دانوں کے جھوٹے وعدوں پر زندگی گذار دیتے ہیں ۔گوپی ٹی آئی کی حکومت کمزور وکٹ پر کھڑی تھی اس کے باوجود عمران خان کے دور میں ریکارڈ ریونیو جمع ہوا اور ٹیکس نیٹ میں خلاف توقع اضافہ ہوا۔تحریک انصاف کی حکومت ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کی طرف گامزن تھی کہ پی ڈی ایم نے عوام کو مہنگائی سے چھٹکارا دلانے کا لولی پاپ دے کرتحریک انصاف کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کیا،اس کے برعکس پی ڈی ایم کا اقتدار میں آنے کا اصل مقصد کچھ اور تھاجس کا عوام کو چند ہی ماہ میں علم ہو گیا۔
موجودہ حکومت نے عوام کی مشکلات کو ایک طرف رکھتے ہوئے پہلے اقدام کے طور پر اپنے خلاف نیب مقدمات ختم کرنے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر نیب قوانین میں ترامیم کیں۔ عجیب تماشا ہے صدر مملکت کی منظور ی کے بغیر نیب ترمیمی آرڈیننس کا نفاذ ہو گیا اور عدالتوں سے راتوں رات نیب مقدمات کی واپسی شروع ہو گئی۔جب کہ حکومت نے مہنگائی کو کم کرنے کی بجائے الٹا عوام کو مہنگائی کی دلدل میں دھکیل دیا۔اب تو حالت یہ سبزی غریب عوام کی دسترس سے باہر ہے جس ملک میں مٹر چار سو روپے کلو سے زیادہ قیمت پر فروخت ہورہے ہوں وہاں غریب عوام کی زندگی اجیران نہیں ہو گی تو اور کیا ہوگا۔ اب توحکومت کے پاس سیلابوں کا بہانہ ہے حکومت کی تماتر توجہ سیلاب زدگان کی امداد کی طرف مرکوز ہے۔چار ماہ پہلے تو سیلاب نہیںتھے، حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کیلئے کیا اقدامات کئے ہیں؟ 2010 میں سیلاب آئے تو باہر کے ملکوں سے دو اڑھائی ارب ڈالر امداد کے طور پر آئے۔حالیہ سیلابوں میں ترکی، یو اے ای ، امریکہ، برطانیہ ، قطر ،اردن ، جاپان اور فرانس نے امدادی اشیاء تو بھیجی ہیں کسی ملک نے مالی طور پرہماری مد د نہیں کی۔آخر اس کی وجوہات کیا ہیںاگر ماضی میں دوسرے ملکوں نے ہمیں مالی شکل میں امداد کی تو اس حکومت کے دور میں وہ مالی امداد سے کیوں گریزاں ہیں؟دراصل کسی حکومت کی ساکھ پر دھبہ لگ جائے تو کوئی ملک ایسی
حکومت کو امداد دینے کے لیے تیار نہیںہوتا۔ ہماری معاشی صورت حال میں بہتری لانے کے لیے جس کسی ملک نے ہمیں مالی سپورٹ کی تواس میں سپہ سالار کی کاوشیں شامل تھیں ورنہ حکومت کو کوئی ایک پیسہ نہیں کو تیار نہیںتھا۔
سچ تو یہ ہے کہ وزیراعظم سمیت کابینہ کے کئی ایک ارکان کے خلاف مبینہ طور پر بدعنوانی کے مقدمات تھے جو نیب ترامیم کے بعد عدالتوں نے واپس کر دیئے ہیں لیکن جرم تو اپنی جگہ موجود ہے۔ عمران خان نے سیلاب زدگان کے لیے دو مرتبہ ٹیلی تھون کرکے اربوں روپے جمع کئے جو تارکین وطن کا سابق وزیراعظم پر اعتماد کا مظہر ہے۔اب عمران خان کو بھی ٹیلی تھون سے جمع ہونے والی رقم سیلاب زدگان کی بلا امتیاز امداد کے لیے جلد سے جلد لائحہ عمل اختیار کرنا چاہیے تاکہ پی ڈی ایم کو ان کے خلاف کسی قسم کی تنقید کا بہانہ نہ مل سکے ۔تعجب ہے حکومت ایک طرف آئندہ سال عام انتخابات کرانے کے وعدے کر رہی ہے جب کہ پی ڈی ایم کے رہبر مولانا فضل الرحمن پارلیمنٹ کی مدت میں توسیع کرنے کے خواہش مند ہیں۔ عام انتخابات میں ووٹ دینا عوام کا بنیادی اور آئینی حق ہوتا ہے مولانا کس قانون کے تحت پارلیمنٹ کی مدت میں توسیع کی بات کر رہے ہیں؟
ملک کی سب سے بڑی جماعت تحریک انصاف کا ملک میں جلد سے جلد انتخابات کا مطالبہ ہے۔ حکومت کب تک عام انتخابات سے پہلو تہی کرتی
رہے گی ایک دن تو انتخابات کرانا ہوں گے۔حکومت عمران خان کے جلسو ں سے خائف ہے اسی لیے کسی نہ کسی بہانے ان کے خلاف مقدمات کا اندراج کیا جا رہا ہے تاکہ انہیں دبائو میں لا کر انتخابات کے مطالبے سے دستبردار کیا جا سکے۔اب تو حالت یہ ہے عمران خان کی کال پر عوام کا سمندر سٹرکوں پر نکل آتا ہے جو اس امر کا غماز ہے عمران خان عوام کے مقبول ترین لیڈرہیں۔پی ڈی ایم کی حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے بعد اب تک عوام کو مایوسی کے سوا دیا ہی کیا ہے۔ مہنگائی اور بے روزگاری عروج پر ہے ۔یہ علیحدہ بات ہے کہ حکومت کے کاسہ لیس صحافیوں کا ایک گروہ حکومت کی ناکامیوں کو چھپانے کی سر توڑ کوشش میں ہے لیکن عمران خان نے عوام میں بیداری کی جو روح پھونکی ہے اس کا نتیجہ آنے والے انتخابات میںکرپٹ سیاست دانوں کی شکست کی صورت میں سامنے آئے گا۔اب پنجاب حکومت کو گرانے کی کوشش ہورہی ہے۔بعض خاندانوں نے اقتدار کو گھر کی لونڈی سمجھ رکھا ہے ۔اقتدار کے مالک تو عوام ہوتے ہیں نہ کہ سیاست دان۔جن جن سیاست دانوں کے خلاف کرپشن کے مقدمات تھے وہ انتخابات میں عوام کے پاس کس منہ سے جائیں گے۔ملک کی اس سے بڑی بدقسمتی اور کیا ہوگی سیاست دان قومی دولت لوٹنے کے باوجود اقتدار میں لائے جاتے ہیں۔پاکستانی قوم سے کب تک اس طرح کا مذاق ہوتا رہے گا۔عوام کو بھی سیاست دانوں کی تقاریر اور ان کے نئے نئے بیانات کی روشنی میں ووٹ دینے کا فیصلہ نہیں کرنا چاہیے بلکہ انہیں ایسی جماعتوں کو مینڈیٹ دنیا چاہیے جنہوں نے ان کے مسائل حل کرنے کے لیے کچھ نہ کچھ اقدامات تو کئے ہوں۔ اب عمران خان نے عوام کو ماہ رواں میں سٹرکوں پرلانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔پی ڈی ایم کوپہلے اقتدار چھوڑنے پر تیار تھی تو اب انتخابات کرانے کی راہ میں کون سی رکاوٹ ہے۔حالات اور واقعات سے پتہ چلتا ہے حکومت کو اقتدار میں لانے والوں کا حکومت سے جی بھر گیا ہے۔اگر مقتدر حلقوں نے ملکی مسائل کو حل کرنا ہے تو ایسی جمہوریت سے عوام کو کیا لینا دینا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button