Uncategorized

ڈالر کی قیمت 234 روپے 32 پیسے تک پہنچ گئی

پاکستانی روپیہ مسلسل نویں سیشن میں ڈالر کے مقابلے میں گراوٹ کا شکار رہا اور انٹربینک مارکیٹ میں 2.4 روپے تنزلی کے بعد ڈالر کی قیمت بڑھ کر 234 روپے 32 پیسے ہوگئی۔

فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان (ایف اے پی) کے مطابق دوپہر 12 بجے مقامی کرنسی 234 روپے فی ڈالر پر ٹریڈ ہو رہی تھی، جو کل بند ہونے کی سطح سے 0.89 فیصد کم تھی۔

دوسری جانب اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت 238 روپے تک پہنچ گئی تھی۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق دن کے اختتام پر ڈالر کی قیمت 234 روپے 32 پیسے ہوگئی اور روپے کی قدر میں 1.02 فیصد گراوٹ ہوئی۔

مالیاتی ڈیٹا اور تجزیاتی پورٹل میٹس گلوبل کے ڈائریکٹر سعد بن نصیر نے کہا کہ امریکا میں بلند افراط زر کی وجہ سے روپیہ گر گیا جس نے بین الاقوامی کرنسی منڈیوں میں ڈالر کو تقویت دی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ روپے کو سپورٹ ملنے کی توقع ہے کیونکہ اشیا کی قیمتوں میں کمی کا رجحان جاری ہے جو ستمبر کے مہینے کے کرنٹ اکاؤنٹ بل پر دباؤ کو کم کردے گا۔

دوسری جانب فاریکس ایسوسی ایشن کے ملک بوستان نے کہا کہ ڈالر بڑھنے کی بہت سی وجوہات لیکن اس میں سب سے زیادہ بڑی وجہ سیلاب ہے جس نے تمام تجزیوں پر پانی پھیر دیا ورنہ اس سے قبل ڈالر کے نرخ گر رہے تھے اور روپیہ مستحکم ہورہا تھا، زرِمبادلہ کے ذخائر بڑھ رہے تھے اور اشیا، گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی ہورہی تھی۔

ان کا کہنا تھا لیکن سیلاب نے تباہی مچادی جس کی وجہ سے پاکستان کا 40 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے اور حکومت نے کھانے پینے اور سیلاب زدگان کی بحالی کی اشیا مثلاً خیمے، دوائیاں وغیرہ سب کی درآمد ڈیوٹی فری کردی ہے جس کی وجہ سے درآمدی بل بہت بڑھ گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وجہ سے روپے پر دباؤ ہے اور فری مارکیٹ میں بھی ڈالر کے ریٹ بڑھ رہے ہیں، اور دسمبر تک ڈیوٹی فری کی وجہ سے درآمدی بل مزید بڑھے گا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ ڈیوٹی فری ہونے کی وجہ سے بہت سے لوگ بڑی تعداد میں اشیا منگوا کر ذخیرہ کر رہے ہیں اور دسمبر میں ڈیوٹی فری ختم ہونے کے بعد من مانی قیمتوں پر فروخت کریں گے۔

ملک بوستان کا کہنا تھا کہ جب تک یہ اشیا ڈیوٹی فری آتی رہیں گی انٹربینک میں وقتی طور پر دباؤ جاری رہے گا جبکہ اوپن مارکیٹ پر بھی دباؤ زیادہ ہے جس کی وجہ یہ کہ حکومت ایران اور افغانستان سے اشیائے خورونوش منگوا رہی ہے۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان دونوں ممالک کے بینکوں پر امریکی پابندیاں عائد ہیں چنانچہ وہ ایل سیز ڈالر میں نہیں کھول سکتے جس کی وجہ سے وہاں کے برآمد کنندگان پاکستانی درآمد کنندگان سے نقد ڈالر میں ادائیگی کا مطالبہ کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں سے درخواست کرتا ہوں کہ ضرورت سے زیادہ ڈالر اپنے خاندان کو بھیجیں تاکہ غیر ملکی زرمبادلہ زیادہ آئے، 3 ارب ڈالر اگر وہاں سے مل جائیں اور برآمدات تھوڑی بڑھ جائے تو ہم بحران سے نکل آئیں گے۔

دوسری جانب ٹریس مارک میں ریسرچ کی سربراہ کومل منصور نے کہا کہ ‘دوست ممالک کے مالی امداد دینے سے پیچھے ہٹتے ہوئے خوف کا عالم ہے جبکہ بین الاقوامی بانڈز کی پیداوار میں بھی اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ سرمایہ کار دیوالیہ ہونے کے بڑھتے ہوئے خطرے پر غور کرنا شروع کر دیتے ہیں’۔

خیال رہے کہ ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ 2 ستمبر سے مسلسل گر رہا ہے، گزشتہ ہفتے کے دوران یہ 9.2 روپے گر کر 228.18 روپے پر بند ہوا جبکہ 2 روز میں روپے کی قدر میں مزید 3.74 روپے کی کمی دیکھنے میں آئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button