Editorial

قدرتی آفات اور سانحات پر سیاست

 

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ سیلاب کے باعث بد ترین تباہی کا سامنا ہے، اس وقت صرف یکجہتی کی باتیں کافی نہیں، عملی کام کی ضرورت ہے،پاکستان کے ساتھ نا انصافی کا دنیا کو ازالہ کرنا چاہیے۔قوم کو بخوبی علم ہوچکا ہے کہ کون ان کے دکھ درد میں مشکل کی اس گھڑی میں ساتھ کھڑا ہے اور کون سیر سپاٹے کررہا ہے۔ وقت آنے پر عوام سیلابی صورت حال میں سیاست کرنے والوں سے حساب لیں گے۔وزیراعظم شہبازشریف نے اِن خیالات کا اظہار وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ مزید برآں وزیراعظم شہباز شریف نے عمران خان کے بیان پر ردعمل میں کہا کہ ہماری حکومت اس وقت سلاب متاثرین کی بحالی میں مصروف ہے، آپ کے الزامات اور غلط فہمیوں سے متعلق وقت نہیں، میں نے اور میرے ساتھیوں نے قانون کے سامنے سر جھکایا ہوا ہے۔ یہ تمام پابندیاں اور ہتھکنڈے آپ کی صفات ہیں ہماری نہیں۔ ہم صرف قانون اور آئین کے راستے پر چل رہے ہیں۔ امید ہے کہ آپ موجودہ فنڈز کے ساتھ 2010ء کے سیلاب متاثرین کے نام پر لئے گئے چندے کا حساب ضرور دیں گے۔ بلاشبہ وطن عزیز کو حالیہ دنوں میں سیلاب کی صورت میں انتہائی مشکل اور بڑے چیلنج کا سامنا ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں پاک فوج اور اداروں کی مدد سے ہر ممکن اقدامات اٹھارہی ہیں جو محدود وسائل والے ملک میں اٹھائے جاسکتے ہیں لیکن جہاں تک سیلابی صورت حال میں سیاست کرنے کا معاملہ ہے تو یہ قطعی نئی بات نہیں۔ قوم کو کتنے ہی بڑے بحران کا سامنا ہو، انسانی جانوں کو خطرات لاحق ہوں لیکن سیاست ہمہ وقت جاری ہی رہتی ہے اور تاریخ شاہد ہے کہ کوئی بھی سیاسی جماعت یا سیاسی شخصیت سیاست کے لیے موقع دیکھتی ہے نہ ہی محل، جیسے سیاست ہی سبھی کچھ ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان حالیہ دنوں میں کم و بیش روزانہ کی بنیاد پر مختلف شہروں میں جلسہ عام سے خطاب کررہے ہیں، چونکہ وہ قومی اسمبلی کے نو حلقوں سے امیدوار بھی ہیں اس لیے جہاں وہ اِن جلسوں کے ذریعے اپنی انتخابی مہم چلارہے ہیں وہیں اپنے بیانیے کو بھی دھرا رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ حکمران اتحاد میں شامل سبھی جماعتوں کی قیادت اُن پر تنقید کررہی ہے کہ عمران خان کو حالیہ صورت حال میں انتخابی جلسے کرنے کی بجائے سیلاب متاثرہ افراد کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے تھا لیکن یہ بھی حقیقت جھٹلائی نہیں جاسکتی کہ کون سنتا ہے، کون سمجھتا ہے۔ سبھی کی ترجیح ہمیشہ سیاست اوراقتدار ہی رہی ہے وگرنہ آج ملک ترقی پذیر سے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہوتا، لوگوں کے لیے سفر زیست سہل ہوتامگر یہاں حصول اقتدار کے لیے ہمیشہ سیاست ہوتی رہتی ہے ۔ انتہائی معذرت کے ساتھ ہم بتانا
چاہتے ہیں کہ قریباً دو سال قبل جب پوری دنیا میں کرونا عفریت کے طور پر موجود تھا ۔ زندگی جیسے رک گئی تھی، ہسپتال مریضوں سے بھرے پڑے تھے، اٹلی اور امریکہ میں کرونا وائرس سے اموات نے سبھی کو خوفزدہ کررکھا تھا، طواف کعبہ رک چکا تھا، حج بیت اللہ کے لیے دنیا بھر کے ذائرین کو عارضی طور پر روک دیاگیا تھا، کوئی مسافر جہاز اڑ رہا تھا اور نہ ہی کوئی بحری جہاز۔پوری دنیا میں طلب کے باوجود رسد رک چکی تھی کیونکہ خوف کا یہی عالم پوری دنیا میں تھا لیکن ہمارے یہاں اُن دنوں یکے بعد دیگر جلسے ہورہے تھے، حکومت وقت کا موقف تھا کہ عوامی اجتماعات سے وائرس مزید پھیلے گا اور صورت حال مزید ابتر ہوگی، باوجود اِس کے کہ جلسے کرنے والے قائدین میں سے کچھ کرونا وائرس کا شکار بھی ہوئے مگر اِس کے باوجود سیاسی عروج پر رہی، پس سے بڑی مثال اور کیا ہوسکتی ہے کہ جب پوری دنیا میں لاک ڈائون تھے اِس وقت سیاسی جلسے عروج پر تھے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سیاسی قیادت کو تحمل، برداشت اور وسیع نظری کا مظاہرہ کرتے ہوئے حالات کی سنگینی کا ہمیشہ ادراک کرنا چاہیے، جیسے پہلے کرونا وائرس کی وبا کے دوران جلسے ہورہے تھے ویسے ہی ابھی سیلابی صورت حال کے دوران ہورہے ہیں ۔ پس یہ روایت چل پڑی ہے تو اب چلتی ہی رہے گی۔ کیونکہ جواباً ایسے ایسے موقف سننے کو ملتے ہیں جن کے بعد افسوس ہی کیا جاسکتا ہے۔ صرف ہم ہی نہیں بلکہ اِس ملک کا ہر متوسط اور غریب پاکستانی یہی سمجھتا ہے کہ سیاسی قیادت عوام کو ریلیف دینے کے لیے ایک پیج پر آجائے تو کیوں مہنگائی اور بے روزگاری کا خاتمہ نہ ہو۔ لیکن سیاست دان چونکہ ہر موقعے سے فائدہ اٹھانا ہی کامیاب سیاست سمجھتے ہیں اِس لیے مفاد عامہ کے لیے کبھی اکٹھے نہیں بیٹھتے بلکہ ہمیشہ حکمران جماعت کو درپیش چیلنجز کی سنگینی بڑھانے کے لیے تاک میں رہتے ہیں خواہ اِس کا حکومتی جماعت سمیت ملک و قوم کو کتنا ہی نقصان کیوں نہ ہو۔ آج پوری قوم سیلاب متاثرین کے لیے عملی طور پر میدان میں ہے، لوگ ہر ممکن امداد متاثرہ بھائیوں کو بھیج رہے ہیں یہ قومی یکجہتی کی بہترین اور اعلیٰ مثال ہے لیکن کیا سیاست دان بھی اِس صورت حال میں سر جوڑ کر بیٹھے ہیں؟ جواب یقیناً نفی میں ہوگا کیونکہ سیاست دان کبھی ایک دوسرے کوتسلیم نہیں کرتے بلکہ موقع بے موقع ایک دوسرے کو مشکل میں ڈالنے کے منتظر رہتے ہیں۔ ہمارے ملک میں جمہوریت کے نام پر جمہوریت کی جو شکل موجود ہے، ترقی یافتہ اور ترقی پذیر دیگر ممالک میں دیکھنے کو بھی نہیں ملے گی کیونکہ وہاں جمہوریت کو ملک و قوم کی ترقی اور خوش حالی کا نظام سمجھا جاتا ہے مگر ہمارے ہاں جمہوریت بادشاہت کی ہی ایک مثال ہے جس میں عوام کے ووٹ سے منتخب ہوکر اُن کی خدمت نہیں کی جاتی بلکہ اُن پر راج کیا جاتا ہے۔ عوام کی ہمدردی ہوتی تو سیاسی قیادت ایک پیج پر نظر آتی اور ملک و قوم کا بھلا ہوتا، آج عوام مہنگائی کے جس دور سے گذر رہے ہیں کیا پہلے ایسا کوئی دور دیکھا گیا تھا؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button