CM RizwanColumn

سیلاب کا المیہ مستقل اثرات مرتب کرے گا .. سی ایم رضوان

سی ایم رضوان

سیکرٹری اقوام متحدہ جس طرح پاکستان میں آنے والے سیلاب کی تباہ کاریوں، ان کے اسباب اور متاثرہ پاکستانیوں کی بحالی کے ساتھ ساتھ اس کے ذمہ دار عناصر اور موسمی عوامل کے خلاف بند باندھنے کیلئے ممکنہ اقدامات کا عندیہ دے رہے ہیں اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات کے ازالہ کیلئے دیگر ممالک اور اداروں سے اپیل کررہے ہیں قابل ذکر ہے مگر افسوس کہ پاکستان کے تمام سیاستدان اور کرتا دھرتا اس حوالے سے بہت پیچھے ہیں۔ نہ صرف سیکرٹری اقوام متحدہ خود بحالی کے سارے کام کا جائزہ لینے کیلئے بلکہ یو این او کے کئی ذیلی شعبہ جات بھی اعداد و شمار اکٹھے کرنے اور بحالی کیلئے ممکنہ اقدامات کی تجاویز دینے میں کسی سے پیچھے نہیں۔ اسی سلسلے میں یونیسف نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں حالیہ تاریخ کے بدترین سیلاب کی وجہ سے تیس لاکھ سے زائد بچے پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں، ڈوبنے اور غذائی قلت کے بڑھتے ہوئے خطرات سے دوچار ہوئے ہیں اور انہیں فوری انسانی امداد کی ضرورت ہے۔ یادرہے کہ ان دنوں یونیسف سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بچوں اور ان کے خاندانوں کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔ یونیسف کے مطابق پاکستان میں اس سال مون سون میں شدید بارشوں، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے 3 کروڑ 30 لاکھ افراد متاثر ہوئے جن میں قریباً ایک کروڑ 60 لاکھ بچے بھی شامل ہیں۔ پاکستان میں یونیسف کے نمائندے عبداللہ فاضل کا کہنا ہے کہ آفات میں بچے ہمیشہ سب سے زیادہ خطرے کا شکار ہوتے ہیں۔ اس سیلاب نے بھی بچوں اور ان کے خاندانوں کو تباہ کن نقصان پہنچایا ہے اور صورت حال مزید بدتر بھی ہو سکتی ہے۔ یونیسف حکومت پاکستان اور دیگر اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے تاکہ یقینی بنایا جا سکے کہ متاثرہ بچوں کو جلد از جلد ضروری امداد مل سکے۔
تازہ سروے کے مطابق، متاثرہ علاقوں میں 30 فیصد آبی نظام کو نقصان پہنچاہے، جس سے لوگوں کے کھلی جگہوں پر رفع حاجت کرنے اور غیر محفوظ پانی پینے کی وجہ سے بیماریوں کے پھیلاؤ کا خطرہ مزید بڑھ گیا ہے۔ اسی
طرح تعلیم کے بنیادی ڈھانچے کو کافی نقصان پہنچا ہے اور اطلاعات ہیں کہ 17,566 سکولوں کی عمارتیں جزوی یا مکمل طور پر تباہ ہوچکی ہیں جس سے بچوں کی تعلیم کو مزید خطرہ لاحق ہوا ہے۔ گزشتہ سالوں میں کرونا وائرس کی وجہ سے دو برس تک سکولوں کی بندش کے بعد ایک بار پھر بچوں کی پڑھائی میں خلل پڑنے کا خطرہ ہے اور وہ بھی ان علاقوں میں جہاں ایک تہائی لڑکیاں اور لڑکے موجودہ بحران سے پہلے ہی سکولوں سے باہر تھے۔ حکومت پاکستان نے 30 سالہ قومی اوسط سے قریباً تین گنا اور کچھ صوبوں میں پانچ گنا زیادہ بارشوں کی وجہ سے قومی ایمرجنسی کا اعلان کردیا ہے اور 72 اضلاع کوآفت زدہ قراردے دیا ہے، جن میں سے بیشتر شدید ترین متاثرہ صوبوں بلوچستان اور سندھ میں ہیں جبکہ خیبرپختونخوا اور پنجاب بھی متاثر ہوئے ہیں۔ ان علاقوں سے خطرے سے دوچار آبادیوں کو متاثر کرنے والی بیماریوں، اسہال اور پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں، سانس کے انفیکشن اور جلد کی بیماریوں کے کیسز پہلے ہی رپورٹ ہو چکے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں سیلاب سے پہلے ہی 40 فیصد بچے سٹنٹنگ کا شکار تھے جو کہ مسلسل غذائی قلت کی وجہ سے پیدا ہونے والی طبی کیفیت ہے۔یہ خطرناک انسانی بحران آئندہ دنوں اور ہفتوں میں مزید خراب ہونے کی توقع ہے کیونکہ پہلے ہی زیر آب علاقوں میں مزید تیز بارشوں کا سلسلہ جاری ہے۔گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی جانب سے فلیش اپیل کی گئی تھی جس کا مقصد حکومت پاکستان کی جانب سے سیلاب زدگان کی امداد اور بحالی کی کوششوں کو تقویت پہنچانا ہے۔ اس اقدام کے تحت، یونیسف نے 3
کروڑ 70 لاکھ امریکی ڈالر کی امداد کی اپیل کی ہے اور آنے والے مہینوں میں بچوں اور ان کے خاندانوں تک فوری امداد پہنچانے کا عزم ظاہر کیا ہے، اس امداد میں جان بچانے والے طبی آلات، ضروری ادویات، ویکسین اور بچوں کی پیدائش محفوظ طریقے سے کرنے کیلئے ضروری سامان کے علاوہ پینے کا صاف پانی اور صفائی ستھرائی، خوراک، عارضی تعلیمی مراکز اور تعلیمی مواد وآلات شامل ہیں۔
یونیسف کے چلڈرن کلائمیٹ رسک انڈیکس کے مطابق، پاکستان مشہورماحولیاتی ہاٹ سپاٹ اور ایسا ملک ہے جہاں بچوں کو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے شدید خطرات سے دوچار سمجھا جاتا ہے اور سی سی آر آئی کی درجہ بندی والے 163 ممالک میں سے 14 ویں نمبر پر ہونے کی وجہ سے پاکستان کی درجہ بندی انتہائی زیادہ خطرے سے دوچار کے زمرے میں ہے۔ ان انتہائی زیادہ خطرے سے دوچار ممالک میں بچوں کو ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق مہلک خطرات کے ساتھ ساتھ پینے کے پانی، صفائی ستھرائی، صحت کی دیکھ بھال اور تعلیم کی کمیابی جیسے شدید مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
یونیسف کی اس رپورٹ کے بعد کیا ہمیں بحیثیت ایک قوم کے سکون اور اطمینان کی نیند آسکتی ہے؟ ہر گز نہیں لیکن ہماری قومی اور اجتماعی غیرت اور احساس کا یہ عالم ہے کہ ہم اسی طرح روزانہ سکون سے سوتے اور جاگتے ہیں۔ حکمرانوں کے اللے تللے بھی اسی طرح جاری ہیں اور اپوزیشن بھی جوکہ آلا ماشا اللہ اب صرف ایک جماعت پر مشتمل ہے صرف اور صرف حکومت کو گرانے اور حکمرانوں کو ذلیل کرنے کو ہی دنیا کا پہلا اور آخری کام سمجھ کر وہی کررہی ہے اور عمران خان ایک عالمی شناخت رکھنے کے باوجود اپنی تمام تر توانائیاں سیاست پر ہی صرف کررہے ہیں اس کا ثبوت یہ ہے کہ پچھلے دنوں جو ایک ٹیلی تھون کے ذریعے انہوں نے ساڑھے پانچ ارب روپے سے زائد کی امداد حاصل کی تھی آج تک انہوں نے
نہ تو اس کا مصرف بتایا ہے اور نہ ہی یہ بتانے کا تکلف کیا ہے کہ وہ رقم کہاں اور کس علاقے کے متاثرین سیلاب کی کس قسم کی مدد پر خرچ کی جارہی ہے۔ اس پر ستم یہ کہ بعض پی ٹی آئی رہنما دبے لفظوں میں سمندر پار پاکستانیوں کو حکومت پاکستان کی مدد کرنے سے منع کررہے ہیں۔ سیلاب کی اس آفت میں وطن عزیز کی کئی مائیں بہنیں بزرگ جوان اور کئی معصوم ننھے پھول مرجھا چکے ہیں۔ اپنے مال، گھر حتیٰ کہ اپنے جگر کے ٹکڑوں کو گنوانے والوں کیلئے تو قیامت برپا ہو چکی ہے۔ دوسری طرف گلوبل وارمنگ کی وجہ سے حالیہ موسمیاتی تبدیلیوں سے دنیا بھر میں مختلف علاقوں کو سیلاب جیسی قدرتی آفات کا سامنا ہے۔ آئندہ دنوں شاید یہ مسئلہ شدت اختیار کر جائے۔ پاکستان سمیت اس کے ہمسایہ ممالک چین، بھارت، افغانستان، بنگلہ دیش اور دیگر ممالک کو بھی گزشتہ برسوں اس صورتحال کا سامنا رہا ہے۔ ماضی قریب میں شمالی امریکہ اور یورپ کے مختلف خطے بھی اس طرح کی سیلابی صورتحال کا شکار ہو چکے ہیں۔ دنیا بھر میں ایسی صورتحال میں لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا ہی حکومتوں کی اولین ترجیح ہوتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس سیلاب میں کیا لوگوں کو بروقت محفوظ مقامات پر پہنچایا گیا؟ کیا لوگوں کو انتظامیہ نے ہجرت میں معاونت دی؟ کیا ہمارے متعلقہ ادارے پہلے سے اس سیلابی صورتحال سے باخبر تھے؟ اور اگر خبر تھی تو پیشگی انتظامات کیا تھے؟ کیا ایسے علاقوں کو وقت سے پہلے خالی کروایا گیا تھا، جہاں انتہائی درجے کے سیلاب کے خطرات موجود تھے؟ کیا موسم برسات سے پہلے ندی نالوں کی مرمت مکمل تھی؟ کیا دریاؤں اور ندی نالوں کے بند مضبوط تھے؟ کیا ہر سال برسات سے پہلے ندی نالوں کی صفائی کی جاتی ہے؟ کیا سیلاب سے بہہ کر آنے والی ریت اور مٹی سے نالوں کا بہاؤ متاثر نہیں ہوتا؟ کیا سرکار کے یہ متعلقہ محکمہ جات اور ان کا عملہ و املاک صرف وزیروں، مشیروں، ایم این ایز اور ایم پی ایز کی زمینوں کی حفاظت پر مامور ہیں؟ کیا حکومت اور حکومتی عہدیدار اور سیاستدان صرف فوٹو سیشن کیلئے ہیں؟ سیلاب میں پھنسے لوگوں کو بروقت ریسکیو کرنا کس کا کام ہے؟ ہیلی کاپٹر یا ہوائی جہاز پر بیٹھ کر فضائی معائنہ ضروری ہے یا ان کے استعمال سے لوگوں کو ریسکیو کرنا؟ ایسے علاقوں میں جہاں ہر سال سیلاب کے خدشات موجود ہوتے ہیں، وہاں تعمیرات کو روکنا کس کا کام ہے؟ پلوں کی تعمیر اور حفاظت ومرمت کس کا کام ہے؟کون ان کا جواب دے گا۔؟ ہے کوئی لیڈر یا حکومتی سربراہ جو ان سوالوں کا جواب دے؟ جو اپنی اور اداروں کی غفلت کا بھی حساب دے؟ کیا سرکاری ادارے، سرکاری عہدیدار محض نمائشی ہیں؟ایسے مزید کئی سوالات ہیں جو ہر باشعور شہری کے ذہن میں ہیں مگر جواب دہ کوئی نہیں یا کوئی جواب دینا یا لینا نہیں چاہتا۔ حالانکہ سچ تو یہ ہے کہ ہم کئی جانیں اور دیگر نقصانات اپنے اختیارات کا درست استعمال کر کے بچا سکتے تھے، لیکن ہماری روایتی اور قدیمی و ازلی غفلت نے اس قدرتی آفت کو بڑا سانحہ اور ایک تاریخی المیہ بنا دیا ہے۔ کاش نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ، صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ، محکمہ موسمیات، ضلعی انتظامیہ، ایریگیشن ڈیپارٹمنٹ، این جی اوز اور دیگر مقامی انتظامیہ و متعلقہ ادارے اپنی کارکردگی کو سوشل میڈیا اور وٹس ایپ پر ظاہر کرنے کی بجائی حقیقی معنوں میں کارکردگی کا مظاہرہ کرتے تو آج ہم یوں المیہ زدہ نہ ہوتے۔
مانا کہ قدرتی آفات آتی ہیں مگر باشعور قومیں ایسے موقعوں پر دکھاوے کو ترک کرکے متاثرین کی بروقت مدد و بحالی کے لیے کام کرتی ہیں لیکن افسوس کہ ہم اور ہمارے ادارے تب بیدار ہوتے ہیں جب پانی سر سے گزر چکا ہوتا ہے۔ اب کون ہے جو تباہ حال اور بے بس لوگوں کے جان و مال کی تباہی کا ازالہ کرے گا؟آخر کون؟ یقیناً کوئی نہیں کیونکہ اقوام متحدہ ہمارے انتظامی اداروں اور حکومت کو مطلوبہ اور متعلقہ امداد بہم پہنچا کر فارغ ہو جائے گی لیکن یہاں تو فقیروں کی کمائی لوٹ لینے والے سلطان اور سیاستدان موجود ہیں لہٰذا یہاں مسلط ہونے والا یہ تازہ المیہ بھی طویل اور تباہ کن اثرات مرتب کرے گا۔ آپ دیکھ لینا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button