Editorial

فضائی آلودگی کا خاتمہ اور آبی ذخائر کی ضرورت

 

پاکستان میں بارشوں اور سیلاب سے ہونے والی ہولناک تباہی کا جائزہ لینے کے لیے پاکستان کے دورہ پر موجود اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ پاکستان دوسرے ملکوں کی پیدا کردہ آلودگی سے براہ راست متاثر ہو رہا ہے۔ سیلاب سے ہونے والے نقصانات پورے کرنا اکیلے پاکستان کے وسائل سے ممکن نہیں۔ دنیا کی ذمہ داری ہے کہ اس مشکل گھڑی میں پاکستان کا ساتھ دے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے اس اندوہناک سانحہ پر آپ سب سے یکجہتی اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک نے ماحولیات کو آلودہ کردیا ہے۔ گلیشیئرز تیزی سے پگل رہے ہیں جس سے سیلاب آ رہے ہیں، اسی صورتحال کا سامنا پاکستان کو بھی ہے۔ پاکستان اس ماحولیاتی آلودگی کا ذمہ دار نہیں ہے لیکن دوسرے ممالک کی پیدا کردہ آلودگی کا شکار ہے۔ پاکستان کی موجودہ صورتحال بڑے پیمانے پر مدد کی ضرورت ہے، تاہم اکیلا پاکستان اتنے وسائل نہیں رکھتا کہ وہ اس کا ازالہ کر سکے، جن ممالک نے یہ حالات پیدا کئے یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس صورتحال سے نکلنے میں پاکستان کی مدد کریں۔ آلودگی کا باعث بننے والے ممالک فطرت کے خلاف اپنی جنگ بند کریں، یہ کسی طور پر مناسب نہیں ہے، موسمیاتی تبدیلیوں کے حالات کا سبب بننے والی آلودگی کو روکیں۔ دوسری طرف پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں چیک ڈیم سمیت مزید بڑے ڈیم بنانا پڑیں گے۔ دنیا نے ایک حد تک مدد کرنی ہے، اپنے لوگوں کو کہتا ہوںآگے آئیں سیلاب سے متاثرہ افراد کی مدد کریں، سیلاب سے بچنے کے لیے پلاننگ کریں گے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے دادو میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ ہم ہمیشہ دریاؤں کے ذریعے سیلاب کے لیے تیار رہے ہیں، جس علاقے میں اگر پچاس ملی میٹر سالانہ بارش ہوتی ہے اگر وہاں 1700 ملی میٹر بارش ہفتے میں ہو جائے تو اس کے لیے ہماری تیاری نہیں تھی۔ ہمیں چیک ڈیمز بنانا پڑیں گے، ڈرین سسٹم بھی بنائیں گے، اس پر کام شروع کر دیا گیا ہے، میں نے خود آرمی انجینئرنگ کو ایک ٹاسک دیا ہے اس پر انہوں نے تحقیق بھی مکمل کر لی ہے، اگلے ہفتے ہم وزیراعظم شہباز شریف سمیت چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو بریف کریں گے، اس کے لیے عالمی ایکسپرٹ کی بھی مدد لیں گے۔ بلاشبہ ترقی یافتہ ممالک جہاں ماحولیاتی آلودگی میں اضافے کا باعث ہیں تو وہیں ترقی یافتہ ممالک ماحولیاتی آلودگی کے مضر اثرات سے محفوظ رہنے کے لیے تمام تر وسائل اور تکنیک بروئے کار بھی لارہے ہیں لیکن ان کی پیدا کردہ ماحولیاتی آلودگی سے ترقی پذیر یا غریب ممالک بڑی تیزی سے متاثر ہورہے ہیں اور ماحولیاتی آلودگی کے نتیجے میں قدرتی آفات کی صورت میں ہونے والی تباہی و بربادی ترقی پذیر اور غریب ممالک کو معاشی لحاظ سے تہس نہس بھی کررہی ہے اور ان ملکوں میں متاثرہ افراد کی تعداد بڑھنے کی وجہ سے معاشی مسائل بھی پیدا ہورہے ہیں۔ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے
والے ممالک کی درجہ بندی میں پانچویں نمبر پر ہے اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کے نمایاں اثرات میں انسانی صحت کو خطرات، غذائی اجناس کی پیداوار میں کمی، وبائی امراض کے پھیلائو میں اضافہ ، خشک سالی، گلیشئرز کا پگھلائو اور اس کے نتیجے میں سطح سمندر میں اضافہ ، موسموں کے دورانیے میں تغیر اور شدت، سیلاب اور گرمی و سردی کی لہروں میں اضافہ عوام بھگت رہے ہیں اور حکومتیں محدود وسائل کے باوجودہ ناکردہ غلطیوں کی تلافی میں نظر آتی ہیں۔ بلاشبہ پاکستان اپنی کمزور معیشت اور معاشی مسائل کے باوجود ہر ممکن کوشش کررہا ہے کہ آلودگی کے اِس زہر کو ملک پر اثر انداز ہونے سے روکا جائے لیکن عالمی سطح پر اجتماعی کوششوں کے بغیر ایسا ہونا ناممکن ہے فضائی آلودگی پیدا کرنے والے ممالک اپنی ادائوں پر غور کریں اور آلودگی کو ختم کریں ساتھ ہی اُن کی پیدا کردہ آلودگی کا شکار ہونے والے ممالک جن میں بظاہر پاکستان سرفہرست نظر آرہا ہے اور حالیہ تباہی بھی یہی ظاہر کرتی ہے ، ان ممالک کو آلودگی سے پیدا ہونے والے مسائل سے نمٹنے کے لیے وسائل بھی فراہم کریں اور ہرلحاظ سے مدد بھی کریں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل عالمی برادری سے اِس ضمن میں اپنا بھرپور کردار اداکریں گے اور عالمی برادری بالخصوص آلودگی پیدا کرنے والے ممالک بھی ان کی باتوں پر کان دھریں گے کہ اس کے بغیر آلودگی اور اس کے مضر اثرات سے نمٹنا ناممکنات میں شامل ہے اور ترقی پذیر اور غریب ممالک تو اِس آلودگی کے مضر اثرات کی وجہ سے ہی تباہی کی نذر ہوسکتے ہیں جیسا کہ حالیہ دنوں میں سیلاب کی صورت حال سے نظر بھی آرہا ہے ہر طرف تباہی ہی تباہی ہے۔ اِس کے ساتھ ہی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی اِس بات پر بھی سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے اور ہمارے نزدیک سیاسی قیادت کو فی الفور چیک ڈیمز اوربڑے ڈیمز کی فوری تعمیر پر متفق ہونا چاہیے کہ اگر ڈیمز ہوتے تو اتنی تباہی نہ ہوتی، سیاسی رہنما ایک دوسرے کی خوشنودی کی بجائے ملک و قوم کا مفاد اور حالیہ تباہی کو مدنظر رکھیں اور ڈیموں کی تعمیر پر فوراً کام شروع کرائیں کہ فضائی آلودگی کا مسئلہ گھنٹوں یا مہینوں میں نہیں دہائیوں میں بھی ختم ہوتا نظر نہیں آتا تاہم ہمیں اپنی تیاری مکمل رکھنی چاہیے کہ ایک سال گذرتے دیر نہیں لگتا ، وہ تمام غلطیاں جن کا خمیازہ حالیہ سیلاب اور اس کی تباہ کاریوں کی صورت میں نکل رہا ہے اِن کو اب دھرانے کی گنجائش نہیں ہے وگرنہ تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ ہمیں عالمی برادری کی طرف مزید دیکھنے کی بجائے اپنے بچائو کے لیے اقدامات کو اپنی ترجیح بنانا ہوگا جبھی ہم قدرتی آفات سے نبرد آزما ہوسکیں گے۔ اس کے لیے ترقی یافتہ ممالک کے تجربات کو بھی مدنظر رکھا جانا ضروری ہے کہ انہوں نے کیسے فضائی آلودگی کے مسئلے پر قابو پایا اور ہم اپنے وسائل میں رہتے ہوئے کیسے اِس کے مضر اثرات سے محفوظ رہ سکتے ہیں، جس طرح ہم نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور دوسرے ادارے قائم کیے ہیں ویسے ہی ہمیں عالمی سطح پر ایسی صورت حال سے قبل ازوقت بچنے کے لیے ہونے والے اقدامات کا جائزہ اور اس پر اپنے ملک میں عمل درآمد کے لیے بھی فوری ماہرین بٹھانے چاہئیں، یہی غوروفکر اور سوچ و بچار کا وقت ہے، فیصلے کرنے میں زیادہ تاخیر کا مطلب زیادہ تباہی کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button