ColumnRoshan Lal

عمران اور توہین عدالت .. روشن لعل

روشن لعل

عمران خان کے خلاف توہین عدالت کے تحت زیر سماعت کیس میں ان پر فرد جرم عائد کرنے کی تاریخ طے ہو چکی ہے۔ ایسا ہونے کے باوجود اس کیس میں مزید پیش رفت اور انجام کے حوالے سے بے یقینی کا یہ عالم ہے کہ بعض اطلاعات کے مطابق اس پر سٹہ بازی شروع ہو چکی ہے۔ سٹہ بازوںکے متعلق مشہورہے کہ انہیں سٹہ بازی کے لیے محض ایک چھوٹا سا بہانا چاہیے ہوتا ہے ، اگرکوئی بہانا میسر آجائے تو یہ کسی قریب المرگ معروف شخص کی آخری سانسوں کی گنتی پر سٹہ لگانے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ سٹہ بازی عموماً ان معاملات میں کی جاتی ہے جن کے انجام کے متعلق ابہام موجود ہو۔ عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس کے حوالے سے بات کی جائے تو اس معاملے میں صرف سٹہ باز ہی نہیں بلکہ کئی دانشور قسم کے لوگ بھی مخمصے کا شکار نظر آرہے ہیں۔ ان دانشوروں کا مخمصہ یہ ہے کہ ایک طرف وہ یہ دیکھ چکے ہیں کہ نہال ہاشمی، طلال چودھری اور دانیال عزیز جیسے لوگوں کے بیانات میں توہین کا عنصر عمران خان کی باتوں کی نسبت انتہائی کم ہونے کے باوجود عدالتوں نے نہ صرف ان کی معافی کی درخواستیں مسترد کیں بلکہ انہیں نااہلی جیسی سخت سزا بھی سنائی، دوسری طرف ان دانشوروں کے سامنے عمران خان کی شہرت کا وہ مفروضہ بھی جسے جواز بنا کر عمران کے چاہنے والے ان کے لیے ہر قسم کی بخشش کے متمنی ہیں۔ نہال ، طلال اور دانیال کی مثالیں دیکھ کر اگر یہ لگتا ہے کہ عدالت
کے پاس عمران خان کو نااہلی کی سزا نہ دینے کے علاوہ دوسرا کوئی آپشن نہیں ہے تو دوسری طرف ان کی شہرت کے مفروضے کو مد نظر رکھتے ہوئے ذہن میں یہ خیال آتا ہے کہ اگر قبل ازیں عدالتیں شہرت کے مفروضے کے تحت عمران خان کو رعایت دے چکی ہیں تو اس مرتبہ ایسا کیوں نہیں ہو سکتا۔ مذکورہ دانشوروں کا ایک مخمصہ یہ بھی ہے کہ عدالتوں نے اب تک عمران خان کے لیے معافی کے دروازے چوپٹ کھلے رکھے ہوئے ہیں۔ اب یہ عمران خان پر منحصر ہے کہ وہ ان دروازوں سے گزرنا پسند کرتے ہیں یا نہیں کرتے۔ انا پرست ہونے اور یوٹرن لینے میں یکساں شہرت کے حامل عمران خان کے لیے دانشوروں کے دوسرے مخمصے کو بھی بلاوجہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔
عمران خان کے توہین عدالت کیس کے حوالے سے سٹہ بازوں اور مذکورہ دانشوروں کے برعکس کچھ لوگوں کا مخمصہ کسی حد تک مختلف نوعیت کا بھی ہے۔ ان کچھ لوگوں کا مخمصہ یہ ہے کہ عدالتوں کی تکریم کا قائل ہونے کے باوجود ان کاخیال ہے کہ وطن عزیز کی عدالتیں نوشتہ دیوار بنے ہوئے اپنے روز مرہ افعال و معمولات کی وجہ سے کبھی بھی خود کو اس مقام و مرتبہ پر فائز نہیں کر پائیں کہ ہر کوئی ان کے فیصلوں کے سامنے غیر مشروط طور پر سرتسلیم خم کردے۔ مقامی عدالتوں کے احترام کے حوالے سے اپنے اس تصور کی وجہ سے ماضی میں ان لوگوں کی ہمدردیاں اکثر ان ملزموں کے ساتھ رہیں جنہیں عدالتوں کے متنازعہ رویوں اور فیصلوں پر جائز تنقید کے سبب توہین عدالت جیسے الزامات کا سامنا کرناپڑا۔ آج یہ کچھ لوگ توہین عدالت کے الزام کی زد میں موجود عمران خان کی حمایت یا مخالفت کرنے کے حوالے سے مخمصے کا شکار نظر آرہے ہیں ۔ ان کچھ لوگوں کویہ بات سمجھ نہیں آرہی کہ وہ کیسے عمران خان کو اس خانے میں شمار کر لیں جس میں انسانی حقوق کی غیر متنازعہ چیمپئن تسلیم کی جا چکی مرحومہ عاصمہ جہانگیر پہلے سے موجود ہیں۔
توہین عدالت کے حوالے سے مزید کوئی بات کرنے سے قبل یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ ہماری عدالتیںجس قانون کے تحت توہین عدالت کے مقدمات کی سماعت کرتی ہیں اس کی پیدائش اور تشکیل کیسے ہوئی۔توہین عدالت کے جس قانون کے تحت پہلے سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو اور پھر کچھ برس بعد نہال ہاشمی، طلال چودھری اور دانیال عزیز کو نااہلی کی سزا سنائی گئی اسے توہین عدالت آرڈیننس 2003 ء کے نام سے جانا جاتا ہے۔ توہین عدالت آرڈیننس2003 ء کے اجراء
کا ایک خاص پس منظر ہے۔ یہ آرڈیننس اس وقت جاری کیا گیا جب پرویز مشرف کے دور میں وکلا ان کے جاری کردہ پہلے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کے خلاف سراپا احتجاج تھے۔ ان دنوں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے ججوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر میں توسیع کے مشرف کے فیصلے کو انہیں رشوت قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف 10 جولائی 2003 ء کو ہڑتال اور احتجاج کر نے کا اعلان کیا تھا۔ وکلا برادری کی طرف سے آئینی ترامیم کے لیے مشرف کے تیار کردہ لیگل فریم ورک آرڈر کے خلاف احتجاج کے دوران سپریم کورٹ کے ججوں پر تنقید کے لیے قریباً وہی زبان استعمال کی جارہی تھی جو دوسری مرتبہ پی سی او کا حلف اٹھانے والے سابق چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر اوردیگر ججوں کے لیے استعمال کی گئی۔ مشرف کے اقتدار کو جائز قرار دینے اور اسے آئین میں ترامیم کا حق دینے والے ججوں کے خلاف جس روز وکلاسراپا احتجاج تھے اسی روز یعنی 10جولائی 2003 ء کو مشرف نے توہین عدالت کا آرڈیننس 2003 ء جاری کیا ۔ اس آرڈیننس کے تحت توہین عدالت کے مرتکب لوگو ں کو چھ ماہ قید یا ایک لاکھ جرمانہ یا بیک وقت دونوں سزائوں کا مستوجب قرار دیا گیا۔واضح رہے کہ جب مشرف نے توہین عدالت کا یہ آرڈیننس جاری کیا اس وقت مخدوم علی خان اٹارنی جنرل آف پاکستان کے عہدے پر فائز تھے۔ یہ وہی مخدوم علی خان ایڈووکیٹ ہیں جنہوں نے عمران خان کے خلاف جاری حالیہ توہین کے مقدمہ میں عدالتی معاون کے طور پر پیش ہو کر عدالت کو ملزم کے خلاف درگزر سے کام لینے کی سفارش کی۔ توہین عدالت کے اس کیس میں معروف قانون دان حامد خان، عمران خان کے وکیل کے طور پر پیش ہوئے۔جب 2003 میں مشرف نے توہین عدالت کا آرڈیننس جاری کیا اس وقت مخدوم علی خان تو مشرف کیمپ کا حصہ تھے مگرحامد خان وکیلوں کے رہنما کے طور پر اس آرڈیننس کی زور شور سے مخالفت میں مصروف تھے۔ اس آرڈیننس کے تحت پہلے یوسف رضا گیلانی اور پھر کافی عرصہ بعد نہال، طلال اور دانیال کو سزا دینے کے درمیان یہ واقعہ رونما ہوا تھا کہ گیلانی صاحب کو نااہلی کی سزا سنانے والے افتخار چودھری نے بحیثیت چیف جسٹس عمران خان کو بھی توہین عدالت کا ملزم ٹھہرایالیکن کہا جاتاہے کہ خواہش کے باوجود وہ بوجوہ عمران خان کو یوسف رضا گیلانی کی طرح سزا نہیں سنا پائے تھے۔
عمران خان کو ایک مرتبہ پھر توہین عدالت کے مقدمے کا سامنا ہے ، اس مقدمے کے حوالے سے ایک مخمصہ تو یہ کہ کیا انہیں یوسف رضا گیلانی، نہال ہاشمی ، طلال چودھری اور دانیال عزیز کی طرح سزا ہوگی یا پھر وہی سلوک کیا جائے گا جو ان کے ساتھ پہلے روا رکھا گیا تھا۔ بعض لوگوں کے مطابق ان کے ساتھ جو بھی سلوک روا رکھا جائے گا اسی سے یہ تعین ہوگا کہ ان کے لیے حالات تبدیل ہو چکے ہیں یا اب بھی ویسے ہی ہیں کہ افتخار چودھری جیسا جج چاہتے ہوئے بھی انہیں سزا نہ دے پائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button