ColumnM Anwar Griwal

اللہ تعالیٰ کی عدالت میں جواب!! .. محمد انور گریوال

محمد انور گریوال

سراج تنویر کے چہرے پر اِس قدر بے بسی، کرب اور بے چارگی میںنے کبھی نہ دیکھی تھی۔ وہ میرا پرانا کلاس فیلو ہے، اس ناطے تین دہائیوں سے زائد عرصے سے دوستی کا تعلق قائم ہے۔ ہماری جب بھی ملاقات ہوتی ہے، تو ملکی حالات لازمی زیرِ بحث آتے ہیں، اس کے علاوہ اُس کا خیال ہوتا ہے کہ جو کچھ وہ بتائے گا، میں اُسے اپنا فرضِ عین جانتے ہوئے کالم کی شکل میں ڈھال دوں گا، اس کی یہ خواہش اکثر پوری نہیں ہو پاتی۔ گزشتہ کل وہ اچانک آدھمکا، یقین جانیے کہ اُس کی حالت دیکھ کر میں بھی یکدم پریشان ہو گیا۔ اُس کا رنگ پیلا پڑ رہا تھا، ہاتھ کانپ رہے تھے، ہونٹ کپکپا رہے تھے، آنکھیں انگارے اُگل رہی تھیں، ہوائیاں اُڑی ہوئی تھیں۔ میں اُس کے آتے ہی کھڑا ہو گیا، اُسے بٹھایا، پانی کا گلاس پیش کیا، مگر اُس کا بس چلتا تو میز پر پڑی چیزوں کو اُلٹ دیتا، ہاتھ میں پکڑے کاغذات کو پُرزے پُرزے کر دیتا، یا پھر اُنہیں ہاتھوں میں بھینچ کر چھوٹے چھوٹے گیند بنا دیتا۔ اُس نے بیٹھتے ہی دونوں ہاتھوں سے سر کو ایسے پکڑا جیسے اپنے بال کھینچ رہا ہو۔ میں نے چند لمحے خاموشی ہی کو ترجیح دی تاکہ وہ اپنی ذہنی کیفیت کو کسی ترتیب میں لے آئے۔
اُس کے ہاتھ میں بجلی کا بِل تھا، یونٹ تو صرف چھیالیس ہی استعمال ہوئے تھے مگر بِل آٹھ ہزار سے زائد کا تھا۔ وہ ایک درمیانہ سا سکول چلاتا ہے، جس کا بِل سینتیس ہزار روپے آگیا تھا۔ اب اُس نے بولنا شروع کیا۔ وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کا قائل تھا، مگر اس کا خیال تھا کہ ملکی حالات اور مہنگائی کا تعلق اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ہر گز نہیں، بلکہ یہ مشکلات و مصائب حکومتوں کے پیدا کردہ ہیں۔ اگر ملک میں سیلابی ریلوں سے بے حد تباہی پھیلی ہے تو اس میں بہت حد تک انتظامی نااہلی کا ہاتھ بھی ہے، آبی راستوں میں گھر اور ہوٹل وغیرہ بنا لینا، یا پھر ایسی ہی جگہوں پر فصلیں کاشت کر لینا، یہ ہماری قوم کا تجاوزات کرنے کا رجحان ہے۔ مگر پانی کا اس قدر زیادہ آجانا اللہ تعالیٰ کا عذاب بھی ہے۔ اس سب کچھ کے باوجود جب کروڑوں لوگ سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں، سیلاب زدگان کی بحالی کے لیے اندرون اور بیرون ملک امداد کی اپیل کی جارہی ہے، دوسرے ممالک بھی مدد کر رہے ہیں، حتیٰ کہ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بھی حالات کا جائزہ لینے خود پہنچے ہیں، بچے بھی اپنی جیب خرچ کو ریلیف میں دے رہے ہیں، تو حکمرانوںیا بیوروکریسی وغیرہ نے اپنی عیاشیوں میں ایک روپے کی کمی کیوں نہیں کی؟ اربوں روپے کے اضافی پٹرول اور دیگر عیاشیوں کو کم کرنے کا فیصلہ کیوں نہیں ہوا؟ حکومتی اور سرکاری ایوانوں میں بیٹھ کر سیلاب میں ڈوبے بے بسوں اور بے کسوں کے حقیقی درد کا اندازہ کون لگا سکتا ہے؟
اگر بجلی آئے روز اتنی مہنگی کرنا پڑتی ہے، تو حکمرانوں اور بیوروکریسی کے گھروں، دفتروں اور راہداریوں سے اے سی ہٹا کیوں نہیں دیئے جاتے؟ کیا اِ ن کا یہ خیال ہے کہ جب ساری قوم ڈوب جائے گی تو یہ اِن عیاشیوں میں مگن رہ سکیں گے؟ ہرگز نہیں! ڈوبتی مرتی قوم اِن کے محلات پر چڑھ دوڑے گی۔ یہاں کوئی حکمران یا کوئی اپوزیشن رہنما یہ خیال کرے کہ صرف حکمرانوں کی ہی گردن دبوچی جائے گی تو اس کا یہ خیال خام ہے۔ سرکاری وسائل کو مالِ غنیمت جاننے والا ہر فرد ہی مجرم ہے۔ اِن میں بے حسی اور سنگدلی اس قدر زیادہ ہے کہ دوسروں کو ڈوبتے اور مہنگائی کے ہاتھوں مرتے دیکھ کر بھی یہ خیال نہیں آتا کہ ہمارے لیے یہ جائز نہیں، یا یہ کہ ہم دوسروں کا حق کھا رہے ہیں۔ کیا وہ نہیں جانتے کہ انجام کیا ہوگا؟ اُس سے جذبات کی ترتیب نہیں بن پا رہی تھی، اپنی روایتی سادگی اور سلیم الفطرت کی وجہ سے وہ گالی گلوچ سے گریز کر رہا تھا، اُسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اپنا غصہ کیسے نکالے ؟ اور کس پر نکالے؟ اپنے اخراجات پورے نہ ہونے کا اسے یقیناً صدمہ تھا، بے بسی اور گُھٹن نے اسے اپنے خونی پنجوں میں جکڑ رکھا تھا لیکن زخموں پر نمک چھڑکنے والا کام مقتدر طبقات کی لامحدود اور ظالمانہ عیاشیاں تھیں۔
اس کا سکول پنجاب ایجوکیشن فائونڈیشن کے ساتھ الحاق شدہ ہے، جسے ایک نیک نام اور قواعد و ضوابط کا پابند ادارہ جانا جاتا ہے۔ اگر کسی مانیٹرنگ میں بچے مطلوبہ تعداد سے کم ہوں تو کٹوتی اُس وقت تک جاری رہتی ہے، جب تک دوبارہ مانیٹرنگ نہیں ہو تی۔ یوں چھٹیوں سے قبل مانیٹرنگ والے دن اس کی حاضری کم تھی، ماہانہ ایک لاکھ روپے کٹوتی کو تین ماہ گزر گئے ہیں، اُس نے اللہ تعالیٰ کو گواہ بنا کر کہا کہ میری بچت کبھی ایک لاکھ تک نہیں پہنچی۔ تین ماہ سے وہ بے حد مقروض ہو چکا ہے۔ پہلے یہ قانون تھا کہ دس ہزار روپے چالان جمع کروا کے ’’ری وِزٹ‘‘ کی درخواست دے سکتے تھے، اب یہ بھی نہیں رہا۔ قانون آخر آسانی کیلئے کیوں نہیں بنائے جاتے؟ دوسرا یہ کہ آٹھ سال بعد بڑی کلاسوں کی فیس میں سو اور پچاس روپے ماہانہ اضافہ کیا گیا ہےجبکہ نرسری سے تیسری تک ایک روپیہ بھی اضافہ نہیں ہوا۔ ہم اخراجات کس طرح پورے کریں؟ اُس نے ایک دلچسپ نکتہ بیان کیا کہ اِس عمر میں ہمیں اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے عبادت پر توجہ دینے کی ضرورت ہے مگر ہماری ساری عبادتیںاور دعائیں حکمرانوں اور اداروں سے اپنا حق مانگنے میں صرف ہو رہی ہیں۔ وہ وقفے وقفے سے بول رہا تھا ،چائے میز پر پڑی اُس کا انتظار کر رہی تھی، اس نے صوفے پر سر ٹِکا کر انگارے برساتی آنکھیں بند کر لیں۔ چند لمحے بعد میں نے دیکھا کہ اس کی آنکھ سے ٹپک کر آنسو اُس کے رُخسار پر نمودار ہوا ۔ میں بھی اتنا ہی بے بس تھا جتنا وہ۔ آنسو دیکھ کر میرا دل لرز کے رہ گیا، مظلوم کی آہ کو عرش تک پہنچنے میں کسی رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ یہ حکومتیں اور مقتدر طبقے جو خود عیاشیاں کرکے دوسروں کے حقوق ڈکارتے ہیں، استحصال کرتے ہیں، کیا انہوں نے اللہ تعالیٰ کی عدالت میںاپنی بد عملی کا جواب سوچ رکھا ہے؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button