Editorial

سیلاب کے باعث ضمنی انتخابات کا التوا

پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا کے قومی اور صوبائی اسمبلی کے 13حلقوں میں 11، 25 ستمبر اور 2 اکتوبر کو ہونے والے ضمنی الیکشن ملتوی کردئیے گئے ہیں۔الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق پولیس، پاک فوج، رینجرز، کانسٹیبلری اور انتظامیہ سیلاب متاثرین کے لیے امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں، الیکشن کمیشن نے وزارت داخلہ سے پاک فوج، رینجرز اور کانسٹیلبری کی خدمات طلب کی تھیں لیکن قومی ایمرجنسی کے باعث ان کی تعیناتی کی تا حال یقین دہانی نہیں کروائی گئی۔ علاوہ ازیں خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورت حال کو بھی بنیاد بناکر کہاگیا کہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال کشیدہ ہے اور حالیہ دنوں میں قانون نافذ کرنے والےاداروں پر حملے کیے گئےہیں۔سیکرٹری الیکشن کمیشن کے مطابق وزارت داخلہ نے بتایا کہ پاک فوج، رینجرز اور ایف سی سیلاب کےباعث امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں، وزارت داخلہ نے بتایا ہے کہ سکیورٹی فورسز دہشت گردی کی کارروائیوں کی روک تھام میں مصروف ہیں،اس لیے سکیورٹی فورسز کی پرُ امن ضمنی الیکشن کے لیے دستیابی مشکل اور سکیورٹی فورسز کی عدم موجودگی پُر امن الیکشن کے انعقاد کے لیے موزوں نہیں ہے۔ ضمنی انتخابات کی پولنگ ملتوی ہونے پر حکمران اتحاد اور حزب اختلاف نے اپنے ردعمل میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کو جہاں اپنے فیصلے پر نظرثانی کے لیے کہا ہے وہیں اپنی اپنی جگہ موقف اختیار کیا ہے کہ اُن کی ضمنی انتخابات میں جیت یقینی تھی۔ انتخابات میں حصہ لینے والی پارٹیوں نے اِس معاملے پر عدالتوں سے بھی رجوع کرلیا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی ملتان اور سندھ، عوامی نیشنل پارٹی خیبر پختونخوا جبکہ پاکستان تحریک انصاف تمام ہی نشستوں پر یقینی جیت کی دعوے دار ہے اور انتخابات ملتوی ہونے کی وجہ سے جہاں پارٹیوں کی قیادت نے نیا لائحہ عمل اختیار کیا ہے وہیں ضمنی انتخابات میں حصہ لینے کے امیدوار بھی الیکشن کمیشن کا فیصلہ واپس ہونے کے لیے دعا گو ہیں کیونکہ این اے 157ملتان،پی پی 139شیخوپورہ اور پی پی 241باولنگر میں 11ستمبر۔ این اے 22 مردان، این اے 24چارسدہ،این اے 31 پشاور، این اے 45 کرم، این اے 108فیصل آباد،این اے 118ننکانہ صاحب، این اے 237 ملیر،این اے 239کورنگی کراچی اور این اے 246کراچی میں 25ستمبر اور ی پی 209خانیوال میں 2اکتوبر پولنگ کے لیے شیڈول کے مطابق مقررکیے گئے تھے۔ کاغذات نامزدگی دائر ہونے سے سکروٹنی اور انتخابی نشانات دیئے جانے تک تمام مراحل شیڈول کے مطابق مکمل ہوچکے تھے اورحالیہ دنوں میں ان انتخابات میں حصہ لینے والی تمام سیاسی
پارٹیاں بالخصوص مسلم لیگ نون، پاکستان پیپلزپارٹی، تحریک لبیک پاکستان اور پاکستان تحریک انصاف اپنے اپنے امیدواروں کی کامیابی کے لیے رابطہ عوام مہم تیزی کے ساتھ جاری رکھے ہوئے تھیں۔ یہ ضمنی انتخابات اِس لیے بھی اہم تھے کہ قومی اسمبلی کی نشستیں تحریک انصاف کے منتخب اراکین اسمبلی کے استعفوں کی وجہ سے خالی ہوئیں جن میں سے ایک نشست پر وائس چیئرمین تحریک انصاف شاہ محمود قریشی کی صاحبزادی مہربانو جبکہ باقی نو حلقوں میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان خود امیدوار تھے، یہ الگ بحث ہے کہ عمران خان کا بیک وقت نو حلقوں سے انتخاب لڑنے کتنی بحث چھیڑ چکا ہے، وفاق میں حکومت کی تبدیلی کے بعد ابھی تک عمران خان کا استعفیٰ سپیکر قومی اسمبلی نے منظور نہیں کیا تاہم جن درجن بھر اراکین کے استعفے منظور کیے ہیں اُن کی خالی نشستوں پر عمران خان خود میدان میں ہیں حالانکہ اُن کی جگہ پر پی ٹی آئی میں موزوںامیدواروں کی کمی نہ تھی پس یہ نو حلقے اِس لیے بھی اہمیت کے حامل تھے کہ عمران خان خود اُن حلقوں سے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں، وہ رابطہ عوام مہم کے سلسلے میں اِن حلقوں میں جلسے بھی کرچکے ہیں اور ان کی غیر موجودگی میں مقامی قیادت اُن کی رابطہ مہم بھی چلارہی ہے لیکن دوسری طرف پی ڈی ایم یعنی حکومتی اتحاد کی کسی سرکردہ شخصیت نے عمران خان کے مدمقابل انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان ہیں اور اپنے مقامی امیدواروں کو ہی عمران خان کے مدمقابل میدان میں اُتارا ہے۔ چونکہ 17 جولائی کو پنجاب کے 14 اضلاع کے 20 صوبائی حلقوں میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف نےصوبائی اسمبلی کی 20میں سے 15 نشستوں پر کامیابی حاصل کی اوراِس کامیابی کے نتیجے میں پنجاب میں دوبارہ وزارت اعلیٰ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی اِس لیے اب بھی یہی توقع پی ٹی آئی کی قیادت کی جانب سے کی جارہی تھی کہ چونکہ عمران خان خود امیدوار ہیں اِس لیے ان تمام نو حلقوں میں اُن کی کامیابی یقینی ہے، اسی طرح صوبائی اسمبلی کی خالی نشستیں جو مسلم لیگ نون سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی کے استعفوں کی وجہ سے خالی ہوئیں، پی ٹی آئی کا دعویٰ تھا کہ وہ یہ نشستیں بھی حاصل کرلے گی، اسی طرح پیپلز پارٹی کو توقع تھی کہ ملتان سے سید یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے علی موسیٰ گیلانی آسانی سے یہ نشست جیت جائیں گی اسی طرح کراچی کی نشستیں بھی جیتنے کی امید تھی، حکومتی اتحاد میں شامل عوامی نیشنل پارٹی بھی خیبر پختونخوا سے اس بار کامیابی حاصل کرنے کی دعویدار تھی ، پس الیکشن کمیشن کے حالیہ فیصلہ نے سبھی کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے، اب سبھی عدالتی فیصلے کے منتظر ہیںتاکہ اس فیصلے کی روشنی میں انتخابی مہم کو آگے بڑھایاجاسکے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ عدالت تمام تر حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے درست فیصلہ دے گی اوریقیناً سبھی فریقین کو عدالتی فیصلے کا احترام کرنا چاہیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button