Ali HassanColumn

سیلاب زدگان کیلئے صحت کی سہولتیں یکسر ناپید .. علی حسن

علی حسن

صوبہ سندھ میں عام حالات میں تو یہ دعویٰ مضحکہ خیز لگتا ہے کہ علاج معالجہ کی مکمل سہولتوں پر توجہ دی جاتی ہے لیکن ماہ جولائی اور اگست میں ہونے والی بارشوں سے پیدا ہونے والی سیلابی کیفیت میں صحت کی سہولتوں کی بات کرنا بھی ظالمانہ مذاق لگتا ہے کہ متاثرین کے علاج معالجہ پر بھر پور توجہ دی جا رہی ہے ۔ بارشوں میں عملاً ایسا نہیں ہو سکا۔ یہاں تو صحت سے متعلق زیادہ تر سہولتیں اور ہسپتال تو پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں اور جو ڈوبنے سے محفوظ رہے ہیں وہاں ضرورت مند لوگ اس لیے جا نہیں سکتے کہ ضرورت مند تو پانی میں گھرے ہوئے ہیں۔
محکمہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر جمن باہوٹو نے تصدیق کی ہے کہ ڈائریا کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور ملیریا کے ایک ہزار مریض روز انہ آرہے ہیں۔ سندھ کے 24 اضلاع میں سے اکثریت کو آفت زدہ بھی قرار دیا گیا ہے۔ پی ڈی ایم اے کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق یکم ستمبر تک ہلاک ہونے والوں میں180 مرد، 88 خواتین اور 215 بچے شامل ہیں۔ سیلاب زدگان کو درپیش مشکلات پر ڈاکٹر عذرا پے چو ہو صوبائی وزیر صحت نے بھی سیلاب کے کئی دنوں بعد تشویش کا اظہار کرتے کہا ہے کہ سینکڑوں مراکز صحت پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ساری صورت حال میں وہ خواتین سخت پریشانی سے دوچار ہیں جو امید سے ہیں۔ڈائریا ہونے کی وجہ یہ ہے کہ پانی میں گھرے ہوئے لوگوں کے پاس اول تو خوراک موجود ہی نہیں اور جو خوراک پہنچتی بھی ہے وہ حفظان صحت کے اصولوںکے برعکس پہنچتی ہے۔اکثر مقامات پر پلاسٹک کی ایک تھیلی میں چاول جسے عام طورپر بریانی کا نام دیا جاتا ہے، پہنچائی جاتی ہے۔ یہ تھیلی بھی کسی کو میسر ہوتی ہے اور بہتوں کو نہیں۔ کسی بھی علاقے میں متاثرین کی صحیح تعداد سے کوئی واقف نہیں کہ ابھی تک کوئی باضابطہ سروے ہی نہیں ہو سکا ۔ پینے کے پانی کی اشد ضرورت ہے لیکن اس کے پہنچانے کا کوئی سرکاری یا غیر سرکاری انتظام نہیں۔ متاثرین کی بہت بڑی تعداد اپنے اپنے علاقوں کے قریب تر سڑکوں کے کناروں پر ہی پناہ لئے ہوئے ہیں۔ ان کے ہمراہ مویشی بھی ہیں۔ دن کو گرمی اور رات کو مچھروں کی بھر مار نے لوگوں خصوصاً بچوں کو ملیریا کے مرض میں مبتلا کر دیا ہے۔ محکمہ صحت کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ایک ہزار مریض روز انہ رپورٹ کر رہے ہیں۔ یہ اعداد و شمار چوں کہ محکمہ صحت کے سربراہ نے دیئے ہیں اس لئے ان پر یقین کرنا ہوتا ہے لیکن پانی سے متاثرہ اضلاع میں ذرائع ابلاغ کیلئے کام کرنیوالے رپورٹر اس کے برعکس بات کرتے ہیں۔ خیرپور میں کام کرنے والے صحافی عرفان پھلپوٹہ کا کہنا ہے کہ جب ہر طرف پانی ہی کھڑ اہو اور ہر عمارت پانی میں گھری ہوئی ہو تو ہسپتال کیسے محفوظ ہوں گے۔ لیڈی ولنگٹن ہسپتال بڑا ہسپتال ہے لیکن وہاں آپریشن بند ہیں۔ باقی تعلقہ اسپتال ٹھری میر واہ، فیض گنج، پیر جو گوٹھ، سوبو ڈیرو، کوٹ دیجی، نارو میں بند ہیں۔ عبدالفتح پیر جو گوٹھ (خیر پور کا ایک معروف قصبہ) میں رہائش رکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ تعلقہ کنگری کا جو ہسپتال ہے، چھ سات فٹ پانی کھڑا ہے۔ وہ بند ہے۔ ضلع کے ہسپتال کچھ چل رہے ہیں کچھ نہیں ۔ شہداد کوٹ کمبر کے رپورٹر نور کھوسو کا کہنا ہے کہ ہسپتالوں کی صورت حال بہت خراب ہے۔ جو کھلے ہوئی بھی ہیں وہاں سے مریضوں کو علاج کے نام پر گولیاں ہاتھ پر رکھ دی جاتی ہیں۔ ہسپتالوں میں لوگ داخل بھی ہو رہے ہیں لیکن ان کا علاج تو برائے نام ہی ہے۔
راقم نے جب محکمہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل سے سوال کیا کہ محکمہ گشتی سروس کا انتظام کیوں نہیں کرتا تو انہیں نے اعداد و شمار کا ایک چارٹ پوسٹ کر دیا۔ یکم جولائی سے تین ستمبر تک کے چارٹ کے مطابق 293 موبائل کیمپس میں 46409 مریضوں کا علاج کیا گیا، 157 فکسڈ کیمپس میں 20544 مریضوں کا علا ج کیا گیا، میڈیکل ڈاکٹر متعین موبائل کیمپس، 354، فکسڈ کیمپس میں 142 ڈاکٹر ہیں۔ اس سے قبل انہوں نے بتایا تھا کہ جہاں جہاں بھی خشک جگہیں میسر ہیں وہاں میڈیکل کیمپس بنائے گئے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ عورتیں اور بچے سے زیادہ متاثر ہیں جو پانی میں گھرے ہوئے ہیں۔ حاملہ خواتین بھی ذہنی اور جسمانی اذیت سے گزر رہی ہیں۔ کسی جگہ بھی لوگوں کو ایسی ایمبولنس چلتی ہوئی نظر نہیں آئی جو کسی متاثرہ مریض کو ہسپتال پہنچا سکے۔
ایک زمانہ میں جاپان نے دو گشتی ہسپتال فراہم کئے تھے۔ یہ ہسپتال اس حد تک مکمل تھے کہ ان میں ضرورت کے وقت آپریشن بھی کئے جاسکتے تھے مگر ان کو حکومت میں شامل اس دور کے ذمہ داروں نے ذاتی مقاصد کیلئے استعمال کر کے انہیں ناکارہ کر دیا۔ محکمہ صحت اپنے پاس موجود ایمبولنسوں کو بھی اس قابل نہیں کر سکتا کہ ہنگامی صورت حال میں ان سے ہسپتال کا کام لیا جا سکے۔
ضلع جامشورو میں جہاں بارش کے پانی نے تباہی تو پھیلائی ہی تھی لیکن منچھر جھیل کو بری طرح متاثر کیااور اس میں پانی کی سطح کو خطر ناک حد تک بڑھا دیا، اس کے اطراف میں رہائش رکھنے والے لوگ کہاں اور کیسے ہسپتالوں کا رخ کر سکیں گے۔ سیہون میں عبداللہ شاہ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ موجود ہے، وہاں سہولتیں بھی ہیں لیکن وہاں صرف سیہون کے ان علاقوں سے لوگ آسکتے ہیں جو پانی سے محفوظ ہیں۔ انسٹیٹیوٹ کے سربراہ ڈاکٹر معین صدیقی سوشل میڈیا پر خون کے عطیہ کی اپیل کر رہے ہیں تاکہ خون زچگی کے دوران استعمال کیا جا سکے۔ بارش کے پانی سے پھیلنے والی تباہی ہو یا سیلاب سے ممکنہ تباہی کا المیہ یہ ہے کہ کسی بھی محکمہ کے پاس کسی قسم کی ایس او پی نہیں ہے۔ ایس او پی کو کم از کم محکمہ آبپاشی، صحت، کے اہل کاروں کے پاس تو ضرور ہونا چاہیے تھا۔ ایس او پی کی غیر موجودگی کی وجہ سے لوگ صحت کی سہولتوں کے فقدان کی وجہ سے بری طرح متاثر ہیں۔ جن جن اضلاع میں سیلابی بارش نے متاثر کیا ہے وہاں صحت کی سہولتیں ناپید ہیں۔
قدیر میمن قومی شاہراہ پر واقع ضلع نو شہرو فیروز میں کاروبار کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ضلع کے کسی تحصیل میں کہیں بھی علاج معالجہ کی سہولت موجود نہیں۔ رورل ہیلتھ کنڈیارو، تعلقہ بھریا، رورل ہیلتھ سارے پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ ڈسٹرکٹ ہسپتال گزشتہ بیس دن سے پانی میں ڈوبا ہوا ہے۔ آپریشن تھیٹر کام نہیں کررہے ہیں۔ ڈائریا، ملیریا وغیرہ کی دوائیں نہیں ہیں، سرنج تک نہیں ہے۔ دوائوں کیلئے لکھ کر دیا جاتا ہے کہ بازار سے لے آئو۔ متاثرین کی جیب میں تو پیسہ ہی نہیں ہوتا تو وہ کیا کریں۔ جانور مر رہے ہیں، بدبو پھیل رہی ہے۔ کہیں بیماری کی وجہ سے کہیں بھوک کی وجہ سے ۔ ان کیلئے چارہ کا کوئی انتظام نہیں ۔ ان کیلئے پینے کے پانی کا کوئی انتظام بھی نہیں۔ مچھر بری طرح پھیل گیا ہے ۔ لوگ رات کو سو نہیں سکتے ۔ مچھر دانی میسر نہیں ، راشن نہیں ہے، ریسکیو ریلیف نہیں ہے۔ مچھر سے جانور بھی پریشان ہیں۔ لوگوں نے ایک ہی حل تلاش کیا ہے کہ دھواں پیدا کرنے والی کوئی چیز جلا دیتے ہیں جس کی وجہ سے انسان اور جانور مچھروں سے محفوظ رہتے ہیں۔ کرونا سے اتنے تباہ نہیں ہوئے جتنے بارشوں میں بڑے زمینداروں کے ہاتھوں مشکل کا شکار ہوئے ہیں۔ تمام بااثر لوگوں نے اپنی زمینوں سے پانی کی نکاسی کرا لی اور پانی کو سڑک پر پھینک دیا۔ تصور شاد راجپوت سینئر صحافی ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ضلع نو شہرو فیروز کا بڑا شہر مورو میں ہسپتال عملاً بند ہیں۔ قاضی احمد، دولت پور صفن وغیرہ جیسی تحصیلوں کے ہسپتال کام نہیں کر رہے ۔ جن علاقوں میں زرعی زمینیں موجود ہیں وہاں تو گھٹنوں گھٹنوں پانی کھڑا ہے ۔ لوگ جانے کے قابل ہی نہیں ہیں۔ تنویر آرائیں بدین پریس کلب کے صدر ہیں۔ کہتے ہیں کہ ڈسٹرکٹ ہسپتال تو بہتر ہے کیوں کہ وہ ایڈس ہسپتال کے تحت کام کر رہا ہے۔ تعلقہ ہسپتالوں اور بنیادی ہیلتھ سینٹروں میں علاج کی اچھی سہولت نہیں ہے کیونکہ ڈاکٹروں اور ادویا ت کی کمی عام ہے۔ شکارپور میں کام کرنے والے صحافی زاہد نون کا کہنا ہے کہ ضلع ہسپتال کام تو کر رہا ہے لیکن ضرورتیں زیادہ ہیں۔ لوگ سیلاب کی وجہ سے بے گھر ہوجانے کی مشکل سے دوچار ہیں لیکن انہیں سب سے زیادہ مشکل صحت کی سہولتیں ناپید ہو نے کی وجہ سے ہیں۔ اس تماش گاہ میں کب تک ایسے چلے گا؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button