تازہ ترینخبریںسیاسیات

عمران خان کے خلاف فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ، آگے کیا ہوگا؟ قانونی ماہرین کی رائے

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایڈیشنل جج زیبا چوہدری سے متعلق دیے گئے بیان پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف توہین عدالت پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے تحریری حکم نامے میں کہا کہ ‘وکیل صفائی، اٹارنی جنرل اور عدالتی معاونین کو سنا اور وکیل نے دوبارہ جمع کرائے گئے جواب سے آگاہ کیا، جو توہین عدالت کی کارروائی شروع ہونے کا باعث بننے والی تقریر کی وضاحت تھی’۔

حکم نامے میں نہال ہاشمی اور فردوس عاشق اعوان سمیت مختلف مقدمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ ‘جواب کو اطمینان بخش نہیں پایا گیا، ہم اس بات پر قائل نہیں ہیں کہ جواب میں مبینہ طور پر ان کے خلاف توہین سے متعلق جاری شوکاز نوٹس پر صفائی پیش کی’۔

اس فیصلے کے حوالے سے قانونی ماہرین نے اپنی رائے دی:

وکیل مرزا معیز بیگ

مرزا معیز بیگ کا عمران خان پر فرد جرم عائد کرنے کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے سابق وزیراعظم عمران خان پر فرد جرم عائد کرنے کے فیصلے کا مطلب یہ ہے کہ ان کے قانونی چیلنجز ابھی ختم نہیں ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے متعدد مواقع پر عدالتی طرز عمل کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کرنے والوں کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی سے گریز کیا اور کہا کہ عدالتوں کی عزت اور وقار صحیح بنیادوں پر کھڑا ہونا چاہیے، اسلام آباد ہائی کورٹ کسی بھی دوسری عدالت کی طرح سپریم کورٹ کی نظائر کی پابند ہے۔

مرزا معیز بیگ نے کہا کہ اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان کے خلاف کیس سینیٹر نہال ہاشمی کے کیس سے ملتا جلتا ہے، جس میں عدالت نے انہیں سزا سنائی تھی کہ انہوں نے جو دھمکیاں دی ہیں وہ زیر التوا مقدمات کی کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے اور مداخلت کرنے کی کوشش تھی۔

اس کیس کا فیصلہ کرنے والے جج بھی مشکل پوزیشن میں ہیں کیونکہ عمران خان کے خلاف فیصلہ کرنے سے مخصوص طبقے کی طرف سے سخت ردعمل سامنے آسکتا ہے کیونکہ ان کی مقبولیت عہدے سے ہٹنے کے بعد بڑھی ہے، ججوں کے خلاف دھمکی آمیز زبان کے سیاسی طور پر حساس مقدمات کی سماعت سے عدلیہ کا مورال متاثر ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مزید یہ کہ کوئی بھی ایسا فیصلہ جو محض تھپڑ مارنے کے مترادف ہے، اس سے اُن سیاسی جماعتوں کے جذبات بھڑک سکتے ہیں، جن کے رہنماؤں کو اسی طرح کی تقاریر کرنے پر توہین عدالت کے مقدمے میں سزا دی گئی تھی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان یہ دیکھنے کا منتظر ہے کہ مقبول ترین رہنماؤں میں سے ایک کو توہین عدالت کا مرتکب ٹھہرایا جاتا ہے یا قانون کی حکمرانی اس رہنما کے حق میں آتی ہے، اس لیے ان کارروائیوں کا فاتح واضح نہیں، تاہم ہارنے والا ایک بار پھر جمہوریت اور سیاسی استحکام ہوگا۔

وکیل عبدالمعیز جعفری

عبدالمعیز جعفری کا کہنا تھا اگر عمران خان کو انتخابی دائرے سے باہر نکالا گیا تو اس سے جمہوری خسارہ اتنا بڑا ہو جائے گا کہ عام انتخابات سمیت کسی بھی سیاسی بحالی کو غیر قانونی قرار دیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ عدلیہ کو اس بات کا علم ہے اور اس نے عمران خان کے ساتھ بچوں کے دستانے والا سلوک کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تاہم اگر ان کو ماتحت ججوں اور خاص طور پر خاتون جج کو دھمکانے پر ایسے ہی جانے دیا جاتا ہے تو یہ ادارے کے لیے برداشت کرنا بہت مشکل ہوگا۔

عبدالمعیز جعفری نے کہا کہ ہر شخص توہین عدالت کی تاریخ سے واقف ہے اور اسے ماضی میں کس طرح طلال چوہدری، دانیال عزیز اور نہال ہاشمی کے خلاف استعمال کیا گیا، سپریم کورٹ نے جو مثال قائم کی ہے، عدالت نے اس سے یاد دلاتے ہوئے تکلیف محسوس کی۔

عبدالمعیز جعفری کا کہنا تھا کہ آپ غیر مشروط معافی مانگتے ہیں اور اپنے آپ کو عدالت کے رحم و کرم پر چھوڑتے ہیں اور عقل مند کوئی بھی ہو پہلی سماعت پر ہی ایسا ہی کرتا ہے۔

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ عمران خان کو عقل سے دیکھنے سے پہلے 2 چیزیں نظر آتی ہیں، ان کے لیے کیا چیز کارآمد ہوگی اور جمہوریت کی بساط پر ان کا اپنا وزن کتنا ہے۔

عبدالمعیز جعفری کا کہنا تھا کہ انہوں نے غیر مشروط معافی نہیں مانگی جو کہ فوری تقاضا تھا، اس نے عدالت کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے، پھر بھی عدالت نے انہیں جواب تبدیل کرنے کا موقع دیا، ان سے یہ کہنے کے بعد کہ وہ کیا کہنا چاہتے ہیں، پھر انہیں یہ سمجھنے میں 3 گھنٹے لگے کہ انہوں نے ابھی تک وہ نہیں کہا جو وہ چاہتے ہیں اور آج ان پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کرنے میں 3 گھنٹے لگے۔

انہوں نے کہا کہ قانون کی حکمرانی تمام لوگوں پر یکساں ہونی چاہیے، طلال چوہدری نے غیر مشروط معافی مانگی، انہیں نااہل قرار دے دیا گیا، عمران اب کاغذ پر جواز پیش کر رہے ہیں، بات چیت کرنے اور پہلی سماعت کے دوران مسکرانے کے بعد جس میں اسے ہتھیار ڈالنے کی ضرورت تھی لیکن عدالت نے اس کے بجائے خود کو سمجھاتے ہوئے دیکھا، اور پھر یہ اب بھی جاری ہے۔

بیرسٹر اسد رحیم

بیرسٹر اسد رحیم کا کہنا تھا کہ کیس کو اس تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے، عمران خان کی ایک تاریخ ہے، جب بات عدلیہ کی ہو تو وہ متنازع تبصرے کرتے ہیں اور بعد ازاں افسوس کا اظہار کرتے ہیں، ایک ایسا نمونہ جو عدالتوں کو عوام کی مرضی کے تابع بنائے جانے کے خطرات کے باوجود برقرار ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ لیکن اس کو ان کیسز سے جوڑا جائے، جیسا کہ نہال ہاشمی نے ججوں کے بچوں کو دھمکیاں دی تھیں یا طلال چوہدری جنہوں نے سینئر عدلیہ کا موازنہ پتھر کے بتوں سے کیا، یہ غیر ضروری موازنہ ہوگا، عمران خان غیر مشروط معافی مانگیں اور اس معاملے کو ختم کریں۔

سینیئر قانون دان شاہ خاور

سینیئر قانون دان شاہ خاور نے کہا کہ ہمیں یہ توقع تھی کیونکہ کل جب میں نے ان کا شو کاز نوٹس کا جواب پڑھا، اس سے پہلے بھی انہوں نے جواب دیا تھا، انہوں نے جو دوسرا جواب دیا تھا اس سے پہلے عدالت نے ان کو موقع دیا تھا کہ کس طرح آپ کو جواب دینا چاہیے، عدالتی فیصلوں کا ذکر بھی کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے یہ جو جواب داخل کیا تھا، اس میں انہوں نے غیر مشروط معافی نہیں مانگی تھی، خود کو عدالت کے رحم و کرم پر بھی نہیں چھوڑا تھا، افسوس یا ندامت کا اظہار کرنا کافی نہیں ہوتا کیونکہ توہین عدالت کےجو مقدمات ہوتے ہیں، وہ بھی جس میں جج یا عدالت کو دباؤ میں لانے کا الزام ہو، اس میں ایک ہی دفاع ہوتا ہے، وہ ہے غیر مشروط معافی کا۔

شاہ خاور کا کہنا تھا کہ جب جج صاحبان نے ان کا جواب پڑھا، انہوں نے یہی تاثر لیا کہ بجائے اس کے وہ غیر مشروط معافی مانگیں، انہوں نے اپنے مؤقف کا دفاع کرنے کی کوشش کی، اس میں ہمیں بھی یہ امید تھی کہ اگر وہ غیر مشروط معافی نہیں مانگیں گے تو ان پر فرد جرم عائد ہوسکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جتنا مواد عدالت کے سامنے ہے، انہوں نے مناسب سمجھا کہ فرد جرم عائد کی ہے، یہ صورت حال عمران خان کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے۔

وکیل فیصل چوہدری

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وکیل فیصل چوہدری نے کہا کہ طلال چوہدری سمیت 3 فیصلوں کا ذکر کیا گیا، ان میں کرمنل توہین عدالت نہیں تھی، اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ بڑا فیصلہ ہے لیکن عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ جیسے دونوں بہت ہی محترم اور سینئر قانون دان منیر اے ملک اور مخدوم علی خان نے جو دلائل دیے، ان کی رائے کو سپورٹ یا اپنانا چاہوں گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ 5 ججوں نے فیصلے میں فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، 22 ستمبر کو دیکھتے ہیں، عمران خان کے پاس جو قانونی آپشن ہوں گے، کیا وہ ان کو استعمال کرنا چاہیں گے یا نہیں، وہ معاملات ان کی قانونی ٹیم بہتر سمجھ سکتی ہے کہ وہ اس کو آگے کیسے لے کر چلنا چاہیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button