23 مئی 2019
تازہ ترین
سپریم کورٹ کا میشا شفیع کے وکیل پر اظہار برہمی

سپریم کورٹ کا میشا شفیع کے وکیل پر اظہار برہمی

  سپریم کورٹ نے علی ظفر اور میشا شفیع کیس میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ عدالتی فیصلہ کوئی آسمانی صحیفہ نہیں ہوتا اور غلط بھی ہو سکتا ہے۔ سپریم کورٹ میں میشا شفیع کے خلاف علی ظفر کی ہتک عزت کے دعویٰ پر سماعت ہوئی۔ جسٹس اعجازالاحسن نے میشا شفیع کے وکیل سے کہا کہ آپ کیا چاہتے ہیں کہ تمام گواہان کے بیان ایک ساتھ ہوں اور جرح بھی ایک ساتھ ہو، آپ کس قانون کے تحت ایسا چاہتے ہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ یہ عدالت نے طے کرنا ہے گواہان کے بیان کیسے لینے ہیں، عدالت آپ کی خواہش کے مطابق گواہوں کے بیان نہیں لے سکتی، آپ متعصب ہو رہے ہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے میشا شفیع کے وکیل سے استفسار کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو کتنا عرصہ ہوگیا وکالت کرتے ہوئے جس پر وکیل نے جواب دیا مجھے گیارہ سال ہو گئے ہیں۔ میشا شفیع کے وکیل کے جواب پر جسٹس اعجازالاحسن نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ نے گیارہ سال میں کبھی دیکھا کہ پہلے سب کے بیان ریکارڈ ہوں اور پھرجرح کی جائے، میرے30 سالہ عدالتی تجربے میں ایسی کوئی مثال موجود نہیں۔ وکیل میشا شفیع نے کہا کہ میں کئی عدالتی فیصلوں کی نظیریں دے سکتا ہوں، کئی فیصلوں میں عدالت یہ بات کر چکی ہیں۔ جسٹس  نے کہا کہ ایسی کوئی عدالتی نظیر موجود نہیں، تاہم عدالتی فیصلہ بھی کوئی آسمانی صحیفہ نہیں ہوتا، فیصلہ غلط بھی ہو سکتا ہے۔ گلوکار علی ظفر کے وکیل نے کہا کہ گیارہ گواہان میں سے صرف ایک گواہ کا بیان ریکارڈ ہوچکا ہے۔ سپریم کورٹ نے مزید سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کردی۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟