سنچری کی خوشی سے زیادہ امام کو ہارنے کا غم

سنچری کی خوشی سے زیادہ امام کو ہارنے کا غم

انگلینڈ میں 150 رنز کی اننگز کھیلنے والے کم عمر ترین بلے باز کا اعزاز پانے والے امام الحق نے کہا ہے کہ اگر ٹیم جیت جاتی کافی اچھا ہوتا اور اس اننگز سے اعتماد میں مزید اضافہ ہواہے، انہوں نے کہا کہ بطور اوپنرٹیم کوچ اور کپتان نے جومیرا کردار طے کیا ہے اس میں وکٹ پر قیام کرنے کے ساتھ سکور بورڈ کو بھی متحرک رکھنا ہے، ساتھی اوپنر فخر زمان چوں کہ زیادہ جارحانہ انداز سے کھیلتے ہیں تو اس صورت حال میں میری ذمہ داری ہوتی ہے کہ ایک اینڈ سنبھالے رکھوں اور انہیں زیادہ کھیلنے کا موقع فراہم کروں، کوشش کرتا ہوں کہ پورے اوورز تک وکٹ پر موجود رہوں، ابتدائی دو وکٹ جلد گرجانے کے بعد بس یہ ہی سوچا تھا کہ  50 اوورز تک کھڑے ہوناہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک روزہ کرکٹ میں لمبا سکور بنانے کے لئے پہلے تین بلے بازوں میں سے کسی ایک کا آخر تک وکٹ پر ٹھہرنا بہت اہم سمجھاجاتا ہے، انگلینڈ کے لئے ہدف اتنا آسان نہیں تھا لیکن چند ڈراپ کیچز کی وجہ سے انہیں سکور بنانے میں آسانی ہوئی، ڈراپ کیچز بھی کھیل کا حصہ ہیں، اپنی غلطیوں سے سیکھ کر اگلے میچوں میں مزید اچھی پرفارمنس دینے کی کوشش کریں گے، مثبت چیز یہ ہے کہ ہر میچ میں سب   لڑکے جان مار رہے ہیں اور پرفارمنس میں بہتری لانے کے لئے محنت کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ورلڈکپ سے پہلے پریکٹس میچوں کے ساتھ انگلینڈ کے خلاف سیریز سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع مل رہاہے ، جو میگاایونٹ میں بہت کام آئے گا، اگر ٹیم جیت جاتی کافی اچھا ہوتا، اس اننگز سے اعتماد میں مزید اضافہ ہواہے،  کوشش ہوگی کہ اگلے آنے والے میچوں میں بھی کارکردگی کے اس تسلسل کو برقرار رکھوں اور ٹیم مینجمنٹ کی توقعات پر پورا اتروں۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟