24 مئی 2019
تازہ ترین
شاداب کی بیماری قومی ٹیم کیلئے بڑا دھچکا

شاداب کی بیماری قومی ٹیم کیلئے بڑا دھچکا

 مشتاق احمد نے شاداب خان کی بیماری کو پاکستان ٹیم کیلئے بڑا دھچکا قرار دے دیا۔ ایک انٹرویو میں مشتاق احمد نے کہا کہ ورلڈ کپ کیلئے اچھا کمبی نیشن بنایا گیا تھا لیکن شاداب خان کی بیماری پاکستان ٹیم کیلئے ایک دھچکا ثابت ہوئی، نوجوان لیگ سپنر گگلی میں مہارت کی وجہ سے بیٹسمین کو تذبذب کا شکار رکھتے ہوئے اننگز کے درمیانی اوورز میں بڑے کامیاب ثابت ہوتے ہیں، سرفراز احمد بھی ان کی صلاحیتوں پر اعتماد کرتے ہوئے انہیں اس وقت ہی بائولنگ دیتے ہیں جب ٹیم کو وکٹ کی ضرورت ہوتی، امید ہے کہ شاداب خان ورلڈ کپ سے قبل فٹ ہو کر ٹیم کو دستیاب ہوں گے۔ بطور متبادل سکواڈ میں شامل کئے جانے والے یاسر شاہ کے بارے میں مشتاق احمد نے کہا کہ سینئر لیگ سپنر اگر اپنی گگلی کو بہتر بنائیں تو محدود اوورز کی کرکٹ میں بھی اچھی کارکردگی دکھاتے ہوئے میچ ونر ثابت ہوسکتے ہیں، ان کے پاس لیگ سپنر، فلپر اور ٹاپ سپنر جیسے ہتھیار موجود اور لائن لینتھ بھی اچھی ہے لیکن بیٹسمین آگے نکل کر سٹروک کھیلنے لگیں تو دھوکہ دینے میں کامیاب نہیں ہوتے، وہ گگلی کا موثر طریقے سے استعمال سیکھ جائیں تو ٹیم کیلئے زیادہ مفید ثابت ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں تجربہ کار اور نوجوان کھلاڑیوں کے امتزاج پر مشتمل پاکستانی بیٹنگ لائن کے بارے میں زیادہ فکرمند نہیں ہوں، البتہ بائولنگ میں تجربے کی کمی نظر آتی ہے، جنید خان خود کو خطرناک پیس ہتھیار ثابت نہیں کر سکے، نوجوان پیسرز محمد حسنین اور شاہین شاہ آفریدی کو مسلسل رہنمائی کی ضرورت ہوگی، ورلڈ کپ میں پاکستان کی مہم کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ کپتان سرفراز احمد دستیاب وسائل کو کس انداز میں استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی سی بی کے ساتھ کام کرتے ہوئے میں اپنی موجودگی کا زیادہ احساس نہیں دلاسکا، اسی لئے الگ ہو جانا بہتر سمجھا، یہ بات درست ہے کہ بورڈ نے میرے معاہدے کی توسیع میں تاخیر کی، بہرحال ان کی اپنی پالیسی ہے جس سے کوئی اختلاف نہیں، انہوں نے کہا کہ سری لنکا، بنگلہ دیش اور ویسٹ انڈیز کوچنگ میں میری خدمات حاصل کرنے کے خواہاں تھے، کیریبئنز کے ساتھ وابستہ ہونا اس لئے پسند کیا کہ اپنی صلاحیتوں سے فرق ڈال سکتا ہوں۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟