سافٹ ڈرنکس  پینے کے نقصانات

سافٹ ڈرنکس  پینے کے نقصانات

آج کل ہر عمر کے افراد میں سافٹ ڈرنکس کا استعمال بہت زیادہ بلکہ روزانہ کیا جاتا ہے۔ حالیہ برسوں میں اس عادت کے حوالے سے متعدد طبی رپورٹس سامنے آئی ہیں جن میں سافٹ ڈرنکس کے حوالے سے جسم پر مرتب اثرات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔  کولڈ ڈرنکس میں شامل کاربونیٹ ایسڈ یا عام الفاظ میں گیس معدے میں جاکر ہوا بھر جانے کا باعث بنتا ہے جس سے پیٹ درد کی شکایت پیدا ہوجاتی ہے ۔ لندن کے رائل فری ہسپتال کی ایک تحقیق کے مطابق اگر آپ پہلے ہی پیٹ میں گیس بھرنے کے مریض ہیں تو ان مشروبات سے جسم کا حصہ بننے والی اضافی گیس صورتحال بدترین بنادیتی ہے، اس کے علاوہ ان مشروبات سے آنتوں کے امراض کا خطرہ بھی بڑھتا ہے جس سے نظام ہاضمہ کے مسائل ابھر آتے ہیں۔ سافٹ ڈرنکس میں پائے جانے والے فاسفورس ایسڈ، کیفین جیسے اجزا پیشاب آور ہوتے ہیں، جس کے نتیجے میں اس مشروب کو پینے کے ایک گھنٹے کے اندر اہم غذائی اجزا اور وٹامنز جسم سے خارج ہونے لگتے ہیں، تصور کریں اگر روزانہ ہو تو پھر کیا ہوگا؟ جسم میں وٹامنز کی کمی ہونے لگتی ہے۔ ان مشروبات میں موجود تیزابیت اور مٹھاس دانتوں کی سطح کو ختم کرنے کے ساتھ کیویٹیز کا امکان بڑھاتے ہیں۔ اگر اس میں وٹامنز کی کمی سے کیلشیم کی سطح میں کمی کو مدنظر رکھیں تو آسانی سے نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ دانت اندر اور باہر دونوں جگہ سے خراب ہونے لگتے ہیں اور بہت جلد ٹوٹنے کا خطرہ بھی پیدا ہوجاتا ہے۔ نیند کی کمی کے ساتھ ذہنی بے چینی یا تشویش وغیرہ کیفین کے استعمال کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ اکثر سافٹ ڈرنکس میں ایک کپ سٹرونگ کافی جتنی کیفین ہوتی ہے جو کہ لوگوں کے اندر اس کی لت پیدا کرتی ہے، یہی وجہ ہے کہ اگر سافٹ ڈرنکس کو چھوڑنے کا ارادہ کیا جائے تو سردرد، چڑچڑے پن، تھکاوٹ اور ڈپریشن وغیرہ کا سامنا ہوسکتا ہے۔ جب موٹاپے کی بات کی جائے تو یقیناً وہ کسی کو پسند نہیں ہوگا، ویسے تو جسمانی وزن میں اضافہ بذات خود کوئی مسئلہ نہیں مگر یہ جسمانی دفاعی نظام اور مختلف جسمانی نظاموں پر دبائو بڑھا دیتا ہے جبکہ جوڑ اور ہڈیاں الگ متاثر ہوتی ہیں جو کہ کیلشیم کی کمی سے پہلے ہی کمزور ہوچکی ہوتی ہیں۔ جسم میں صحت کے لئے نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح میں اضافہ ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھاتا ہے، اگر روزانہ صرف ایک سافٹ ڈرنک کا استعمال کیا جائے تو بلڈ پریشر میں اضافہ ہونے لگتا ہے جبکہ ذیابیطس ٹائپ ٹو کا خطرہ الگ پیدا ہوتا ہے۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟