رمضان میں بھوک اور کمزوری کا علاج

رمضان میں بھوک اور کمزوری کا علاج

 ہر مسلمان پورے جوش وجذبے کے ساتھ رمضان المبارک میں بھرپور عبادت کرنا چاہتا ہے ۔بوڑھے ہوں یا جوان یا بچے سب ہی کا جذبہ دیکھنے والا ہوتا ہے۔  طویل روزے میں اکثر لوگوں کوبھوک اور کمزوری کی شکایت ہوتی ہے اس کے باوجود ان کا عبادت کا جذبہ کم نہیں ہوتا ۔ دن بھر ہونے والی کمزوری کی وجہ نیند کی کمی، ناقص غذا اور ڈپریشن بھی ہوسکتا ہے۔ کچھ طریقوں پر عمل کرکے روزے میں ہونے والی کمزوری پر آپ آسانی سے قابوپاسکتے ہیں۔ روزے میں کمزوری کو دور کرنے کیلئے سب سے اہم چیز صحیح طرح سانس لینا ہے۔ جب ہم صحیح طرح سانس نہیں لیتے تو ہمارے پھیپھڑوں میں کم آکسیجن جاتی ہے جس کے بدلے میں جسم میں موجود کاربن ڈائی آکسائڈ بھی کم خارج ہوتی ہے ۔ جسم میں رہ جانے والی کاربن ڈائی آکسائڈ جسم کے سیلز کو نقصان پہنچانا شروع کر دیتی ہے اور ہمیں کمزوری محسوس ہونے لگتی ہے۔ اسی طرح جب ہم اچھی طرح سانس لیتے ہیں تو ہمارے جسم میں زیادہ آکسیجن جاتی ہے جو سیلز کوتوانائی فراہم کرتی ہے اور ہمیں کمزوری محسوس نہیں ہوتی۔ اکثر خیال کیا جاتا ہے کہ ورزش توانائی کو کم کرتی ہے جس کی وجہ سے کمزوری محسوس ہوتی ہے جبکہ ایسا ہرگز نہیں ۔ ورزش جسم کو نقصان پہنچانے والے ٹوکسن کو خارج کرکے ایسے ہارمونز بناتی ہے جو توانائی میں اضافہ کرتے ہیں ۔اس طرح ورزش سستی کا مقابلہ کرتی ہے۔ لہٰذا روزے میں کمزوری سے بچنے اور توانائی کو بڑھانے کے لئے ضروری ہے کہ سحری یا افطار کے بعد ہلکی پھلکی ورزش ضرورکی جائے۔ رمضان میں بھوک اور پیٹ کی خرابی کی سب سے بڑی وجہ سحر اور افطار میں کھایا جانے والا مضر صحت کھانا ہوتا ہے ۔ لوگ افطار اور سحری میں اپنی پسند اور مرضی کا کھانا کھاتے ہیں یہ سوچے بغیر کہ روزے کی حالت میں یہ کھانا ان پر کیا اثر ڈالے گا ۔اس طرح یا تو سحری کے بعد سے ہی انہیں بھوک لگنا شروع ہو جاتی ہے اور اگر وہ زیادہ مقدار میں کھاتے ہیں تو ان کا ہاضمہ خراب ہو جاتا ہے اور انہیں پیاس لگنا شروع ہوجاتی ہے۔ ان مسائل سے بچنے کے لئے بہتر ہوگا کہ آپ اپنے لئے ایسی غذا کا انتخاب کریں جس میں ہر طرح کے توانائی فراہم کرانے والے اجزا موجود ہوں ۔ افطار میں طرح طرح کے مشروبات رکھے جاتے ہیں اور لوگ تھوڑا سا پانی پی کر دوسرے مشروبات زیادہ، پیتے ہیں ان میں کیفین والے مشروب بھی شامل ہوتے ہیں ۔افطار سے سحری کے دوران پانی کے بجائے دوسرے مشروب پینے سے جسم میں پانی کی کمی ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے روزے میں کمزوری محسوس ہوتی ہے ۔ اس لئے ضروری ہے کہ افطار سے سحر کے دوران زیادہ سے زیادہ پانی پیا جائے تاکہ جسم کے خلیات کی ضرورت پوری ہوسکے اور زیادہ سے زیادہ ٹوکسن خارج ہو ۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟