24 مئی 2019
تازہ ترین
ہر ترقیاتی منصوبہ عوامی فلاح و بہبود کے لیے ہونا چاہیے ،وزیراعظم

ہر ترقیاتی منصوبہ عوامی فلاح و بہبود کے لیے ہونا چاہیے ،وزیراعظم

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سرمایہ کاری کے طریقہ کار کو آسان بنایا جائے، سرمایہ کاروں کو ون ونڈوسہولتیں فراہم کی جائیں اور کاروبار میں آسانیوں پر خصوصی توجہ دی۔وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے ساتھ پنجاب کابینہ کے اجلاس کی مشترکہ صدارت کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ افراد قوت ہماری سب سے بڑی طاقت ہے ۔ترقیاتی منصوبوں میں ہنر مند افراد کے لیے روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کیے جائیں ۔ہر ترقیاتی منصوبہ عوامی فلاح و بہبود کے لیے ہونا چاہیے اور اسکی مدت تکمیل اور فعالیت کو مدنظر رکھتے ہوئے تشکیل دیا جائے۔ کابینہ اجلاس میں مالی سال 20۔2019 میں ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پر بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت کے پاس مالی وسائل محدود ہوتے ہیں اس لئے ترقیاتی منصوبوں میں پرائیویٹ سیکٹر کو شامل کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے،پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے مختلف ماڈلز کو لاگو کیا جائے تاکہ حکومت پر بوجھ کم پڑے۔ انہوں نے کہا کہ صرف میٹرو بس پر 12 ارب روپے کی سبسڈی دی جارہی ہے یہ پیسہ صحت اور تعلیم کے لئے مختص کیا جا سکتا تھا۔ قبل ازیں وزیراعظم عمران خان سے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے ملاقات کی ۔ ملاقات میں وزیراعلیٰ پنجاب نے وزیر اعظم کو داتا دربار دھماکہ کی تحقیقات میں پیش رفت پر بریفنگ ، وزیراعظم کو پناہ گاہوں کی تکمیل، رمضان بازار میں دی جانے والی سبسڈی کے حوالے سے بھی آگاہ کیا۔ وزیر اعلیٰ نے پنجاب میں نئے بلدیاتی نظام کی تیاریوں پر بھی وزیراعظم کو بریفنگ دی۔ وزیراعظم نے وزیراعلی پنجاب کو شہریوں کی جان ومال کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے ہر ممکن اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔دریں اثناء ہفتہ کے روز بنی گالہ میں وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت نیشنل ہیلتھ ٹاسک فورس کا اجلاس ہوا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ دوا ؤں کی قیمتیں اور علاج معالجے کی سہولتیں عام آدمی کی دسترس سے باہر نہیں ہونی چاہیئں۔ملک میں علاج کی سہولتوں کو معیاری اور آسان بنایا جائے۔ وزیر اعظم نے ملک بھر میں صحت کی سہولتوں اوردواؤں کی قیمتوں کا جائزہ لیا۔اجلاس میں وزیر اعظم کو صحت کے قومی پروگرامز، ہیلتھ کارڈ اور صحت سے متعلق امور پر بریفنگ دی گئی اور دواؤں کی قیمتوں میں اضافے کے معاملے پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں معاون خصوصی ظفر مرزا، سیکریٹری ہیلتھ زاہد سعید اور دیگر حکام شریک ہوئے۔اجلاس میں نئے ہسپتالوں کے قیام ، پنجاب میں ڈاکٹروں کی ہڑتال پربھی غور کیا گیا۔ وزیراعظم نے ہیلتھ انشورنس کارڈ کے حوالے سے مالی اور قانونی پیچیدگی ہٹانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہیلتھ کارڈ پورے پاکستان میں پھیلانے کے لئے پالیسی پر عملدرآمد کیاجائے۔ وزیراعظم کو ادویات کی قیمتوں ، ہیتھ کارڈ، نرسنگ ڈویلپمنٹ پلان اور بلڈ ٹرانسفیوژن پر بریفنگ دی گئی۔ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی حکام نے ادویات کی قیمتوں سے متعلق اٹھائے گئے اقدامات سے آگاہ کیا۔ وزیراعظم نے ڈریپ حکام کو ہدایت دی کہ ادویات کی قیمتیں مناسب سطح پر لائی جائیں ،ادویات کی قیمتوں کی شارٹ ،مڈ اور لانگ ٹرم پالیسی ہونی چاہیئے۔ پاکستان میں نرسنگ ڈویلپمنٹ پلان کے تحت شاندار نرسنگ سروس سٹرکچر بنایا جائے۔ وزیراعظم نے کہا نرسز کی اسامیاں بڑھانے کے ساتھ سکالرشپ پروگرام متعارف کرائے جائیں۔2030 ء تک پاکستان میں 10 لاکھ نرسز تیار کرنے کا ہدف رکھا جائے ، اسکولز کالجز بڑھائے جائیں۔ پاکستان سے نرسز کو بیرون ملک ملازمت اور باہر سے نرسز کو پاکستان لانے کیلیے پلان بنایا جائے۔ علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان نے وفاقی پولیس میں بھرتیوں کی بھی منظوری دے دی ہے۔جلد ہی 18اے ایس آئی،1200 کانسٹیبلزبھرتی کیے جائیں گے۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟