23 جولائی 2019
تازہ ترین
پلاسٹک اور جالوں سے سمندری جاندار متاثر

پلاسٹک اور جالوں سے سمندری جاندار متاثر

عالمی سمندروں میں پلاسٹک کا ایک ڈھیر لگ چکا ہے یہ پلاسٹک دنیا میں ہرجگہ موجود ہے اور اب تک ہزار سے زائد شارک اور  مچھلیاں اس میں الجھ کر ہلاک ہوچکی ہیں یا پلاسٹک کے ساتھ ہی زندہ ہیں۔ یہ سروے یونیورسٹی آف ایکسیٹر نے کیا ہے جس میں سوشل میڈیا پر پلاسٹک سے مرنے والے جانوروں پر قیاس آرائیاں کی جاتی رہی تھیں۔ ایکسیٹر کے ماہرین نے اس کی تصدیق کا فیصلہ کیا اور کئی مطبوعہ رپورٹس اور تحقیق کا نئے سرے سے جائزہ بھی لیا۔ ماہی گیر پلاسٹک کے پرانے جال سمندروں میں ڈال دیتے ہیں جسے ان جانوروں کی موت کی سب سے بڑی وجہ قرار دیا گیا۔ جانوروں کے الجھنے کے 74 فیصد واقعات میں جال ملوث ہیں۔ جبکہ پلاسٹک کی تھیلیاں، ٹائر اوربوتلیں وغیرہ بھی بے جان سمندری مخلوق کو ماررہی ہیں۔ اس کے زیادہ تر واقعات بحرالکاہل اور بحر اوقیانوس میں ہوئے ہیں جہاں پلاسٹک کے جالوں کی بھرمار ہے۔ لیکن ماہرین ان کی تعداد کم سے کم 1117 بتاتے ہیں جن میں نایاب شارک اور مختلف اقسام کی رے فش شامل ہیں۔ لیکن ماہرین کہتے ہیں کہ مرنے والی مخلوق کی تعداد بہت زیادہ ہوسکتی ہے۔ ماہرین نے اس کے لئے 1940 سے 2009 تک کے واقعات کا جائزہ لیا ۔ ماہرین کے مطابق دیگر سمندری مسائل سامنے آتے رہتے ہیں لیکن پلاسٹک سے مرنے والے جانوروں پر کم بات کی جاتی ہے۔ سمندری پلاسٹک اور جالوں میں وھیل شارک، گریٹ وائٹ، ٹائیگر شارک اور دیگر اقسام شامل ہیں۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟