25 اگست 2019
تازہ ترین
ہوم ڈیپارٹمنٹ میں تنخواہوں کی مینوئل ادائیگی کا انکشاف

ہوم ڈیپارٹمنٹ میں تنخواہوں کی مینوئل ادائیگی کا انکشاف

 ہوم ڈیپارٹمنٹ پنجاب میں ملازمین کو تنخواہیں بنک اکائونٹس کی بجائے مینوئل طریقے سے دینے کا انکشاف ہوا ہے جس کی وجہ سے 1ارب روپے کی شفافیت مشکوک ہو گئی تاہم کسی بھی ملوث افسر کے خلاف کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی ۔ فنانس ڈیپارٹمنٹ کے لیٹر نمبر 2-2/72-pt-1 SO(TT)کے مطابق تمام سرکاری ملازمین کی تنخواہیں ان کے بینک اکائونٹس میں منتقل کی جائیں جبکہ مینوئل طریقے سے کسی کو تنخواہ کی ادائیگی نہ کی جائے اگر کسی کا بنک اکائونٹ نہ ہوتو اس کی تنخواہ روک لی جائے تاہم ہوم ڈیپارٹمنٹ کے افسروں نے ملی بھگت سے افسروں اور ملازمین کی تنخواہیں بینک اکائونٹس کی بجائے مینوئل طریقے سے تقسیم کر دیں جس کی وجہ سے 1ارب 6کروڑ 52لاکھ 52ہزار 463 روپے کی شفافیت مشکوک ہو گئی ۔ ہوم ڈیپارٹمنٹ کے آڈٹ کے دوران انکشاف ہوا کہ 1065.25ملین کی رقم کمپیوٹرائزڈ پے رول سسٹم کی بجائے مینوئل طور پر تقسیم کی گئی جو فنانس ڈیپارٹمنٹ کے قواعد و ضوابط کی کھلم کھلی خلا ف ورزی تھی ۔ اس نشاندہی کے بعد آڈٹ حکام نے اعتراضات اٹھائے کہ تنخواہیں بنک اکائونٹس میں منتقل نہ کرنے کی وجہ سے بھاری رقم کی شفافیت مشکوک ہو گئی اور محکمہ مختلف ریکارڈ فراہم کرنے میں بھی ناکام رہا ۔ ہوم ڈیپارٹمنٹ نے بعد ازاں ان اعتراضات کا جواب دینے کی یقین دہانی کروائی اور اس سلسلہ میں ڈیپارٹمنٹل اکائونٹس کمیٹی کے متعدد اجلاس بھی منعقد ہوئے جس میں ان بے ضابطگیوں کے مختلف پیرے زیر غور آئے لیکن رپورٹ فائنل ہونے تک عملی طور پر کچھ نہیں کیا گیا جس پر آڈٹ حکام نے سفارشات پیش کیں کہ اس معاملے کی انکوائری کرائی جائے اور ان بے ضابطگیوں کو فنانس ڈیپارٹمنٹ سے ریگولرائز کرایا جائے۔ 


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟