22 اکتوبر 2019
تازہ ترین
میشا سے ہراسانی کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا، گواہ

میشا سے ہراسانی کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا، گواہ

سیشن عدالت میں گلوکارہ میشا شفیع کے خلاف ہتک عزت کے دعوی پر سماعت کے دوران گواہان نے بیان حلفی جمع کراتے ہوئے کہا کہ تمام وقت علی ظفر اور میشا شفیع میری نظروں کے سامنے تھے جیمنگ سیشن میں کوئی ہراسانی کا واقعہ پیش نہیں آیا۔ لاہور کی سیشن عدالت میں گلوکار علی ظفر کی میشا شفیع کے خلاف ہتک عزت کے دعوے پر سماعت ہوئی۔ دوران سماعت علی ظفر کی جانب سے7 گواہان نے بیان حلفی جمع کروادیا۔ بیان حلفی جمع کروانے والوں میں گٹارسٹ و میوزک پروڈیوسر اسعد احمد،  میوزیشن کاشف چمن، کی بورڈ پلیئر جوشوا کیتھ  بینجمن، بیس پلیئر محمد علی، ڈرمر قیصر زین العابدین، گلوکارہ اقصی علی اور موسیقار محمد تقی شامل ہیں۔ گواہان نے بیان حلفی جمع کراتے ہوئے کہا کہ جیمنگ سیشن میں ہراسانی کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا، تمام وقت میشا اور علی ظفر ہماری نظروں کے سامنے تھے۔ گواہ اسعد احمد نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ 30 سال سے موسیقی کے شعبہ سے منسلک ہوں، آواز، جنون، سجاد علی، نصرت فتح علی خان اور وائٹل سائنس کے ساتھ بھی کام کر چکا ہوں، جبکہ گواہ ڈرمر کاشف نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ دونوں سنگرز کو جانتا ہوں، میں نے پچھلے ماہ بھی میشا شفیع کے ساتھ پرفام کیا ، جیمنگ سیشن میں کوئی ہراسانی کا واقعہ پیش نہیں آیا، تمام وقت علی ظفر اور میشا شفیع میری نظروں کے سامنے تھے۔ عدالت نے استفسار کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کا حکم نامہ کہاں ہے، جس پر علی ظفر کے وکیل نے کہا کہ سپریم کورٹ کا حکم نامہ ابھی وصول نہیں ہوا، ہم نے معزز عدالت کے حکم کے مطابق گواہان کے بیان حلفی جمع کروا دیئے ہیں۔ وکیل نے کہا کہ معزز سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق سات روز میں میشا شفیع کے وکلا جرح کریں گے جبکہ دو گواہان باقاعدہ عدالت میں پہلے ہی شہادت قلمبند کروا چکے ہیں۔ گزشتہ سماعت پر بھی علی ظفر کی گواہ اور عینی شاہد ماڈل کنزہ منیر نے میشا شفیع کے الزامات کو جھوٹ قراردیاتھا۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟