08 دسمبر 2019
تازہ ترین
  معین اختر کو بچھڑے 8 برس بیت گئے

  معین اختر کو بچھڑے 8 برس بیت گئے

 کروڑوں دلوں پر راج کرنے والے صدارتی تمغہ یافتہ اداکار معین اختر کو اس جہان فانی سے کوچ کئے 8 برس بیت گئے۔ معین اختر 24 دسمبر 1950 کو کراچی میں پیدا ہوئے، زندگی کی پہلی پرفارمنس شیکسپئیر کے ناول سے ماخوذ سٹیج ڈرامے دی مرچنٹ آف وینس میں محض 13 برس کی عمر میں دی جبکہ فنی کیرئیر کی باقاعدہ شروعات پاکستان کے پہلے یوم دفاع پر 1966 میں کی۔ ہمہ جہت فنکار معین اختر کو اپنے جداگانہ کردارنگاری کی بنا پر فن کی اکیڈمی کہا جاتا تھا، انہیں دیا جانے والا یہ لقب کچھ غلط بھی نہیں تھا ، کیونکہ معین اختر نے ریڈیو، ٹی وی ڈرامہ، سٹیج ، فلم سمیت فنون لطیفہ کے ہر شعبے میں اپنی خداداد صلاحیتوں کا لوہا منوایا جبکہ گلوکاری بھی کی۔ ہم عصر اداکاروں کے مطابق معین اختر محض اداکار نہیں بلکہ ایک دور کا نام تھا، فن اداکاری کے ساتھ معین اختر کا ایک تعارف ٹی وی میزبان بھی تھا۔ معین اختر نے طنز و مزاح سے بھرپور جملوں میں تہذیب کا ایک نیا پہلو متعارف کرایا، فنکارانہ خدمات کے اعتراف میں معین اختر کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی اور ستارہ امتیاز سے بھی نوازا گیا۔ معین اختر کے معروف ٹی وی ڈراموں اور پروگرام میں روزی، انتظار فرمائیے، بندر روڈ سے کیماڑی، آنگن ٹیڑھا، اسٹوڈیو ڈھائی، اسٹوڈیو پونے تین، یس سر نوسر، عید ٹرین اور کئی مشہور اسٹیج ڈرامے آج بھی لوگوں کے ذہنوں پر نقش ہیں، ایک نجی چینل کے لیے ان کے طنز ومزاح سے بھرپور ٹی وی شوز کی 400 اقساط کا نشر ہونا بھی ایک منفرد ریکارڈ ہے۔ معین اختر 22 اپریل سن 2011 کو حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کرگئے تھے، ساتھی فنکاروں کے مطابق پاکستان کی ثقافت کو ڈراموں اور شوز کے ذریعے جس طرح سے معین اختر نے متعارف کروایا دوسرا شائد ہی یہ کام اس خوبی سے کرسکے۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟