25 مئی 2019
تازہ ترین
میٹھا کھانے کے مزاج  پر اثرات

میٹھا کھانے کے مزاج  پر اثرات

میٹھے کی خواہش یا شوگر رش اور مزاج پر اثرات کے درمیان کوئی تعلق موجود نہیں۔ برطانیہ کی واروک یونیورسٹی کی تحقیق کے دوران 13 سو کے قریب بالغ افراد پر ماضی میں ہونے والی 31 طبی تحقیقی رپورٹس کا ڈیٹا اکٹھا کیا گیا۔  نتائج سے معلوم ہوا کہ چینی کا میٹھا مزاج پر خوشگوار اثرات مرتب نہیں بلکہ یہ لت لوگوں کو ذہنی طور پر سست اور زیادہ تھکاوٹ کا شکار بنا دیتی ہے۔  محققین نے کہا ہے کہ یہ خیال کہ چینی کا استعمال مزاج پر خوشگوار اثرات مرتب کرتا ہے، دنیا بھر میں بہت مقبول ہوچکا ہے اور یہی وجہ ہے کہ لوگ میٹھے مشروبات کا استعمال ذہنی طور پر زیادہ الرٹ ہونے یا تھکاوٹ سے لڑنے کے لئے کرتے ہیں۔ اس تحقیق کے دوران محققین نے چینی کے مزاج پر مختلف اثرات جیسے غصہ، ذہنی ہوشیاری، ڈپریشن اور تھکاوٹ وغیرہ کا جائزہ لیا۔ انہوں نے یہ بھی دیکھا کہ چینی کی مقدار اور قسم کس طرح مزاج پر اثرات مرتب کرتی ہے جبکہ وہ ذہنی اور جسمانی سرگرمیوں پر مددگار ثابت ہوتی ہے یا نہیں۔ انہوں نے دریافت کیا کہ میٹھا کھانے سے مزاج پر کسی قسم کے مثبت اثرات مرتب نہیں ہوتے چاہے لوگ جتنی بھی چینی کھا لیں۔ انہوں نے یہ بھی دریافت کیا کہ درحقیقت یہ لت مثبت کی بجائے منفی اثرات کا باعث بنتی ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں لوگ زیادہ تھکاوٹ کے شکار اور ذہنی طور پر کم ہوشیار ہوجاتے ہیں۔ محققین  نے کہا کہ ہمیں توقع ہے کہ تحقیق کے نتائج سے میٹھے کے بارے میں عرصے سے موجود خیال کے بارے میں لوگوں کی رائے تبدیل ہوگئی جبکہ چینی کا استعمال کم کرنے پر توجہ دی جائے گی۔  اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل نیوروسائنسز اینڈ بائیو بی ہیوریل میں شائع ہوئے۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟