15 ستمبر 2019
تازہ ترین
کھلاڑیوں اور میچ آفیشلز کو ادائیگی کیلئے ڈیبٹ کارڈز جاری

کھلاڑیوں اور میچ آفیشلز کو ادائیگی کیلئے ڈیبٹ کارڈز جاری

 انگلینڈ میں جاری ورلڈ کپ کے لئے منتظمین نے سب سے بڑی اور حیران کن کوشش کرتے ہوئے کھلاڑیوں، آفیشلز اور آرگنائزرز کو کیش سے دور کر دیا اور انہیں پلاسٹ منی استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی۔ تاریخ میں پہلی بار ٹورنامنٹ میں شریک کھلاڑیوں، ٹیموں کے آفیشلز، امپائروں، میچ ریفریز اور ٹورنامنٹ سے وابستہ دیگر افراد کو ڈیلی الائونس کی مد میں کیش میں ادائیگی نہیں کی جارہی۔ ہر شخص کو ایک ڈیبٹ کارڈ جاری کیا گیا ، جس میں ان کے ڈیلی الائونس کے مساوی رقم موجود ہے، ٹورنامنٹ میں شریک کھلاڑیوں اور آفیشلز کو سختی سے ہدایت کی گئی  کہ وہ کیش رقم استعمال کرنے سے گریز کریں اور جہاں رقم کی ادائیگی کرنا ہو وہاں کارڈ کا استعمال کیا جائے۔ کارڈ کے استعمال سے منتظمین اور آئی سی سی کے تفتیش کاروں کو یہ بھی پتہ چل سکے گا کہ کب کہاں اور کس کے ساتھ کارڈ استعمال کیا گیا ، اس بارے میں مزید تحقیق کے لئے اس جگہ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد بھی لے جاسکے گی۔ ڈیبٹ کارڈ پر میزبان انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ تحریر ہے، ذرائع کے مطابق آئی سی سی اور میزبان انگلش بورڈ نے کوشش کی ہے کہ کرکٹ میں بڑھتی ہوئی کرپشن کو روکنے کے لئے کھلاڑیوں، آفیشلز اور دیگر افراد کو کیش کی ادائیگی نہ کی جائے۔ 2010 میں انگلینڈ میں پاکستان کے تین کھلاڑی سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر نے برطانیہ میں سپاٹ فکسنگ کی تھی جس کے بعد انہیں سزا بھگتنا پڑی تھی، سلمان بٹ سٹے باز مظہر مجید سے کیش لیتے ہوئے دکھائی دیئے تھے۔ ذرائع کے مطابق ورلڈ کپ کے دوران ہر ٹیم کو اس کے ڈیلی الائونس کے مساوی کریڈٹ حد دی گئی ہے، ہر کارڈ میں چھ جولائی تک گروپ میچوں تک کریڈٹ حد دی گئی اور یہ کارڈز اگست تک استعمال کئے جاسکیں گے۔ چھ جولائی کو گروپ میچ ختم ہونے کے بعد دس میں سے چھ ٹیمیں وطن واپس چلی جائیں گی جبکہ چار ٹیمیں سیمی فائنل میں جگہ بنائیں گی اور ورلڈ کپ کے دوران کھلاڑی یہی کارڈ استعمال کررہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کارڈز کے اجرا کے بعد کھلاڑی ریسٹورنٹس اور شاپنگ کے لئے انہی کارڈز کو استعمال کررہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس جدید نظام کا مقصد کرپشن کا خاتمہ کرنا ہے، اس سے قبل ہر ٹیم کو کیش دیا جاتا تھا جس کے بعد کیش کھلاڑیوں کو منیجرز کے توسط سے تقسیم کئے جاتے تھے۔ آئی سی سی نے ورلڈ کپ کو کرپشن فری بنانے کے لئے ہر ٹیم کے ساتھ اینٹی کرپشن افسر کا تقرر کیا اور مقامی پولیس کی مدد سے کھلاڑیوں، آفیشلز کے  ساتھ تماشائیوں اور مشکوک لوگوں پر کڑی نظر رکھی جارہی ہے، کھلاڑی کہیں بھی جانے سے پہلے اپنی ٹیم کے سیکیورٹی افسر کو بتا کر جاتے ہیں۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟