گوگل میپس کے استعمال سے  الزائمر ہونیکا خدشہ

گوگل میپس کے استعمال سے  الزائمر ہونیکا خدشہ

ٹیکنالوجی نے ہمیں گوگل میپس جیسی سہولت دی ہے جس کی مدد سے اب ہم با آسانی بنا کھوئے اپنی منزل تک پہنچ سکتے ہیں۔ تاہم اب سائنس دانوں نے گوگل میپس استعمال کرنے والوں کو ایک بری خبر سنا دی ہے۔ میل آن لائن کے مطابق سائنس دانوں نے کہا ہے کہ جو لوگ گوگل میپس یا دیگر ایسی سروسز استعمال کرتے ہیں انہیں الزائمر کی بیماری لاحق ہونے کا خطرہ بہت زیادہ ہو جاتا ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق ڈیوائسز پر زیادہ انحصار لوگوں کو حقیقی دنیا سے الگ کر دیتا ہے جس سے ان کی ذہنی و جسمانی صحت پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ انہی میں سے ایک الزائمر کا شکار ہوجانا بھی ہے۔ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ اور نیوی گیشن کے ماہر ڈیوڈ بیری نے کہا ہے کہ ہزاروں سالوں میں ارتقائی عمل سے گزر کر انسان نے اپنے اندر اپنے اردگرد کے ماحول کی ایک انتہائی تیز حس پیدا کی  جب آپ گوگل میپس اور دیگر ایسی سروسز استعمال کرتے ہیں اور آس پاس موجود لوگوں سے بے گانہ ہو جاتے ہیں تو یہ حس متاثر ہوتی ہے اور اس کے نتیجے میں پورے عصبی نظام کو نقصان پہنچتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گوگل میپس وغیرہ کے استعمال سے درحقیقت انسان اپنی دماغ کو اشیا کے نام اور مختلف جگہوں کے ایڈریس وغیرہ یاد رکھنے سے دور کررہا ہوتا ہے۔ اس عادت سے دماغ کا ہیپوکیمپس نامی حصہ سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے، جو یادداشت سے وابستہ حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب انسان ہیپوکیمپس کا استعمال ترک یا کم کر دیتا ہے تو یہ سکڑ کر چھوٹا ہو جاتا ہے اور اس کے کمزور ہوجانے سے انسان کو الزائمر اور اس جیسی دیگر عصبی بیماریاں لاحق ہوتی ہیں۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟