18 اکتوبر 2019
تازہ ترین
دھڑکنوں کے ذریعے پہچاننے والی لیزر

دھڑکنوں کے ذریعے پہچاننے والی لیزر

پنٹاگون نے جیٹ سن کے نام سے امریکی افواج کیلئے ایک ایسی لیزر تیار کروائی  جو کسی بھی شخص کو 200 میٹر تک دوری سے صرف اس کی مخصوص دھڑکنوں کے ذریعے پہچان سکتی ہے اور اس پورے شناختی عمل میں کامیابی کی شرح بھی غیرمعمولی بتائی جارہی ہے۔ امید ہے کہ اس  شناختی لیزر سے دہشت گردوں اور شرپسندوں کو بہت دور سے پہچان کر ان کے خلاف بروقت کارروائی کی جاسکے گی یا انہیں کوئی کارروائی کرنے سے پہلے ہی گرفتار کیا جاسکے گا۔ خاص بات یہ ہے کہ اگر متعلقہ فرد نے بھاری لباس بھی پہن رکھا ہو، تب بھی یہ لیزر اس کی دھڑکنیں محسوس کرکے اسے شناخت کرسکتی ہے۔ بنیادی طور پر یہ وہی ٹیکنالوجی ہے جو چند سال قبل ونڈ ٹربائنز کی جانچ پڑتال کےلئے ایجاد کی گئی تھی۔ البتہ جیٹ سن میں اسے اور بھی زیادہ بہتر اور موثر بنایا گیا ۔ اگرچہ دور سے کسی بھی فرد کو شناخت کرنے کےلئے چہرے کے خدوخال کو اب تک موزوں ترین سمجھا جاتا رہا ہے لیکن ایسے کسی بھی نظام سے درست شناخت کےلئے ضروری ہے کہ تصویر سامنے سے لی گئی ہو۔ پرہجوم مقامات پر بالعموم ایسا ممکن نہیں ہو پاتا۔ شناختی لیزر نے یہ مسئلہ بڑی خوبی سے حل کر دیا ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنکھ کی پتلی اور فنگر پرنٹس کی طرح ہر شخص کے دل کی دھڑکنیں بھی بالکل منفرد ہوتی ہیں جن کی بنیاد پر درست شناخت ممکن ہے۔ ویسے تو  جیٹ سن لیزر کی کارکردگی بہت اچھی ہے لیکن فی الحال یہ کسی بھی شخص کو دھڑکنوں کے ذریعے پہچاننے میں 30 سیکنڈ لگاتی ہے۔ اب اس منصوبے سے وابستہ سائنسدان یہ وقفہ کم کرکے 5 سیکنڈ تک لانے کی کوشش کررہے ہیں جس کے بعد اسے حتمی شکل دے کر، امریکی افواج کے سپرد کردیا جائے گا۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟