19 نومبر 2019
تازہ ترین
ایورسٹ کی چوٹی پر بلند ترین موسمیاتی سٹیشن قائم

ایورسٹ کی چوٹی پر بلند ترین موسمیاتی سٹیشن قائم

سائنسدانوں نے گزشتہ ماہ کے دوران دنیا کا بلند ترین موسمیاتی سٹیشن ایورسٹ کے پہاڑ پر تعمیر کیا، جس کی بدولت اس علاقے کے ماحول اور موسمیاتی مزاج کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔ یونیورسٹی آف مین سے تعلق رکھنے والے ماہر موسمیات ڈاکٹر پال میوسکی اور ان کے ساتھیوں نے ہمالیائی علاقے کے پانچ مقامات پر موسمیاتی اسٹیشن تعمیر کئے ہیں جن میں سے ایک ایورسٹ پر بنایا گیا ۔ جان جوکھم میں ڈال کر ایورسٹ کی یخ بستہ سردی میں موسمیاتی آلات لگانے کے کئی مقاصد ہیں۔ ماہرین محض یہاں کا درجہ حرارت اور دبائو وغیرہ معلوم نہیں کرنا چاہتے بلکہ وہ جنوبی ایشیا میں سرگرم جیٹ سٹریم پر تفصیلی تحقیق کرنا چاہتے ہیں، اور یہی اس تجربہ گاہ کا اہم مقصد بھی ہے۔ اسی بنا پر اسے سیارے کی کھڑکی یا ونڈو آف دی پلانیٹ کا نام دیا گیا ۔ جیٹ سٹریم ہوا کی ان پتلی تہوں کو کہتے ہیں جو زمین سے کچھ بلندی پر اپنے انداز میں پورے کرہ ارض پر سفر کرتی رہتی ہیں۔ اگرچہ ہم جانتے ہیں کہ ان کی حرکات سے زمین پر گرمی اور سردی جیسے اثرات پیدا ہوتے ہیں لیکن جیٹ سٹریم کی پیچیدہ حرکات اور دیگر معاملات کے بارے میں اب بھی ہماری معلومات نہ ہونے کے برابر ہے۔ سائنسدانوں کا دعویٰ ہے کہ ایورسٹ زمین پر موجود چند پہاڑوں میں سے ایک ہے جن کی چوٹی جیٹ سٹریم کو چھوتی ہے اور اسی بنا پر کم وزن اور جدید آلات پر مبنی خودکار سٹیشن کےلئے ایک مناسب ترین مقام بھی ہے اور جنوبی ایشیا میں موسمیاتی تشکیل کرنے والی اہم جیٹ سٹریم بھی یہاں سے گزرتی ہے۔ دوسرے مرحلے میں موسمیاتی سائنسدان ایورسٹ کے مختلف مقامات کی گہرائی سے قدیم برف کے نمونے حاصل کرنے پر بھی غور کررہے ہیں۔ برف کے ان قدیم نمونوں میں علاقے کا پورا موسمیاتی کیلنڈر مل سکتا ہے، جسے جان کر ہم مزید بہتر پیش گوئی بھی کرسکتے ہیں۔ دوسری جانب برف کے نمونے ہزاروں سالہ موسمیاتی تاریخ کا پتہ بھی دیتے ہیں۔ موسمیاتی سٹیشن کو پہلے عین چوٹی پر بنانا تھا لیکن وہاں کوہ پیمائوں کے رش کی وجہ سے منصوبہ بدلنا پڑا۔  اب چوٹی سے صرف 420 میٹر نیچے یعنی 8430 میٹر کی بلندی پر ایک جگہ  دی بالکونی پر یہ سٹیشن قائم کیا گیا ۔ 


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟