19 نومبر 2019
تازہ ترین
آواران زلزلے سے بننے والا جزیرہ غائب

آواران زلزلے سے بننے والا جزیرہ غائب

 اب سے چھ برس قبل بلوچستان میں آنے والے جان لیوا زلزلے کے بعد بحیرہ عرب میں بننے والا ایک جزیرہ اب دھیرے دھیرے تقریباً مکمل طور پر غائب ہوچکا ہے۔  2013  میں  آواران زلزلے  کے بعد گوادر کے پاس ایک جزیرہ نمودار ہوگیا تھا جسے کوہ زلزلہ کا نام دیا گیا تھا۔ زلزلے کے بعد لوگوں کی بڑی تعداد نے اسے دیکھا تھا ۔ ماہرین کا خیال تھا کہ اس جزیرے پر ہائیڈروکاربنز موجود ہوسکتے ہیں کیونکہ 2010 میں ہنگول کے قریب پانیوں میں بھی ایسا ہی ایک زلزلہ پھوٹ پڑا تھا جس سے میتھین گیس خارج ہورہی تھی۔ اب ناسا کی خلائی تصاویر سے عیاں  ہے کہ دھیرے دھیرے سمندر میں جاتا ہوا جزیرہ اب مکمل طور پر غائب ہوچکا ہے اور ثبوت کے طور پر اس کی تصاویر بھی جاری کی گئی ہیں۔ ناسا کے مطابق اس مقام پر نرم گاڑھے کا ایک آتش فشاں پہاڑ ہے جس کی وجہ جزیرہ نمودار ہوا تھا۔ اگرچہ اب بھی یہ تصاویر میں دکھائی دے رہا ہے لیکن جزیرے کی دھندلی تصویر سے عیاں ہے کہ جزیرہ اب  پانی میں جاچکا ہے۔ سطح آب پر ظاہر ہونے کے بعد کوہ زلزلہ کی کل لمبائی 20 میٹر اور اونچائی 135 فٹ تک نوٹ کی گئی تھی۔ ناسا کے زمینی مشاہدے کے سیٹلائٹ ارتھ آبزرونگ ون اور لینڈ سیٹ 8 نے یہ تصاویر لی ہیں اور ماہرین نے اس پر گہری نظر رکھی ہوئی تھی۔ یوایس جیالوجیکل سروے (یو ایس جی ایس) کے پروفیسر بِل برنارٹ ایران اور پاکستان کے زلزلے کے ماہر ہیں۔ ان کے مطابق بلوچستان کا سمندر ایسے جزائر کی تشکیل کے لئے نہایت موزوں جگہ ہے۔ ارضیاتی طور پر کم گہرے پانی میں میتھین، کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر مائعات موجود ہیں۔ زلزلے سے یہ نظام متاثر ہوتا ہے اور اوپر کی جانب ابل پڑتا ہے۔ واضح رہے کہ مکران کے قریب تین ارضیاتی پلیٹیں انتہائی سرگرم ہیں اور یوں اس خطے میں زلزلے کے خطرات اب بھی موجود ہیں۔ ان ٹیکٹونک پلیٹوں میں یورپی، عربین اور ایشین پلیٹیں شامل ہیں۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟