18 اگست 2019
تازہ ترین
انسانی قدموں سے بجلی پیدا کرنے کا طریقہ

انسانی قدموں سے بجلی پیدا کرنے کا طریقہ

  کراچی کے باصلاحیت نوجوانوں نے انسانی قدموں سے بجلی پیدا کرنے کا آسان اور سستا ترین طریقہ ایجاد کر لیا ۔ شاپنگ سینٹرز، فٹ پاتھ، پارکس اور دیگر پبلک مقامات پر خصوصی ٹائلز اور پینل بچھاکر بجلی حاصل کی جاسکتی ہے، انسانی قدموں کے دبائو سے پیدا ہونے والی قوت کو خصوصی ٹائلز کے ذریعے بیٹری میں محفوظ کیا جا سکتا ہے جس سے برقی آلات، سٹریٹ لائٹس وغیرہ روشن کی جا سکتی ہیں۔ اقرا یونیورسٹی کے فیکلٹی آف انجینئرنگ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ڈیپارٹمنٹ کے 3 طالب علموں نے اس منصوبے کو انرجی ہارویسٹنگ کا نام دیا ، جس کی مدد سے اب چلتے پھرتے بجلی پیدا ہو سکے گی۔ غالب ندیم، حافظ ولید اور علی اکبر نے بجلی پیدا کرنے والے انرجی ہارویسٹنگ ایجاد کا میکانزم بہت آسان رکھا ہے جس میں خصوصی ٹائلز یا لکڑی و مصنوعی گھاس سے تیار پینلز اور ایسے آلات استعمال کئے ہیں جن سے گزرا جائے تو قدموں کے دبائو سے بجلی پیدا ہوتی ہے جس سے بیٹری کو منسلک کیا جاتا اور پیدا ہونے والی بجلی اس بیٹری میں منتقل ہوتی ہے اور پھر بیٹری سے دیگر اشیا چارج ہوتی ہیں۔ مفت بجلی پیداکرنے والی انرجی ہارویسٹنگ کو پاکستانی پرزوں سے تیار کیا گیا ، جبکہ80 فیصد پرزوں کے ڈیزائن بھی طالب علموں نے خود ہی تیار کئے ہیں جس کی وجہ سے نہ صرف لاگت کم آئی، بلکہ اس کے روزمرہ استعمال میں بھی آسانی پیدا ہوگی اور اسے شہر میں کہیں بھی نصب کیا جاسکتا ہے۔ مفت بجلی پیداکرنے والے انرجی ہارویسٹنگ کی سب سے بڑی اور خاص بات یہ ہے کہ اسے صرف ایک بار انسٹال کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اس کے بعد نہ ہی پیسہ خرچ ہوتا ہے اور نہ ہی اس کی مینٹیننس پر کوئی خرچ آتا ہے۔ یہ ماحول دوست ہے جس سے آلودگی پیدا نہیں ہوتی۔ پاکستان میں اس ٹیکنالوجی کی  ٹیم کے ایک ممبر غالب ندیم نے کہا کہ ہم نے ملک میں بجلی کے بحران کی شدت و اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس منصوبے پر کام کرنا شروع کیا اور 2 سال میں اسے مکمل کیا کیونکہ چلتے پھرتے بجلی پیدا کرنے پر لندن، روس اور چائنہ سمیت بیرونی ممالک میں تو کام ہوا ، لیکن پاکستان میں اس سلسلے میں کچھ بھی نہیں ہوا اور ہمارے یہاں مارکیٹس، پارکس، واکنگ ٹریکس سمیت متعدد ایسی جگہیں موجود ہیں جہاں انرجی ہارویسٹنگ کا پروجیکٹ لگایا جائے تو سیکڑوں والٹ بجلی پیدا ہو سکتی۔  انہوں نے بتایا کہ شروع میں جب اس پروجیکٹ پر کام کرنا شروع کیا تو بجلی پیدا کرنے میں مشکلات کا سامنا آیا ناکامی بھی ہوئی کیونکہ دیگر ممالک میں جس طرح کام ہوا اس کا میکانزم یہاں ملنا مشکل ہو رہا تھا لیکن بعد ازاں 4 سے8 مختلف طریقے استعمال کئے گئے اور بلاآخر کامیابی ہوئی، پروجیکٹ کی کامیابی کو چیک کرنے کیلئے پہلے مرحلے میں 6.5X3.5 فٹ کا لکڑی اور مصنوعی گھاس کا پینل بنایا، جس سے باآسانی بیٹری چارج کی جا سکتی ہے اور اس بیٹری سے گھر کے دیگر برقی آلات روشن کئے جا سکتے ہیں۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟