23 فروری 2020
تازہ ترین
انڈس واٹر کمیشن سیکرٹریٹ کو لاہور سے اسلام آباد منتقل کرنے کا فیصلہ

انڈس واٹر کمیشن سیکرٹریٹ کو لاہور سے اسلام آباد منتقل کرنے کا فیصلہ

انڈس واٹر کمیشن سیکرٹریٹ کو لاہور سے اسلام آباد منتقل کرنے کا فیصلہ  لاہور  یکم جولائی سے انڈس واٹر کمیشن کا سیکرٹریٹ آفس لاہور کے بجائے اسلام آباد میں کام کرے گا۔ حکومت پاکستان واٹرریسورسزڈویږن نے انڈس واٹرکمیشن سیکرٹریٹ کولاہور سے اسلام آباد منتقل کرنے کا فیصلہ کرلیا جس کا باقاعدہ نوٹیفیکشن بھی جاری کر دیا گیا۔ آئندہ ماہ یکم جولائی سے انڈس کمیشن کے تمام افسران اور ملازمین اسلام آباد میں کام کریں گے تاہم انڈس واٹرکمیشن میں کام کرنے والے تمام افسران اور ملازمین نے اسلام آباد منتقل کئے جانے کے نوٹیفیکیشن کوتسلیم کرنے سے انکارکرتے ہوئے احتجاج کرنے کا اعلان کردیا۔ انڈس واٹرکمیشن سیکرٹریٹ کی منتقلی سے گریڈ ایک سے بیس تک 65 افسران وملازمین متاثرہوں گے، افسران اور ملازمین نے اس فیصلے کو انتہائی غلط اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد منتقل ہونے سے مالی مشکلات سمیت بچوں کی سکول کالج اور یونیورسٹی میں داخلہ کے مسائل بھی پیدا ہونگے۔ ملازمین کے مطابق انڈس واٹرکمشنر مہرعلی شاہ نے اپنے ذاتی مفاد کے لئے وزیراعظم آفس کو گمراہ اور استعمال کیا، سیکرٹریٹ کی منتقلی سندھ طاس قوانین کی خلاف ورزی ہوگی، مہرعلی شاہ اس عہدے پربراہ راست بھرتی کے لئے کوشاں ہیں۔ افسران کا کہنا ہے کہ خود عارضی تعینات کمشنر مہرعلی شاہ چھ ماہ سے لاہورنہیں آئے اورسارے معاملات لاہور آفس میں کام کرنے والے افسران اور ملازمین ہی سر انجام دیتے رہے جب سوئی ناردرن، ریلوے، واپڈا، اری گیشن، نیسپاک ہیڈ آفس لاہورمیں واقع ہیں تو انڈس واٹر کمیشن کا آفس کیوں منتقل کیا جارہا ہے، چھوٹے ملازم 30، 40 ہزارتنخواہ لیتے ہیں، اسلام آباد میں گزارا کیسے کرے گا جبکہ بچوں کی تعلیم کا کیا بنے گا۔ انڈس حکام کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے فوری طور پرانڈس واٹرکمیشن کے سیکرٹریٹ کو اسلام آباد منتقل کرنے کے آرڈرواپس نہ لئے تو احتجاج کریں گے جبکہ 3 اسسٹنٹ کمشنرزاور دیگرافسران نے منتقلی کی بجائے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟