28 مئی 2020
تازہ ترین
امریکی فوج میں خواتین اہلکاروں پر جنسی حملوں میں اضافہ

امریکی فوج میں خواتین اہلکاروں پر جنسی حملوں میں اضافہ

امریکی فوج میں خواتین اہلکاروں پر جنسی حملوں میں بڑے پیمانے پر اضافہ دیکھا گیا ہے اس کے باوجود کہ برسوں سے اس مسئلے کے حل کے لیے کوششیں جاری ہیں۔اعدادو شمار کے مطابق سنہ 2018 کے دوران 20500 واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ سنہ 2016 میں ایسے جنسی حملوں کی تعداد 14900 تھی۔ان واقعات میں سے ایک تہائی کے دوران الکوہل کا استعمال کیا تھا اور ان حملوں کا زیادہ تر شکار 17 سے 24 سال کی نئی بھرتی ہونے والی خواتین اہلکار تھیں۔ امریکی قائم مقام وزیر دفاع پیٹرک شینہن نے فوج کو ہدایات دیں کہ جنسی ہراس کو جرائم میں شامل کیا جائے۔جنسی ہراس تاحال دیگر فوجی قوانین کی خلاف ورزیوں میں شامل ہے تاہم اسے ایک مجرمانہ فعل قرار نہیں دیا گیا۔قائم مقام وزیر دفاع پیٹرک شیہن کی جانب سے جاری گئی ہدایت میں اس حوالے سے کئی تجاویز بھی شامل ہیں۔انھوں نے فوج کو لکھا کہ ٴجنسی حملہ غیر قانونی اور غیر اخلاقی ہے اور یہ فوج کے اصولوں کے بھی خلاف ہے اور اسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ٴامریکہ میں شہری قوانین کے تحت جنسی ہراس غیر قانونی ہے اور رنگ و نسل، مذہب یا قومیت کی بنیاد پر تفریق بھی اسی قانون کے تحت آتی ہے۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟