24 مئی 2019
تازہ ترین
 آم کے  پتے  شوگر کنٹرول کرنے میں مددگار

 آم کے  پتے  شوگر کنٹرول کرنے میں مددگار

ذیابیطس یعنی شوگر کا مرض مختلف بیماریوں کی جڑ ثابت ہوتا ہے جبکہ اس بیماری کے دوران غذائوں کے حوالے سے بہت زیادہ احتیاط کرنا پڑتی ہے اور اسے کنٹرول کرنا بظاہر ناممکن لگتا ہے۔ مگر ایک قدیم چینی طریقہ کار اس لاعلاج مرض کے علاج (کنٹرول میں رکھنے) کی کنجی ثابت ہوسکتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق آم کے درخت کے پتے (جو اکثر جگہوں پر عام نظر آتے ہیں) خصوصاً ایکسٹریکٹ کے ساتھ صدیوں سے دمہ اور ذیابیطس کے علاج کے لئے استعمال کئے جارہے ہیں۔ آم کے یہ پتے ضروری وٹامنز اور نیوٹریشن سے بھرپور ہوتے ہیں جو کہ ذیابیطس کے مریضوں کے لئے اس مرض کو کنٹرول کرنا زیادہ آسان بنا دیتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان پتوں میں موجود ایکسٹریکٹ انسولین کی تیاری اور گلوکوز کی تقسیم کو بہتر بناتا ہے جبکہ بلڈ شوگر لیول کو موثر طریقے سے مستحکم کرتا ہے۔ یہ پتے پیسٹین، وٹامن سی اور فائبر سے بھرپور ہوتے ہیں جو کہ صحت کے لئے نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح بھی کم کرتے ہیں۔ یہ پتے ذیابیطس کی علامات جیسے رات کو اکثر پیشاب آنا، وزن میں غیرمتوقع کمی اور نظر دھندلانے وغیرہ کو بھی کم کرتے ہیں ۔ رپورٹ کے مطابق اگر کسی کو ذیابیطس کا مرض نہ بھی ہو تو بھی یہ کرشماتی پتے طبی لحاظ سے فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں جس کی وجہ ان میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس کی بہت زیادہ مقدار ہے، جو کہ جسم سے زہریلے مواد کے اخراج اور الرجی سے تحفظ دیتے ہیں۔ ایک طبی تحقیق میں بھی ان فوائد کی تصدیق کی گئی تھی۔2010 میں جانوروں پر ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ مینگو ایکسٹریکٹ غذائی نالی میں گلوکوز کو کم جذب کرتا ہے اور بلڈ شوگر لیول کو کم کرتا ہے۔ ان پتوں کو استعمال کرنے کے لئے دس سے پندرہ پتے پانی میں ابالیں اور رات بھر کے لئے چھوڑ دیں۔صبح ناشتے سے پہلے اسے چائے کی شکل میں پی لیں۔ اس کو دو سے تین مہینے تک اپنانے پر ذیابیطس کے مرض کی شدت میں نمایاں کمی محسوس ہوگی۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟