15 ستمبر 2019
تازہ ترین
افتخار چودھری کا سپریم جوڈیشل کونسل کو  جسٹس قاضی فائز کیخلاف حکومتی ریفرنس پر خط

افتخار چودھری کا سپریم جوڈیشل کونسل کو  جسٹس قاضی فائز کیخلاف حکومتی ریفرنس پر خط

سابق چیف جسٹس پاکستان افتخار چودھری نے سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف حکومتی ریفرنس پر سپریم جوڈیشل کونسل کو خط لکھ دیا۔  سپریم جوڈیشل کونسل میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف حکومتی ریفرنس کی سماعت کل ہونا ہے جبکہ سپریم کورٹ بار کونسل کی جانب سے ریفرنس کیخلاف احتجاج کی کال بھی دے رکھی ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس پر سماعت سے قبل سابق چیف جسٹس پاکستان افتخار چودھری نے سپریم جوڈیشل کونسل کو خط لکھا جس میں موقف اختیار کیا ہے کہ ضابطگی کارروائی مکمل کئے بغیر سپریم جوڈیشل کونسل کو ریفرنس بھجوانا آئین و قانون کی خلاف ورزی ہے۔ خط میں کہا گیا کہ ریفرنس میں کہیں نہیں کہا گیا کہ جسٹس فائز عیسیٰ نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی، اس ریفرنس کی وجہ سے فاضل جج اور سپریم کورٹ کی بدنامی ہوئی، سپریم کورٹ کے قانون کے مطابق ریفرنس ناقابل سماعت ہے۔  موقف اختیار کیا گیا کہ جج ذاتی کنڈکٹ کا ذمہ دار ہوتا ہے، خود کفیل بچوں یا بیوی کے کنڈکٹ کا نہیں، وزیراعظم نے کابینہ کی منظوری کے بغیر ہی صدر کو ریفرنس بھجوایا۔  انہوں نے استدعا کی کہ سپریم جوڈیشل کونسل صدر اور وزیراعظم کے خلاف حلف کی خلاف ورزی پر مقدمہ چلانے کا حکم جاری کرے۔ یاد رہے کہ حکومت نے سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور سندھ ہائیکورٹ کے جج جسٹس کے آغا کے خلاف ریفرنس دائر کیا ، جس میں ان کی بیرون ملک جائیدادوں کو اثاثوں میں ظاہر نہ کرنے کا الزام عائد کیا ۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو اس حوالے سے خط بھی لکھا ہے جس میں کہا کہ یہ جائیدادیں ان کی اہلیہ اور صاحبزادے کے نام ہیں اور وہ خود مختار ہیں۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟