23 جولائی 2019
تازہ ترین
ڈی ہائیڈریشن سے کیسے بچا جائے

ڈی ہائیڈریشن سے کیسے بچا جائے

 ہم سب ہی جانتے ہیں کہ گرمی سے بچنے کے لئے زیادہ پانی پینا ہوتا ہے اور ہلکی چیزیں جیسے دہی وغیرہ کھانی ہوتی ہے ۔ ساتھ ہی اس گرمی کو برداشت کرنے کے لئے کچھ غذائوں سے گریز کرنا بھی ضروری ہے۔ یقیناً ہم سب ہی چائے پسند کرتے ہیں اور اس کے بغیر ایک دن بھی نہیں رہ سکتے  لیکن کیفین جسم سے پانی کے اخراج کو بڑھاتی ہے اور ڈی ہائیڈریشن کا باعث بنتی ہے جبکہ گرمی کا مقابلہ کرنے کے لئے جسم میں پانی کی مناسب مقدار ہونا ضروری ہے ۔  ہم سب چٹ پٹے کھانے پسند کرتے ہیں اور ہمارے لئے انہیں چھوڑنا بہت مشکل ہے۔ لیکن سورج ہمیں پہلے ہی اتنی گرمی پہنچا چکا ہوتا ہے کہ اب مصالحے دار کھانوں سے مزید گرمی بڑھانے کی ضرورت نہیں رہتی۔ پروٹین کو توڑکر ہضم کرنے کے لئے جسم کو سخت محنت کرنا پڑتی ہے۔ اس عمل سے جسم میں بہت زیادہ گرمی پیدا ہوتی ہے، جبکہ گرمی میں آپ کے جسم کو اتنی گرمائی کی ضرورت نہیں ہوتی۔  آم کا شمار ان غذائوں میں ہوتا ہے جو جسم سے پانی کے اخراج کو بڑھاتی ہیں ۔ اس گروپ سے تعلق رکھنے والی غذائوں کو پیشاب آور غذائیں کہا جاتا ہے، لہٰذا اگر آپ جسم کو ٹھنڈا رکھنے کے لئے زیادہ پانی پیتے بھی ہیں۔ تب بھی ان غذائوں کا استعمال آپ کے جسم کے پانی کو کم کرتا ہے اور نقصان کا باعث بنتا ہے۔آپ  ان چیزوں کی جگہ تربوز اور انناس کی سلاد سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں ۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟