20 اگست 2019
تازہ ترین
ادرک گردے کے امراض کیلئے فائدہ مند

ادرک گردے کے امراض کیلئے فائدہ مند

 ادرک زمانہ قدیم سے استعمال کی جا رہی ہے۔ چین میں اسے علاج معالجے میں اہمیت حاصل رہی۔ روم اور یونان میں بھی ادرک اپنے خواص کی بنا پر استعمال ہوتی رہی۔ یورپ میں بھی خوشبو کی وجہ سے ادرک بہت پسند کی جاتی ہے۔ طبی خواص میں ادرک کا ایک خاص مقام ہے۔ ادرک غذا کی اصلاح کرتی ہے۔  ادرک کے استعمال سے بادی چیزیں جلد ہضم ہو جاتی ہیں۔ ادرک کا تھوڑا سا ٹکڑا پانی میں ڈال کر اس میں چائے یا قہوہ ملا کر پیئں تو جسم میں حرارت دوڑ جاتی ہے۔ عام چائے میں آدھا چمچ ادرک کا رس ملا کر پی سکتے ہیں۔ اس سے ہاضمے کی قوت تیز ہوتی ہے اور گیس کا مسئلہ حل ہوتا ہے۔ ادرک کی سلاد بھی اس مقصد کے لئے مفید ہے۔ متلی کی شکایت ہو تو ادرک کے ٹکڑے فرائی پین میں ہلکا سا سینک کر نمک لگا کر چوسیں، آرام آ جائے گا۔  جو لوگ بہت ٹھنڈا پانی پیتے ہیں، اس سے دانتوں کو نقصان پہنچنے سے تکلیف ہوتی ہے۔ ادرک چبانے سے لعاب زیادہ پیدا ہوتا ہے اور منہ کی غلیظ رطوبات خارج ہو جاتی ہیں۔ منہ کی بدبو دور ہوتی ہے۔ ٹھنڈے پانی سے جو نقصان ہوتا ہے وہ بھی درست ہو جاتا ہے۔ اسی طرح گلے کی صفائی ہو جاتی ہے، حلق کی خشکی، خراش اور ورم کو آرام آتا ہے۔ حلق میں اگر بلغم پھنسا ہو تو وہ بھی اس کے کھانے سے نکل جاتا ہے۔ نزلے کی سوزش ہو، ناک سے پانی بار بار بہہ رہا ہو، چھینکیں آئیں تو اس کے لئے بھی ادرک کی چائے یا شہد ملے گرم پانی میں ادرک کا رس مفید ہے۔ کھانسی میں ادرک کا استعمال کرنا چاہئے۔ بعض دفعہ تو یہ دمے تک کو فائدہ دیتی ہے۔ ادرک معدے کو طاقت دیتی ہے۔ نفخ اور بدہضمی دور کرتی ہے، ہاضم ہے۔ جگر کے لئے بھی ادرک مفید ہے۔ اس کے استعمال سے جگر کی پرانی کمزوری دور ہو جاتی ہے۔ مثانے اور گردے کے امراض میں جسم کو طاقت دیتی ہے۔ خواتین کے لئے ادرک کی چائے بہت مفید ہے۔ جو لوگ بہت زیادہ دماغی کام کرتے ہیں، ان کے لئے دو تولے ادرک کا پانی سات آٹھ تولے دودھ میں ملا کر ہلکی آنچ پر پکائیں۔ جب وہ آدھا رہ جائے تو سوتے وقت چینی یا مصری ملا کر پینے سے دماغ کی تھکن اور بوجھ کم ہو جاتا ہے۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟