15 ستمبر 2019
تازہ ترین
مسلمانوں کی سیاسی جدوجہد پر دہشتگردی کا لیبل درست نہیں، وزیر اعظم

مسلمانوں کی سیاسی جدوجہد پر دہشتگردی کا لیبل درست نہیں، وزیر اعظم

وزیراعظم عمران خان  نے کہا ہے کہ اسلام کا دہشتگردی سے کوئی تعلق نہیں جبکہ مسلم دنیا کے خلاف ظلم وبربریت کا سلسلہ بند کیا جائے۔  او آئی سی کے 14 ویں سربراہ اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے خطاب میں کہا کہ کوئی مذہب معصوم انسانوں کے قتل کی اجازت نہیں دیتا، دہشتگردی کواسلام سے الگ سمجھنا ہوگا، اسلام کا دہشتگردی سے کوئی تعلق نہیں، مسلم دنیا کے خلاف ظلم و بربریت کا سلسلہ بند کیا جائے، نیوزی لینڈ کے واقعے نے ثابت کردیا کہ دہشتگردی کا کوئی مذہب نہیں، مسلمانوں کی سیاسی جدوجہد پر دہشتگردی کا لیبل درست نہیں، مغربی دنیا مسلمانوں کے جذبات کا احساس کرے جبکہ دنیا کو اسلام فوبیا سے نکلنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کوئی مسلمان دہشتگردی کرے تو اسلامی دہشتگردی قرار دے دیا جاتا ہے، آزادی اظہار رائے کے نام پر مسلمانوں کے جذبات کو مجروح نہیں کیا جاسکتا، مسلم دنیا کی قیادت مغربی دنیا کو قائل کرے، مغرب کو بتایا جائے کہ پیغمبر اسلام کی توہین پر ہمیں کتنا دکھ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نائن الیون کے بعد کشمیریوں اور فلسطینیوں پر مظالم ڈھائے گئے، نائن الیون سے پہلے زیادہ ترخودکش حملے تامل ٹائیگرز کرتے تھے، تامل ٹائیگرز کے حملوں کا تعلق کسی نے مذہب سے نہیں جوڑا، اسرائیل نے دہشتگردی کو معصوم فلسطینیوں کے خلاف استعمال کیا، جولان کی پہاڑیاں فلسطین کا حصہ رہنی چاہئیں، بیت المقدس فلسطین کا دارالحکومت ہونا چاہئے، مسلمانوں کی سیاسی جدوجہد کو دہشتگردی سے جوڑنا درست نہیں۔ انہوں نے کہا کہا کہ کشمیری عوام آزادی کیلئے سیاسی جدوجہد کررہے ہیں، مسئلہ کشمیرکا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل نا گزیر ہے، کشمیریوں کوحق خودارادیت ملنا چاہئے، ہمیں معیاری تعلیم پر خصوصی توجہ دینا ہوگی، اسلامی دنیا کو سائنس وٹیکنالوجی پرتوجہ دینا ہوگی جبکہ اوآئی سی کے پلیٹ فارم سے سائنس وٹیکنالوجی کیلئے کام کرنا ہوگا۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟