25 جون 2019
عمران اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف ریاست کو استعمال کررہے ،بلاول

عمران اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف ریاست کو استعمال کررہے ،بلاول

 چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے نیب کو کالا قانون قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ اسے سیاسی انتقام اور پولیٹیکل انجینئرنگ کے لیے بنایا گیا ہے جب کہ عمران خان اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف ریاست کو استعمال کررہے ہیں۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ نیب میں پیشی کے موقع پر اسلام آباد میں کوئی ایمرجنسی یا دفعہ 144 نافذ نہیں تھی، ہم نے احتجاج کی کوئی کال نہیں دی تھی اور نیب قانون میں کہیں نہیں لکھا کہ آپ کے ساتھی آپ کے ساتھ پر امن طریقے سے نہیں جاسکتے۔ انہوں نے کہا کہ نیب میں پیشی پر حکومتی رویہ قابل مذمت تھا، حکومت اور عمران خان کی طرف سے پی پی کارکنان پر حملہ کیا گیا، واٹر کینن اور آنسو گیس استعمال کی گئی، یہ ہمارے کارکنان اور ہمارے لیے کوئی نئی چیز نہیں، ہم اس قسم کے ہتھکنڈوں سے نہیں ڈرتے اور نہ اصولوں اور نظریے پر پر کوئی سمجھوتا کریں گے، اعجاز شاہ اپنا پرانا آمرانہ طریقہ استعمال کررہے ہیں جو نظر آرہا ہے۔ چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ نام نہاد جمہوریت میں یہ نہیں ہونا چاہیے، جمہوریت میں ہر پاکستانی کا حق ہےکہ وہ جمہوری حق استعمال کرے۔ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ خان صاحب ایک ساش پر اتر آئے ہیں کہ وہ ملک کے ہر ادارے پر قبضہ کریں اور ون پارٹی رول نافذ کریں، ان سے چھوٹے سے بلاگر اور صحافی سے سیاستدان تک کی مثبت تنقید برداشت نہیں ہورہی، عوام کو محسوس ہورہاہے کہ خان نے تبدیلی کے نام پر دھوکا دیا ہے، عمران خان سے یہ حکومت چل نہیں پارہی، یہ نااہل نالائق ہیں اور ان میں ملک چلانے کی صلاحیت نہیں، معیشت برباد ہورہی ہے اور مزدوروں کا معاشی قتل ہورہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے اپنی نالائقی کو چھپانے کے لیے سازشیں شروع کردیں اور فورس استعمال کررہی ہے، بوڑھوں عورتوں اور بچوں کے خلاف جو تشدد آج کیا گیا اس کی ویڈیو منگوارہا ہوں، ہمارے پاس تمام قانونی راستے ہیں جنہیں استعمال کرنے کے لیے تیار ہیں۔ چیئرمین پی پی کا کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں نیب جو مشرف نے بتایا یہ کالا قانون ہے، جیسے ہر آمر کا قانون کالا ہوتا ہے یہ بھی ایک کالا قانون ہے، یہ ادارہ سیاسی انتقام اور پولیٹیکل انجینئرنگ کے لیے بنایا گیا ہے، ہمارے پورے کیس میں رول آف لائ اور قانونی طریقہ استعمال نہیں کیا جارہا لیکن ان تمام اعتراضات کے باوجود ہم ہر ادارہ کو ہمشیہ ترجیح دیتے ہیں، ہم چاہتے ہیں ادارےبنیں اور پاکستان قانون کے مطابق چلے، قانون اچھا ہے یا برا ہم اس کا سامنا کررہے ہیں، آج اس کیس میں پیش ہوا جب اس کمپنی کا شیئر ہولڈر بنا تو اس وقت میں اسکول کا بچہ تھا۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟