25 جون 2019
تازہ ترین
 60روز آرام کریں اور 18500ڈالر پائیں

 60روز آرام کریں اور 18500ڈالر پائیں

امریکی خلائی تحقیقی ادارے کی جانب سے چاند، ستاروں اور کہکشائوں کی خبریں آنا معمول کی بات ہے لیکن اب ناسا کی جانب سے آنے والی ایک پیشکش نے سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی ہے، خصوصاً ان لوگوں کی جو بستر پر لیٹے لیٹے ہی چاند تارے توڑ کر لانے کے خواب دیکھتے رہتے ہیں۔ یہ پیشکش ہے 60 دن بستر پر لیٹ کر گزارنے کی جس کے عوض ناسا آپ کو 18500 ڈالر دے گا۔  سائنسدانوں کے لئے مریخ پر انسانوں کے بس جانے سے قبل  یہ جاننا ضروری ہے کہ انسانی جسم پر وہاں رہنے کے کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ خلا کا سفر نہ صرف مشکل بلکہ پر خطر بھی ہے اس لئے ناسا اور یورپین سپیس ایجنسی (ای سا) نے مشترکہ طور پر ایک بیڈ ریسٹ سٹڈی کے انعقاد کا اعلان کیا ہے۔ اس تحقیق کے لئے سپیس ایجنسیز نے 2 درجن رضاکاروں کی تلاش شروع کی ، جو 60 دن بستر پر لیٹ سکیں۔ دوسروں کے لئے یہ آرام جبکہ سائنسدانوں کے لئے یہ کام ہوگا جس سے وہ یہ سمجھنے کی کوشش کریں گے خلا کا سفر کیسے خلا نوردوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ رضاکاروں کو اس کے لئے جرمنی کے شہر کیلون کا سفر کرنا پڑے گا۔ رضاکارانہ طور پر اس تحقیق کا حصہ بننے والے امید واروں کے لئے ضرروی ہے کہ ان کی عمر 24 سے 55 کے درمیان ہو۔ وہ صحت مند ہوں اور جرمنی زبان بولنے کے اہل ہوں۔ اس تحقیق کا آغاز رواں سال ستمبر میں کیا جائے گا۔ تحقیق کا کل دورانیہ 89 دن ہے جس میں سے بستر پر جانے سے قبل امیدواروں کو ماحول سے عادی ہونے کے لئے 05 دن دیئے جائیں گے۔ 60 دن بستر پر گزارنے کے بعد 14 دن بحالی کے لئے ملیں گے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسا خلا نورد اپنا وقت گزارتے ہیں۔ بستر پر لیٹے رہنے کے 60 دن کے دوران شرکا کو کھانے سے لے کر حوائج ضررویہ تک تمام کام بستر پر لیٹے لیٹے ہی کرنے ہوں گے۔ وہ ٹی وی دیکھنے کے ساتھ مطالعہ بھی کر سکیں گے۔ سائنسدانوں کی جانب سے شرکا کو آن لائن کورسز میں داخلہ لینے کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ یہ بستر ایک مصنوعی خلائی چیمبر کے طور پر کام کرے گا۔ یہ  تحقیق نہ صرف خلا نوردوں کے لئے مفید ثابت ہو گی بلکہ اس سے زمین پر رہنے والوں کی عام انسانی بیماریوں کو سمجھنے میں بھی مدد ملے گی۔ یہ تحقیق سائنسدانوں کی کڑی نگرانی میں کی جائے گی اور پوری تحقیق کے دوران طبی عملہ، فزیوتھراپی کا عملہ، سائنسدان اور ماہر غذائیت ہمہ وقت وہاں موجود رہیں گے۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟